Daily Mashriq


شہر ناپرسان۔۔۔۔پشاور

شہر ناپرسان۔۔۔۔پشاور

زندگی ایک ایسی پہیلی ہے جسے ہرانسان بوجھنے کی کوشش کرتاہے ، کوئی اس خوش فہمی میں مبتلاہوتا ہے کی وہ اس پہیلی کو بوجھ چکا ہے اور کوئی اس غم میں مبتلا رہتا ہے کہ زندگی کی کوئی بھی کل اس کی سمجھ کے قریب سے بھی ہوکر نہیں گزر رہی ہر انسان کا اپنا بکھیڑا اور اپنا جھمیلا رہتا ہے لیکن ایک بات سب پر واضح ہے کہ چاہے کوئی کتنا ہی سمجھداری کا دعویدار کیوں نہ ہو ،چاہے اسے دنیاوی علوم میں کتنی ہی مہارت کیوں نہ حاصل ہو لیکن یہ قطعی ممکن نہیں کہ زندگی اس کی مرضی کے مطابق چلے، بہلول ہو یالقمان، شاہ ہو یا گدا سب کو زندگی کی مرضی کے مطابق چلنا پڑتا ہے ،وقت کا دھارا چلتا رہتا ہے او زندگی گزرتی رہتی ہے ، انسان کے ہاتھ کچھ آتا ہے تو صرف کچھ ، واقعات، حادثات، تجربات، صدمے،غم اور خوشیوںکی یادیںاب یہ انسان پر منحصرہے کہ وہ ان یادوںکے سہارے زندگی گزارتا ہے یازندگی کو یادگار بناتا ہے اورتاریخ کی یادگاروںکی قدر کرتا ہے یا نہیں۔اس دنیا میں ان لوگوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جو حادثات و واقعات سے تجربات حاصل کر کے زندگی گزارتے ہوئے حالات کے سدھار کیلئے مثبت انداز میں اپنا کردار پیش کرتے ہیں۔ تاریخ سب کو یاد رکھتی ہے فرق صرف اتنا ہے کسی کواچھائی کے ساتھ کیا جاتا ہے اورکسی کوبرائی کے ساتھ بعض کو تو لعن طعن کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے اچھا ، برا، بدصورت ،بد شکل جیسا بھی ہو تاریخ میںسب محفوظ ہے اور یہی اصل اہمیت کا حامل ہے ۔اس تحریر میں اچھے برے اور بد صورت کی تمہید ذہن میں اپنے بارے میں ایک سوال کے سراٹھانے پر باندھنی پڑی، ذہن میں اٹھنے والے اس سوال کی وجہ بھی تاریخ اور یادگار ہی ہے ،اس یادگار کا نام بھی یادگار ہے( چوک یاد گار)۔چوک یاد گار شہر پشاور کا وہ تاریخی ورثہ ہے جسے ہم اپنے بچپن میں بڑی عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے۔پشاور کی گلیوں میں بچپن گزارنے کے بعدتعلیم ، ترقی اوررزق کی تلاش میں ایک لمبا عرصہ کراچی میں گزارا اوربچپن سے سنے گئے جملے کومحسوس کیا کہ مسافری میں آدمی کو اپنے دیس کی مٹی بہت یاد آتی ہے جہاں اس نے بچپن کی حسین بہاریں دیکھی ہوں وہ گلیاں اور وہ کوچے انسان کبھی نہیں بھول سکتا۔ کراچی میں اپنے قیام کے دوران جامع کی کینٹین ہو یا آفس کا چیمبر، گھر میں گزرنے والی راتیں ہوں یا سی ویو اورہاکس بے بیچ پر بیتنے والی شامیں دل کے ایک کونے میں پشاور کی یاد ہمیشہ تازہ رہی خاص طور پر ہر وہ دن جب اخبار کے فرنٹ پیج یا ٹی وی کی بریکنگ نیوز میں پشاور میں رونما ہونے والے کسی حادثے کی خبردیکھتے یاپڑھتے تو دل خون کے آنسو روتا تھا اور سوچتا تھا کہ یہ پشاور میں کیا ہو رہا ہے میرے پیارے شہر کو یہ کس کی نظر لگ گئی ہے ۔ اٹھارہ سال بعد جب قسمت نے واپس پشاور آنے کا موقع دیا تو بلا کسی حیل و حجت واپسی کی راہ لی ، لیکن واپسی پر پشاور کا جو حال دیکھا تو ذہن سے اخبار کی وہ شہ سرخیاں بھول گئیں جنہیں پڑھ کر دل روتا تھا یہاں تو ایک عجیب ہی سماں دیکھنے کو ملا، شہر پشاور کسی خار ناپرساں کی شکل پیش کر رہا ہے ٹوٹی ہوئی سڑکیں ،بے ہنگم ٹریفک ، سیوریج کا بوسیدہ نظام ، بجلی کی ابتر حالت ، اسپتالوں میں مریضوں کی بے چارگی، سکولوں کی حالت زار، ہر طرف ناامیدی بانہیں پھیلائے کھڑی ہے ، اس حالت کو دیکھ کر جہاں دل افسردہ ہوا وہیں ذہن میں سوالات بھی اٹھے کہ اس ابتری کی اصل وجہ کیا ہے سب کچھ کیوں اس قدر بے ہنگم اور بے ترتیب ہو گیا ہے،بہت سوچنے کے باوجود ان سوالوں کا کبھی کوئی خاطرخواہ جواب نہ مل پایا، لیکن ایک دن کراچی سے آئے کچھ دوستوں کے ساتھ جب چوک یادگار سے گزرااوران کو میں نے چوک یاد گار کے بارے میں کچھ بتانے کا سوچا تو ذہن میں الجھے ہوئے سوالات خود بخود حل ہوتے گئے۔ اس دن میں نے چوک یادگار کو ایک نئی نظر سے۔ دیکھا تھا ایک سوالیہ نظر سے سوال یہ تھا کہ اپنے دوستوں سے چوک یادگار کا تعارف کیسے شروع کروں کیا کہوںیہ پشاور کا مشہور معروف چوک یادگار تو یہ بہت ہی شرمندہ کر دینے والا جملہ لگا کیونکہ چوک یادگار کی موجودہ حالت کو دیکھ کر کوئی بھی باشعور شخص یہ سوال کر سکتا ہے کہ اگر آپ کے ہاں یادگاروں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے تو جو چیزیں یاجگہیں یادگار نہیں تو ان کا آپ لوگ کیا حال کرتے ہوں گے ؟اس ایک سوال سے ذہن میں موجود پرانے سارے سوالوں کا جواب مل گیا۔جی ہاں ہم وہ لوگ ہیں جن کو اپنی تاریخی یادگاروں کی کوئی قدر نہیںچوک یادگار کسی تشہیری بورڈ کا کام ادا کر رہا ہے جہاں جس کی مرضی کوئی بھی اشتہار لگا دے شہر کی قدیم فصیل جگہ جگہ کچرا کنڈی کا کام دے رہی ہے یہاں تک کہ شہر کے بیچ سے گزرنے والہ قدیم نالہ (کٹھہ )کسی بدبو دار گندی نہر کا منظر پیش کر رہا ہے تو پھر آپ ہی بتائیے کہ جس شہر کے لوگ اپنے تاریخی ورثے کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھیں تو اس شہر کو تباہ کرنے کیلئے آنے والے ملک دشمنوں کو شہر پشاور کا سکون برباد کرنے میں کتنی تکلیف اٹھانی پڑی ہوگی۔ میرے خیال میں تویہ کوئی مشکل کام نہیں جو قوم اپنے تاریخی ورثے کو پامال ہونے سے نہ بچا سکے اسکو برباد ہونے سے کون بچا سکتا ہے۔جب پشاور کے رہنے والوں کی نظر میںاس شہرکی کوئی قدر ہی نہیں تو پھر کسی اورمیں دشمن کو تلاش کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اس شہر کی اس حالت کے ذمہ دار ہم خود ہی تو ہیں ، ہم ہی تو ہیں پشاور کے شہری اس شہر کے موجودہ مالکان سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی بے خبر۔ہم ہی ہیں شہر ناپرساں کے اصلی مجرم اس شہر کے باسی۔

متعلقہ خبریں