Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت یحییٰ علیہ السلام نے جب رب تعالیٰ کے دین کی آواز بلند کی اور لوگوں کو یہ بتانے لگے کہ:

’’مجھ سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک اور پیغمبر آنے والا ہے جو رتبے میں مجھ سے بڑھ چڑھ کر ہوگا۔‘‘

تو یہ بات یہود کے لئے بڑی گراں بار گزری اور وہ آپؑ کی مخالفت پر اتر آئے اور ایک دن آپؑ کے پاس آکر لوگوں نے کہا کہ:

’’کیا تو مسیح ہے؟‘‘۔

آپؑ نے فرمایا کہ: ’’نہیں‘‘

تب انہوں نے کہا: ’’ تو وہی نہیں ہے جس کی آمد کی خبر ہمیں سنایا کرتا ہے۔‘‘

آپ نے جواب دیا کہ: ’’نہیں‘‘

انہوں نے کہا کہ: ’’ کیا تو ایلیا نبی ہے؟‘‘

آپؑ نے فرمایا کہ: ’’ نہیں‘‘

تب ان سب نے کہا کہ:’’پھر تو کون ہے جو اسی طرح منادی کرتا اور ہم کو دعوت دیتا ہے؟‘‘

آپؑ نے جواب دیا کہ: ’’ میں جنگل میں پکارنے والے کی ایک آواز ہوں جو حق کے لئے بلند کی گئی ہے۔‘‘

یہودی یہ سن کر بھڑک اٹھے اور آخر کار آپؑ کو شہید کردیاگیا۔

اس کے علاوہ ایک دوسرا واقعہ آپؑ کی شہادت کے بارے میں ابن عساکر نے ’’المستقصی فی فضائل الاقصیٰ‘‘ میں حضرت معاویہؓ کے غلام قاسم سے ایک طویل روایت نقل کی ہے جس میں آپؑ کی شہادت کا واقعہ اس طرح مذکور ہے کہ:

دمشق کے بادشاہ ہداد بن حدار نے اپنی بیوی کو تین طلاقیںدے دی تھیں مگر پھر وہ اسے اپنے حق میں رکھنا چاہتا تھا۔ تو اس نے حضرت یحییٰ ؑ سے اس بارے میں فتویٰ طلب کیا تو آپؑ نے فرمایا کہ:

’’اب تجھ پر یہ حرام ہے۔‘‘

مگر ملکہ کو یہ بات سخت ناگوار گزری اور وہ حضرت یحییٰ ؑکے قتل کے درپے ہوگئی اور بادشاہ کو مجبور کرکے قتل کی اجازت حاصل کرلی۔ جب آپؑ مسجد جبرون میں مشغول نماز تھے تو آپؑ پر حملہ کرکے شہید کردیاگیا اور چینی کے طشت میں آپؑ کا سر مبارک رکھ منگوایا۔ مفسرین کا بیان ہے کہ اس وقت بھی سر سے آواز آرہی تھی کہ ملکہ بادشاہ کے لئے حرام ہے تاوقتیکہ دوسرے سے شادی نہ کرے۔ کہتے ہیں کہ اسی حالت میں حق تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور ملکہ معہ سر مبارک زمین میں دھنس گئی۔

آپ کا یہ واقعہ30ء کو پیش آیا تھا کیونکہ اس وقت حضرت عیسیٰؑ کی عمر بتیس یا تینتیس سال کی تھی۔ صحیح بخاری میں حضرت مالک بن صعصہؓ کی معراج کی حدیث میں ہے کہ:

’’جب حضور اکرمؐ دوسرے آسمان پر پہنچے تو آپ کی ملاقات حضرت یحییٰ ؑ سے ہوئی جہاں عیسیٰؑ بھی آپؑ کے ساتھ تھے۔‘‘

قرآن پاک میں آپ کا ذکر آل عمران‘ مریم اور انبیاء کی سورتوں میں آیا ہے۔

متعلقہ خبریں