Daily Mashriq


پاگل پن

پاگل پن

میں نے ہمیشہ اس کی باتیں غور سے سنی ہیں اور آج بھی میں توجہ سے اس کی ساری باتیں سن رہا تھا ۔ وہ کہہ رہا تھا ۔ دیکھو ۔ انسان کی شخصیت کا اگر ہم جائزہ لیں تو ایک بات واضح ہوجاتی ہے اور وہ یہ کہ ہر انسان کے اندر ایک پاگل پن ہوتا ہے اور اس پاگل پن کے ساتھ ہی وہ زندگی گزاررہا ہوتا ہے ۔ یہ پاگل پن انسان کے اندر جستجو کی صلاحیت اور کوشش کرنے کی طاقت پیدا کرتا ہے ۔ کوشش انسان تب کرتا ہے جب اس کے اندر پاگل پن بدرجہ اتم موجود ہو ۔ یہ پاگل پن ہی ہوتا ہے جو انسان کو زندگی میں دوڑ دھوپ کے قابل بناتا ہے ۔ پاگل پن اگر ختم ہوجائے تو پھر انسان دھرتی پر بوجھ بن جاتا ہے ۔ یہ پاگل پن اگر مثبت ہو تو انسان تاریخ کے صفحوں میں محفوظ ہوجاتا ہے اور اگر منفی ہو تو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا جاتا ہے ۔ یہ پاگل پن آتا کہاں سے ہے؟ میں نے پوچھا ۔انسان کے اندر سے ۔ ہر انسان ایک ان دیکھی کیفیت میں قید رہتا ہے ۔ یہ قید اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ انسان چاہتے ہوئے بھی اس قید سے بھاگ کر جان نہیں چھڑا سکتا ۔ اس قید ہی کا اثر ہوتا ہے کہ انسانوں کے رویوں میں فرق ہوتا ہے جو اس قید کو اللہ کی رحمت سمجھتے ہیں اور اس قید میں خوش رہتے ہیں وہ زندگی کی دوڑ میں ہمیشہ آگے رہتے ہیں اور جو اس قید کو سرے سے سمجھتے ہی نہیں یا اس قید کو بوجھ سمجھتے ہیں وہ در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوتے ہیں اور ساری زندگی بس دوڑتے ہی رہتے ہیں۔ نہ ان کو سکون میسر آتا ہے اور نہ یہ زندگی سے لطف اٹھاتے ہیں ۔ یاد رکھنا کامیابی اور ناکامی کے بیچ صرف یہی پاگل پن ہی ہوتا ہے ۔ ہر انسان کے اندر یہ پاگل پن موجود ہوتا ہے بس سمجھنے اور نہ سمجھنے کا فرق ہوتا ہے ۔ یہ پاگل پن اس مسلسل قید ہی کی وجہ سے آتا ہے ۔ انسان کو اس قید میں رکھتا کون ہے ؟ کیا عجیب بات نہیں میں نے تو کسی انسان کو قید میں نہیں دیکھا ہر انسان اپنی مرضی کی زندگی جی رہا ہوتا ہے ۔ جس کا جو جی میں آتا ہے کر گزرتا ہے ۔ وہ زیر لب مسکرایا اور بات جاری رکھتے ہوئے کہنے لگا ۔ انسان کا یہ قید اندر کے چھپے انسان ہی کی وجہ سے ہوتی ہے جو ایک بچے کی مانند اپنی نشونما چاہتا ہے ۔ اس کی نشونما اگر مثبت طریقوں سے ہو تو یہ قید مثبت پاگل پن کو جنم دیتی ہے اور اگر منفی طریقوں سے ہو تو ایک منفی پاگل پن پیدا ہوتا ہے جو تمام تباہیوں اور بربادیوں کا سبب بنتا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہماری قوم کے اندر بھی ایک منفی پاگل پن پروان چڑھ رہا ہے جو ہمیں تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے ۔ یہ قید انسان کو تنگ بھی تو کرتی ہوگی ۔ میں نے پوچھا ۔ وہ کسی حد تک حیران ہوا اور بات جاری رکھی ۔ ہاں بالکل لیکن ہر انسان کی اپنی ایک حد ہوتی ہے ۔ جو سمجھ دار ہوتے ہیں وہ اس قید کو کسی حد کا مختاج نہیں بناتے اور جن کے اوپر یہ قید حاوی ہوجاتی ہے وہ زندگی بھر ڈپریشن کا شکا ر رہتے ہیں اور معاشرے پر بوجھ بھی بن جاتے ہیں۔انسان آسان اور کامیاب زندگی اس قید کی بدولت کیسے جی سکتا ہے ؟ میرا تجسس بڑھا ۔ وہ ایک ٹھنڈی آہ لیکر کہنے لگا ۔ جو انسان اس قید کے دوران ایک فن سیکھ جاتا ہے وہ کبھی بھی اس قید سے چھٹکارہ پانے کا نہیں سوچ سکتا ۔ میں نے پوچھا کون سا فن ؟۔ اس نے بات جاری رکھی ۔ خود میں ڈوب کر خود کو پانے کا فن ۔ انسان ساری زندگی ایک لٹے پٹے مسافر کی طرح سفر میں ہی رہتا ہے یہ سفر اصل میں خود کو ڈھوندنے کا سفر ہوتا ہے ۔ انسان صبح سے شام تک کتنا بھی چاہے لیکن خود سے زیادہ کسی اور پرمتوجہ نہیں رہ سکتا لیکن سمجھنے اور نہ سمجھنے کا فرق ہوتا ہے ۔کبھی کبھی ایسا ہوجاتا ہے کہ مجبوریاں ،ضرورتیں اور رسم رواج آڑے آجاتی ہیں تو یہ پاگل پن خود سے ہٹ کر دوسری چیزوں اور دوسرے لوگوں کی طرف چلا جاتا ہے پھر وہی ہوتا ہے جو آج کل ہورہا ہے لوگ اس قید سے چھٹکارا پانے کے درپے ہوجاتے ہیں اور ساری زندگی خود کو ڈھونڈ نہیں پاتے اور جو اس قید کو اللہ کی نعمت سمجھ کر زندگی کے سفر میں آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں وہی لوگ ہی مثبت پاگل پن کا شکار ہوتے ہیں اور اصل میں یہی لوگ ہی خود کو پانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔ یہ بات ضروری ہے کہ انسان سب سے پہلے اور سب سے زیادہ خود کو اہمیت دے ۔ خود کو اہم رکھنے والے لوگ ہی اس پاگل پن کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور جو پاگل پن میں خود سے ذیادہ اہمیت دوسروں کو دیتے ہیں وہی لوگ ناکام بھی ہوتے ہیں اور اصل پاگل بھی ۔ کیا کبھی آپ نے یہ سنا ہے کہ کامیاب لوگ معاشرے پر بوجھ بن گئے ہیں؟ اس نے پوچھا ۔ میں نے انکار میں سر ہلا دیا تو وہ کہنے لگے ۔ اس کی بنیادی وجہ بھی یہ ہے کہ وہ زندگی کا اصل راز سمجھ گئے ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے پاگل پن کو صرف خود تک محدود رکھتے ہیں اور اس پاگل پن میں دوسروں کو شامل نہیں کرتے ۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو خود ہی قابو میں رکھتے ہیں اور زندگی میں وہ سب کچھ کرجاتے ہیں جو دوسرے نہیں کرپاتے ۔ کامیاب اور ناکام لوگوں میں بنیادی فرق اسی قید اور پاگل پن ہی کا ہوتا ہے ۔ اگر ہم ناکام لوگوں کی طرز زندگی کا مشاہدہ کرلیں تو اندازہ ہوگا کہ وہ ہر وقت خود سے ناراض رہتے ہیں اور ہمیشہ اپنی ناکامی کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہراتے ہیں ۔ ان کے پاس ہر وقت گلے شکوے ہوتے ہیں اور اکثر تو یہ قسمت کو بھی دوش دیتے ہیں کہ ہماری قسمت ہی خراب ہے ۔ دوسری طرف اگر کامیاب لوگوں کی زندگی کا مشاہدہ کیا جائے تو وہ کبھی بھی قسمت کا رونا نہیں روتے بلکہ وہ’’خراب قسمت‘‘پر یقین تک نہیں رکھتے ۔ وہ جہد مسلسل پر یقین رکھتے ہیں اور ان کے رویئے انتہا کی حد تک مثبت ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہوتی ہے کہ وہ خوش و خرم زندگی گزار رہے ہوتے ہیں اور ہر چیز پر اللہ کا شکر بجا لاتے ہیں ۔ یہ نہ تو دوسروں کے کام میں ٹانگ اڑاتے ہیں اور نہ کسی سے گلے شکوے کرتے ہیں ۔ یہ لوگ خود میں اور اپنی زندگی میں مگن رہنے والے لوگ ہوتے ہیں ۔ ان کا ہر کام سلیقے سے ہوتا ہے اور ان کی زندگی کا ہر پل خوشیوں سے لبریز ہوتا ہے ۔ یہ خوشی اور یہ کامیابی ایک قید ہی کی وجہ سے ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان کے اندر ایک پاگل پن آتا ہے اور جس کا وہ بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ یہاں تک کہنے کے بعد وہ خاموش ہوا اور جب اس سناٹے نے طول پکڑی تو وہ اس سناٹے کو خود ہی توڑ کر کہنے لگا ’’یہ زندگی ایک کھیل ہے اور جو اس کھیل کو سمجھ جاتا ہے وہ اس کھیل کا تگڑا کھلاڑی بن جاتا ہے اور جو نہیں سمجھ پاتا وہ تھکا ماندہ اور سست کھلاڑی اسی لئے ہمیشہ تگڑا کھلاڑی بننے کی کوشش کرو ۔ پاگل پن کا شکار رہ کر مثبت رہوگے تو تب ہی تم ایک تگڑے کھلاڑی بنوگے اور جب تگڑا بنوگے تو یہ کھیل آسان رہے گا اور کبھی بھی ہار کا ڈر دل میں نہیں رہے گا‘‘یہ کہہ کر وہ اٹھا اور اپنی چادر جھاڑ کر جب رخصت ہونے لگا تو میرے سامنے کوئی اندھیرا نہ تھا۔ ہزار ایسے سوالات تھے جن کا مجھے جواب مل چکا تھا۔ اس قید اور پاگل پن کے فلسفے پر جب میں سوچنے لگا تو پورا معاشرہ ہی اس سے عاری نظر آیا اور مجھے خود بھی یہ اندازہ ہوا کہ ہمارا معاشرہ بحیثیت قوم منفی پاگل پن کا شکا ر ہوچکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ تمام کام ہم ببانگ دہل کر رہے ہیں جو اسلام نے بھی منع کئے ہیں اور ہمارے معاشرے نے بھی ۔ کسی کے پاس دکھوں کا کوئی مداوا نہیں ۔ ایک مسلسل بحران ہے جس میں ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر مبتلا ہوچکے ہیں ۔ اس قید کا اپنا ہی ایک مزہ ہے اور اس کی وجہ سے جو پاگل پن آتا ہے وہی پاگل پن ہی عروج و زوال کی کہانیاں لکھتا ہے ۔ ہم لاکھ بار انکار کی کوشش کریں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم منفی پاگل پن کا شکار ہوچکے ہیں اور اپنی زوال کی کہانی خود ہی لکھ رہے ہیں ۔

متعلقہ خبریں