Daily Mashriq


الیکشن ڈیوٹی، پولیس اور ٹرانسپورٹروں کو معاوضہ جلد دیا جائے

الیکشن ڈیوٹی، پولیس اور ٹرانسپورٹروں کو معاوضہ جلد دیا جائے

خیبر پختونخوا میں انتخابی ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کو معاوضے اور سفری اخراجات کی عدم ادائیگی کسی بڑے مذاق سے کم نہیں۔ واضح رہے کہ انتخابات کے سلسلے میں صوبے میں تقریباً 77ہزار پولیس اہلکاروں کو اضافی ڈیوٹیاں دی گئی تھیں تاہم مذکورہ پولیس اہلکاروں کو الیکشن کے دنوں کے معاوضے اور یہاں تک کہ کھانے پینے اور سفری اخراجات کی مد میں بھی کوئی رقم نہیں دی گئی۔ الیکشن ڈیوٹی کرنے پر بھی دوسرے سٹاف کے طرز پر معاوضہ کی ادائیگی ان کا بنیادی حق ہے۔ اہلکاروں کے مطابق ریٹائرڈ ملازمین کو بھی انتخابات کے سلسلے میں معاوضے اور ٹرانسپورٹ ورہائش کی سہولت دی گئی تھی لیکن پولیس فورس کو نظر انداز کیا گیا اس طرح افسران ڈیوٹیوں کے بعد پولنگ سٹیشنوں سے گاڑیوں پر چلے گئے اور پولیس اہلکار بھاری سامان اور اسلحہ سمیت کئی میل پیدل چل کر اپنے تھانوں اور پولیس لائنز میں پہنچے۔ اس سلسلے میں کسی قسم کا اضافی معاوضہ بھی نہیں دیا گیا لیکن ڈیوٹی دینے والے77ہزار سے زائد اہلکاروں کا مطالبہ فوری توجہ کا متقاضی معاملہ ہے۔ ایک جیسے فرائض سرانجام دینے والوں میں ایک ادارے کو بارہ ارب روپے کے فنڈز کی ادائیگی اور سویلین ادارے کے اہلکاروں کو یوں دھتکار دینا الیکشن کمیشن کی ایک اور دھاندلی ہے جس کی گنجائش نہیں۔ الیکشن کمیشن اور متعلقہ پولیس حکام کو اس سلسلے میں جلد سے جلد اقدامات کر کے پولیس اہلکاروں کو معاوضہ کی ادائیگی یقینی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ سرکاری ڈیوٹی اور بیگار میں فرق کیا جا سکے۔ جن جن پرائیویٹ گاڑیوں کو انتظامیہ نے قانون کی پروا کئے بغیر الیکشن ڈیوٹی کیلئے حاصل کیا تھا ان کو بھی فوری معاوضے کی ادائگی کی جائے اور حسب سابق ان کو احتجاج اور مطالبات پر مجبور نہ کیا جائے۔

انتخابی تشہیری مواد فوری اُتار دیئے جائیں

عام انتخابات کے مرحلے کی تکمیل کے بعد بھی شہر کی دیواروں، دروازوں اور کھمبوں کا بینرز، پوسٹرز اور پینافلیکس سے اٹا رہنا صرف آنکھوں کی چبھن اور ناگوار جذبات ہی کا باعث نہیں قانونی طور پر بھی اب شہر میں انتخابی مواد کو ہٹانے کی ضرورت ہے۔ قابل حیرت بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنیوالے امیدواروں کیخلاف کوئی کارروائی نہ کر سکی۔ پشاورکے ٹاؤن ون نے تاریخی مقامات پر انتخابی بینرز اور پوسٹرز لگانے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس ضمن میں ضلعی انتظامیہ کو مراسلہ بھی ارسال کیا گیا تاہم ضلعی انتظامیہ نے اس مراسلے پر زیادہ توجہ نہ دی۔ اسی طرح الیکشن کمیشن کی جانب سے پینافلیکس کے استعمال پر بھی پابندی عائدکر دی گئی تھی تاہم یہ پابندی صرف کاغذات تک ہی محدود رہی اور تمام امیدوار کھلے عام انتخابی مواد اور سائزکی خلاف ورزی کرتے رہے۔ ضلعی انتظامیہ نے ایک روز کئی امیدواروں کو اس ضمن میں طلب کیا تاہم کارروائی کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی گئی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انتخابی امیدواروں سے انتخابی مواد چسپاں اور آویزاں کرنے کا معاوضہ سرکاری ادارے بھی وصول کر سکتے تھے اور عوام کو بھی معاوضہ دلوانے کی ضرورت تھی جس پر توجہ دینے کی روایت ہی نہیں۔ بہرحال اب معاملہ معاوضے کی ادائیگی اور معاوضہ طلبی کا نہیں بلکہ انتخابی تشہیری مہم کی باقیات سے شہر کو صاف کرنے کا ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ جھنڈے لگانے اور بینرز لگانے کیلئے تو امیدواروں کے پاس وسائل کی کمی نہ تھی اور رضاکار کارکن بھی ہمہ وقت تیار تھے یہاں تک کہ اس مہم میں اس ضمن میں تنازعات پر فائرنگ، مارکٹائی اور قتل کی وارداتیں تک کی گئیں مگر اب ان بینروں اور جھنڈوں کو اتارنا وہ ضروری نہیں سمجھتے۔ ٹاؤنز اور پی ڈی اے کے حکام کو اس سلسلے میں صوبہ بھر میں اپنے اپنے حلقوں اور علاقوں میں بلا تاخیر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

عام نشستوں پر خواتین کی عدم کامیابی

خیبر پختونخوا کے روایتی معاشرے میں کسی خاتون امیدوار کی عدم کامیابی اچنبھے کی بات نہیں۔ حوصلہ افزاء امر یہ ضرور ہے کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر خواتین نے انتخابات میں حصہ لیا اور صوبے میں ایسے ایسے علاقوں میں خواتین نے ووٹ ڈالا جہاں پہلے اس کا تصور بھی نہ تھا۔ چترال میں مردوں کے مقابلے میں خواتین پولنگ سٹیشنز میں زیادہ ٹرن آؤٹ وہاں خواتین کے باشعور ہونے اور مردوں کی ہمسری بلکہ سبقت کا ثبوت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں نے خواتین کو عام نشستوں پر انتخابی ٹکٹ کے اجراء میں انصاف سے کام نہیں لیا اور کمزور حلقوں میں خانہ پری کیلئے ان کو ٹکٹ جاری کئے گئے۔ سیاسی جماعتوں میں خواتین کو اس سلسلے میں قیادت سے بات کرنی چاہئے اور آئندہ کیلئے اس کے تدارک کیلئے لائحہ عمل مرتب کرنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں