Daily Mashriq


قصہ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم

قصہ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم

آج ہم اپنے کالم کا آغاز بھلے شاہ کے شہر قصور کی بے قصور و مظلوم ننھی کلی کی تقریر سے کرتے ہیں جو یو ٹیوب پر وائرل ہونے کے بعد جانے کتنے صاحبان قلب و نظر کو لہو کے آنسو رلانے کا باعث بنی ۔ شاید زینب کسی مباحثہ کی تیاری کر رہی تھی جب اس کی گل افشانیوں کو ریکارڈ کرکے آن لائن وائرل کیا گیا ۔ آئیے معصومہ کے وہ الفاظ من و عن یا حرف بحرف پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں جس میں آپ کو میرا کیا قصور میرا کیا قصور کرتی اس کی طوطے مینا سی آواز بھی سنائی دے گی ۔ اس نے اپنی معصوم دھڑکنوں کی زبانی جانے اس دنیا کے کس صدر گرامی قدر کو مخاطب کرکے یہ تقریر ریکارڈ کرائی تھی۔ آئیے سنتے ہیں اپنے دل کے کانوں سے اس کی آواز ۔ بسم اللہ الرحمان الرحیم۔ صاحب صدر جناب قدر اور میرے مکتب کے ساتھیو۔ السلام علیکم ۔ آج مجھے جس موضوع پر بولنے کا شرف حاصل ہورہا ہے وہ ہے بیٹی۔ دوستو یاد رکھنا بیٹی رب کی رحمت ہوتی ہے۔اور رحمت کا کوئی حساب نہیں ہوتا۔دنیاوی سی بات ہے کہ جب بیٹا پیدا ہوتا ہے تو دنیاوالے کہتے ہیں کہ باپ کی وراثت کا وارث پیدا ہوا ہے اور جب بیٹی پیدا ہوتی ہے تو لوگوں کے منہ پر بارہ بجنے لگتے ہیں ۔ آگے چل کر کیا ہوتا ہے بیٹاوراثت بانٹ لیتا ہے، بیٹا مال بانٹ لیتا ہے، جب دکھ درد کی بات آتی ہے تو بیٹی آجاتی ہے ۔ خدمت کی بات آتی ہے تو بیٹی آجاتی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ جب بیٹا پیدا ہوتا ہے تو میں اسے کہتا ہوں کہ جا اپنے باپ کا بازو بن جا ۔ جب بیٹی پیدا ہوتی ہے تو میں اسے کہتا ہوں کہ مجھے اپنے خدا ہونے کی قسم میں تیرے باپ کا خود بازو ہوں۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوتے تھے ۔ راز ونیاز کی باتیں ہوتی تھیںایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا اے پروردگار جب تو اپنے بندے سے خوش ہوتا ہے تو اسے کیا انعام فرماتا ہے ۔ دو جہانوں کے رب نے فرمایا اے موسیٰ جب میں اپنے بندے سے خوش ہوتا ہوں تو اسے ایک بیٹی عطا کرتا ہوں دوسری بار پھر پوچھااے پر ودگار جب تو اپنے بندے سے بہت ہی زیادہ خوش ہوتا ہے تو اسے کیا انعام فرماتا ہے دوجہانوں کے رب نے فرمایااے موسیٰ جب میں اپنے بندے پر بہت ہی زیادہ خوش ہوتا ہوں تو اسے دوسری بیٹی عطا کرتا ہوں تیسری بار پھر پوچھااے پروردگار جب تو اپنے بندے سے بہت ہی زیادہ خوش ہوتا ہے تو اسے کیا انعام فرماتا ہے دو جہانوں کے رب نے فرمایا اے موسیٰ جب میں اپنے بندے سے بہت ہی زیادہ خوش ہوتا ہوں اور میری خوشی کی انتہا نہیں رہتی تو میں اسے تیسری بیٹی عطا کرتا ہوں حدیث نبوی ﷺ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو دو یا تین بیٹیاں دیں قیامت کے روز ان کے اور میرے درمیان اتنا فاصلہ ہوگا جتنادو انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے۔ معصومہ زینب کی اس تقریرمیں اللہ اور بیٹی یا بیٹیوں کے باپ کے درمیان معاملہ کا علم ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ جب کسی سے خوش ہوتا ہے تو وہ اسے بیٹی جیسی رحمت کا انعام ودیعت کرتا ہے اور جیسے جیسے وہ اس پر انعامات وا کرامات کی بارش کرتا رہتا اسے یکے بعد دیگر بیٹیاں عطا کرتا رہتا ہے اور یوں اسے روز حشر کو اپنے بہت قریب ہونے کی بشارت یا نوید سناتا ہے۔ طوطے مینا کی طرح بولنے والی یہ ننھی زینب ، منی خطیب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہوکر جانے کن جگنوئوں کے تتلیوں کے دیس سدھار گئی لیکن بھلا ہو اس کی تقریر کو وائرل کرنے والے کا جس نے ہمیں اس کی ان منزلوں سے آشنا کیا جن کے بارے میں میڈیا والوں نے بہت کم باتیں کیں ۔ اگر معصومہ زینب کے ساتھ اس کی زندگی وفا کرتی تو وہ ایک مبلغہ بن کر قوم کے ذہن و شعور کے دھاروں کو تعلیمات دین اسلام کی ان منزلوں کی جانب موڑتی اور رواں دواں رکھنے کی کوشش میں مگن رہتی جو ابلیسان عہد کو کبھی بھی گوارا نہ ہوتی۔ زینب بیٹی تھی جس دین دار باپ کی وہ اللہ کے گھر کی زیارت کے لئے گیا ہوا تھا۔ وہ جب حجاز مقدس سے عمرے کی سعادت حاصل کرکے لوٹا تو قصور والوں نے اس کو مبارک باد دینے کی بجائے بیٹی کے بچھڑ جانے کا غم دیا۔ اور پھر یوں ہوا کہ زینب کے سفاک قاتل کے گرفتاری کی خبر منظر عام پر آئی تو پنجاب حکومت نے پریس کانفرنس نما جشن منانے کی ٹھانی جس میں معصومہ زینب کے دکھی باپ کو ایک شو پیس بنا کر بٹھا دیاگیا ۔جانے کتنے طوفان چھپے تھے اس کے دل میں جو وہ اپنی زبان پر نہ لاسکا کہ جب وہ بولنے پہ آیا تو پنجاب کے خادم اعلیٰ نے اس سے مائیک چھین لیا ۔ اور جب وہ بول نہیں رہا تھا تو پنجاب کیقانون رانا ثنا ء اللہ اسے’ کیا بولنا ہے کیا نہیں بولنا ‘کا سر عام سودا کر رہے تھے ۔ یا اللہ کیسا انعام دیا تونے ایک بچی کے باپ کو ، جو چھین لیاان سفاک قاتلوں نے جن کو دعویٰ ہے ناخدائی کا۔ اللہ معصومہ زینب نے بچیوں کے باپ پر اترنے والے تیرے انعام واکرام کا چرچا اپنی منی سی آواز اور معصوم دل کی دھڑکنوں کی زبانی کیا تھا۔ یا اللہ تو اپنے نیک بندوں سے امتحان لیتا ہے نا؟۔نہ لے ایسا امتحان جو ہم سب کی برداشت سے باہر ہو۔ ہم پس چکے ہیں کرپشن، ناجائز منافع خوری ، ذخیرہ اندوزی، چور بازاری، رشوت ،سفارش، بے روزگاری جیسی بہت سی چکیوں کے پاٹ میں ۔اور اس پر طرہ یہ ہے کہ ہمارے سیاسی رہنما ہماری بے گورو کفن لاشوں پر اپنی سیاست کی دکانیں چمکاتے نہیں تھک رہے ۔

ہوئے مرکے ہم جو رسوا، ہوئے کیوں نہ غرق دریا

نہ کبھی جنازہ اٹھتا، نہ کہیں مزار ہوتا

متعلقہ خبریں