Daily Mashriq


ڈارک ویب سے نکلیں

ڈارک ویب سے نکلیں

سے تقریباً دو دہائی قبل 3 دسمبر1999 کوپرویز مشرف کے دور حکومت میں جب جاوید اقبال نامی شخص نے لاہور میں سو بچوں کو جنسی تشدد کے بعد مار دیا تھا تو اسکی گرفتاری پرمشرف نے ایک بات کہی تھی کہ محلے میں کریلے گوشت پک جائیں تو پورے محلے کو پتہ چل جاتا ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ سو بچوں کا قاتل ایک محلے میں رہ رہا ہو اور کسی کو خبر نہ ہو۔یہی حال موجودہ کیس میں بھی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ عمران علی نامی شخص ایک غریب محلے میں مستری بن کر اتنا قبیح کام کرے اور کسی کو شک بھی نہ گزرے۔ یہ بات بذات خود ایک بہت بڑا مذاق ہے اور ثابت کرتی ہے کہ یا تو محلے والے سب ملے ہوئے ہیں یا پھر پاکستانی ہی نہیں ہیں کیونکہ ہم پاکستانیوں کی تو عادت ہی یہ ہے ہمارا اپنے کام سے زیادہ دوسروں کے معاملات میں کام زیادہ ہوتا ہے۔ یہ تو تصویرکا محض ایک معاشرتی حصہ ہے۔پوری کہانی سمجھنے کے لئے کچھ بنیادی باتوں کا ذکر ضروری ہے۔

(1) انٹرنیٹ کے تین بڑے حصے ہیں

surface netجوہم سب استعمال کرتے ہیں۔ اسکا حجم محض چار فیصد ہے۔اس میں روزمرہ کے سارے کام انجام ہوتے ہیں جیسے فیس بک ، گوگل سرچنگ وغیرہ۔ ۲)ڈیپ ویب ۔ یہ وہ تمام سائٹس ہیں جو عام استعمال کے لئے نہیں ہیں۔ ان میں بینک ریکارڈز، اکیڈیمک معلومات وغیرہ موجود ہیں۔ ان تک رسائی اس وقت ممکن ہے جب ہم اس ادارے میں ملازمت کرتے ہوں یا انکے پاس ورڈ ز اور یوزر آئی ڈیز ہمارے پاس ہوں۔ ۳) ڈارک ویب۔یہ انٹر نیٹ کا سب گہرا حصہ ہے جہاں تک پہنچنا ناممکن ہے۔ یہ عجیب شیطانیت بھری دنیا ہے یہاں تمام غیر اخلاقی اور غیر قانونی کاروبار ہوتے ہیں۔ یہاں تک رسائی کے لئے کسی عام برائوزر کا استعمال ناممکن ہے۔ یہاں سب سے خطر ناک کھیل ہیومن آرگنز کی سمگلنگ کا ہے۔اور ان میں child pornography سب سے مقبول ترین کاروبار ہے۔ پاکستان میں اب تک اس نوعیت کے تین بڑے کیسز ہو چکے ہیں۔ جاوید اقبال مغل جس نے ایک ویڈیو گیم سنٹر بنایا ہوا تھا جن میں وہ بچوں کو پھانس کر انہیں پیسے دے کر جنسی تشدد کر کے انکی لاشوں کو تیزاب میں جلا دیتا تھا اور ویڈیو ز child pornographiyوالوں کو بیچ دیا کرتا تھا۔ اس نے اپنے جرم کا خود ہی اعتراف کیاتھا اور بعد میں وہ جیل مردہ پایا گیا تھا ۔ دوسرا واقعہ قصور میں چند اہم سیاسی شخصیات اور پولیس کی ایماء پر2006 سے2015 تک 300 بچوں کا جنسی تشدد کر کے انکی ویڈیوزفروخت کا ہے لیکن افسوس کہ مجرم تا حال آزاد ہیں اور اس کیس کا کچھ پتہ نہیں چلا۔ تیسرا واقعہ حال ہی میں قصور میں زینب کے اغوا، تشدد اور قتل کا ہے جسکے مرکزی ملزم کو نفسیاتی مریض اور مستری بتا کر گرفتار تو کر لیا ہے لیکن لگتا ہے کہ اب اسے بھی مارکر کیس بند کردیا جائے گا اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔

ہماری قوم دنیا کی ناسمجھ ترین قوم ہے جو نہ صرف بے وقوف ہے بلکہ حد درجہ بھلکڑ بھی۔ یہ ظلم کو ثواب سمجھ کر سہتی ہے اور اس کے ساتھ ایسا ہو بھی رہاہے ۔ آپ جب چاہیں انکے دماغ سے پرانے زخم کرچ کر نئے ثبت کر سکتے ہیں۔ جب بھی ایسا کوئی کیس سامنے آتا ہے تو مذہبی اور لبرلز کی تکرار سامنے آجاتی ہے اور معاشرہ دو انتہائوں میں بٹ جاتا ہے اور اس بے کار بحث میں اصل جرم اور واقعہ دب جاتا ہے اور پھر سوسائٹی کو Frustrated کہہ کر مجرم کو نفسیاتی مریض بتا کر مار دیا جاتا ہے۔ جبکہ اصل میںیہ ایک ملٹی ٹریلین کاروبار ہے اس کی تہہ تک پہنچنے کے لئے تفتیش کے دائرہ کو سائنسی بنیادوں پر وسیع کرنا ہوگا۔ اسے امیر ترین لوگ شوقیہ چلاتے ہیں اور غریب لوگ پیسے کی لالچ میں ڈارک ویب میں دھنستے چلے جاتے ہیں۔قصور کے حالیہ واقعہ کا یہ مجرم ایک کڑی بھی ہوسکتا ہے جس سے قصور کے باقی تین سو بچوں کے قاتل ڈھونڈے جا سکتے ہیں۔اب اس میں تفتیش بہت احتیاط سے کرنی ہوگی کہ کہیں یہ ثبوت نہ مٹ جائے۔ جناب چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ وہ مجرم کو پولیس کی پشت پناہی اور سیاسی اثر ورسوخ سے دور رکھیں اور مجرم کو تفتیش کے لئے خفیہ ایجنسیز اور عسکری اداروں کے حوالے کریں کیونکہ پولیس اب قابل بھروسہ نہیں رہی۔ والدین اور اہل محلہ بھی یہ نکتہ سمجھیںکہ بدقسمتی سے ہمارا خاندانی نظام جو مشرقی روایات کی پہچان تھا اب مغربی دلدل میں پھنس چکا ہے اس لئے اپنے بچوں کو اس نظام کی اچھائیوں کیساتھ ساتھ برائیوں کی نشان دہی بھی کروائیں، عمرہ ، حج ، عبادات سے زیادہ ضروری اپنے بچوں کی عزت کا تحفظ ہے۔

جناب امین انصاری اور ایسے تمام والدین پہلے اپنے بچوں کی بہتر حفاظت کریں اور جب سرخرواور مطمئن ہو جائیں تو رب کے دربار میں ماتھا ٹیکنے میں کوئی حرج نہیں۔ اور آخر میں ہم عوام کہ جو ہر سانحے پر دو دن کا سوگ منا کر اگلے دن کسی نئے واقعے کے انتظار میں رہتے ہیں ان سے گزارش ہے کہ ایسے واقعات کو نفسیاتی رنگ دے کر معاشرے کی حبس زدگی پر بحث کرنے کے بجائے معاملے کی حقیقت کو قبول کریں اور مجرم کی پھانسی سے زیادہ ضروری اسکی تفتیش کو سمجھیں کیونکہ جب تک پس پشت لوگوں کی معلومات نہیں ہونگی تب تک اس جرم کو روکنا ناممکن ہے۔ خداراہ اس شیطانی عمل میں جن لوگوں کا بھی نام آئے انکے خلاف کھل کر آواز اٹھائیں تاکہ ہم ہمارے بچے اور ہمارا معاشرہ اس ڈارک ویب کی شیطانیت سے نکل سکیں۔

متعلقہ خبریں