Daily Mashriq


 زندگی کو آسان بنائیں

زندگی کو آسان بنائیں

اختیارات کی مثال ایک خوش ذائقہ پھل کی طرح ہے جس کے استعمال سے طبیعت ہشاش بشاش رہتی ہے ،بہادری گھمنڈ ‘فخر اور غرور کا احساس پیدا ہوتا ہے۔جس سے انسان اپنے آپ کو باقی لوگوں سے منفرد سمجھتا ہے اور فریب خیالی کا شکار ہوتا ہے اور اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے لگتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی نہ تو اپنے اختیارات کے استعمال سے دستبردار ہوتا ہے نہ اختیارات کی تقسیم چاہتا ہے بلکہ تمام اختیارات اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے ۔لیکن عالمی سطح پر کچھ ایسی ہوا چلی ہے کہ عوام کو باختیار بنانے کی سوچ ابھری ہے جس میں اختیارات کو تقسیم کرتے کرتے نچلی سطح تک لاکر عوام کو بااختیار بنا نا ہے ۔ جو فیصلے عوام کیلئے حکمران کرتا تھاوہ اب عوام خود کرینگے۔عوامی نمائندے مل بیٹھ کر اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کرینگے۔اس کی ایک اعلیٰ مثال صوبہ خیبر پختونخوا کے محکمہ پولیس نے قائم کی ہے۔اس وژن کے ساتھ کہ ’’ اگر مومنوں میں کوئی دو فریق آپس میں لڑ پڑے تو ان میں صلح کرادو ‘‘۔جس کے تحت ڈسپیوٹ ریزولیشن کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ مصالحتی انصاف کے ذریعے تنازعات کا حل ڈھونڈا جائے۔پولیس قوانین میں خصوصی طور پر ترامیم کر کے مقامی مسائل کو مقامی مشران کے ذریعے حل کرنے کے لئے 2014 ء میں ڈسپیو ریزولیشن کونسل (DRC)کا قیام عمل میں لایا گیا۔تقریباً تمام تھانوں کی سطح پر 15سے 21ممبران پر مشتمل مختلف پینلز سائیلین کی شکایات درخواستوں پر بحث مباحثہ کرتے ہیں اور مسائل کے حل کے لئے افہام و تفہیم سے صلح وآشتی کا راستہ نکالتے ہیں۔مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، ریٹائرڈ سول فوجی افسران ریٹائرڈ اساتذہ کرام ،علما ئے کرام اس کونسل کے ممبران نامزد کئے جاتے ہیں۔وکلاء برادری ،سماجی تنظیمات ،تاجر برادری ،پولیس ،صحافی مشترکہ طور پر مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ کونسل باقاعدہ طور پر روزانہ کی بنیاد پر سائلین کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔پولیس نے باقاعدہ ترمیم کے ذریعہ اس کونسل کو بااختیار بنایا ہے کہ عوام کے مسائل کو سنے اور حل کرنے کی کوشش کرے۔ جب سے ڈسپیوٹ ریزولیشن کونسل بنی ہے اس کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آرہے ہیں۔تمام صوبے کے فیصلوں کی ایک لمبی تفصیل بیان کرنا ناممکن ہے لیکن اس وقت میں صرف اکوڑہ خٹک پولیس اسٹیشن کے ڈسپیوٹ ریزولیشن کونسل کے تحت فیصلوں کی تفصیل پیش کرسکتا ہوں۔2014 ء سے لیکر دسمبر 2017 ء تک مختلف نوعیت کے کل 860کیسزموصول ہوئے۔جنمیں 782کیسز کا فیصلہ کیا گیا ۔41کیسز کو واپس تھانے منتقل کیا گیا۔جبکہ اس وقت صرف 37کیسز پینڈنگ ہیں۔ان سب کیسز کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ جائیداد کے تنازعات کے کل 313کیسز، رقم کی لین دین کے 148کیسز، خاندانی مسائل کے 116کیسز، قتل مقاتلہ کے 8کیسز اور دیگر سول مسائل کے 275کیسز ڈی آر سی کے ضلعی مشران کے سامنے پیش ہوئے۔اس وقت تمام موصول شدہ درخواستوں میں تقریباً 90فی صد کے فیصلے ہو چکے ہیں۔جو یقینا ایک کامیابی ہے۔جس سے غریب عوام کو سستا اور فوری انصاف ملا ہے۔ڈی آر سی کے قیام سے مقامی طور پر جرگہ اور مصالحتی عدالت کے ذریعے مسائل حل کرنے میں اگر ایک طرف غریب عوام کو سستا اور فوری انصاف فراہم کیا گیا ہے تودوسری طرف پولیس کے قیمتی وقت کو بچا کر پولیس کو اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی اور دوسرے اہم مسائل پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد ملتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ عدالت سے باہر حل طلب مسائل کو مقامی طور پر باہمی افہام و تفہیم سے حل کرنے سے عدالت پر بلا ضرورت بوجھ بھی ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اور اس کا قیمتی وقت بھی بچا یا گیا اختیارات کی تقسیم کی ایک اور عمدہ مثال پولیس میں ہونے والی بھر تیاں ہے کہ اس پرکشش اختیار کو نیشنل ٹیسٹنگ سروس کے حوالے کیا اور ایک تیسری پارٹی سے بھرتیوں کا عمل مکمل کیا۔یہ بھی ایک روایتی پولیس کی کارکردگی میں ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔

فرائض منصبی کے دوران پولیس شہداء کی ایک طویل فہرست ہے ۔اعلیٰ سے اعلیٰ پولیس آفیسر سے لے کر کانسٹیبل تک پولیس افسران نے ہر سطح پر اپنی جانوں کی قربانی پیش کر کے تاریخ رقم کی ہے۔جن کی بہادری کو سنہرے حروف میں لکھا جا ئے گا۔انتہائی محدود وسائل کے باوجود جس جوانمردی سے پولیس نے ان حالات کا مقابلہ کیا ۔وہ قابل تحسین ہے ۔پولیس کے عملے کی تعداد انتہائی کم ہے۔جبکہ سیکورٹی خطرات سے بہتر طور پر نبرد آزما ہونے کے لئے تعداد میں اضافے کی اشد ضرورت ہے۔اس کے ساتھ ساتھ پولیس کو جدید اسلحے سے لیس کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔پولیس عملے کی رہائش کا کوئی خاطر خواہ بندوبست نہیں کیا گیا ہے۔تھانوں کی کئی عمارتیں نہایت ہی مخدوش حالت میں ہیں۔خاص طور پر 1926 ء میں قائم شدہ پولیس اسٹیشن اکوڑہ خٹک کی عمارت آثار قدیمہ کا ایک نمونہ ہے جس کی چھتیں ٹپک رہی ہیں۔جس سے اہم سرکاری ریکارڈ محفوظ رکھنے کی کوششوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔اس قدیم زمانے کی یادگار کو گرا کر نئے تھانے کی عمارت تعمیر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کی 2017 ء کی مردم شماری کے مطابق کل آبادی 3کروڑ 5لاکھ کے لگ بھگ ہے۔جس کا رقبہ 74520سکوائر کلومیٹر ہے۔صوبے میں ضلعوں کی کل تعداد 26ہے اور کل پولیس عملے کی تعداد 83ہزار ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اوسطاً 367افراد کیلئے ایک پولیس اہلکار دستیاب ہے۔پولیس چوکیوں کے علاوہ صوبے میں کل تھانوں کی تعداد 2017 ء میں 273تک پہنچ گئی ہے۔ تین کروڑ آبادی والے صوبے کے لحاظ سے یہ تعداد اب بھی کم ہے۔ گنجان آباد علاقے کیلئے موجودہ پولیس کی نفری کم ہے۔جرائم کی تعداد میں اضافے اورنئے قسم کے جرائم کی وجہ سے پولیس کی تعداد ،ٹریننگ اور وسائل میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔پولیس کے لئے سالانہ 28.53 بلین روپے مختص کئے گئے ہیںجو جدید اسلحے، ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولتوں کو بہتر بنانے کیلئے ناکافی ہیں۔ اسی طرح دیگر محکموں کی کارکردگی کا اگر جائزہ لیا جائے تو جس محکمے میں اختیارات مرتکز ہیںاُ سکے مقابلے میں جہاں اختیارات کی تقسیم ہوئی ہے تو بہتر نتائج برآمد ہوئے ہیں۔جیسے بجلی اور سوئی گیس کے بل جب نیشنل بینک میں صرف اُس کی ادائیگی کی اجازت تھی تو لوگ صبح سے شام تک قطاروں میں کھڑے ہو کر بجلی اور سوئی گیس کے بل کی ادائیگی کے انتظار میں سارا دن گزار لیتے تھے۔جب سے بینکوں کی طرف سے یہ کام نجی سنٹروں کو منتقل کیا گیا تو عوام کو نہایت ہی سہولت میسر آگئی۔اسی طرح ای او بی آئی کی طرف سے ملنے والی پنشن کو بینکوں میں براہ راست منتقل کرنے کا عمل شروع ہوا تو معمر پنشنروں نے سکھ کا سانس لیا۔دیگر ملازمین کی پنشن بھی اس وقت ریٹائر منٹ کے فوراً بعد ہی بینک میں چلی جاتی ہے اور ہر مہینے پہلے کی طرح کتاب کو بینک نہیں لے جانا پڑتا اور ریٹائرڈ حضرات قطارمیں کھڑے ہونے کی زحمت سے بچ گئے ہیں۔اسی طریقے سے اگر یہ عمل سارے محکموں کی جانب سے وضع کیا گیا تو بہت آسانیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔محکمہ پٹوار میں بھی اگر آٹو میٹک طریقے سے وراثت کے نظام کو متعارف کرایا جائے تو پٹواریوں کے دفتر کا صبح وشام چکر لگانا بھی ختم ہوسکتا ہے۔زندگی کے تمام شعبوں میں زندگی کو سہل کرنے کی ضرورت ہے جو جدید دور کا تقاضا ہے۔

متعلقہ خبریں