Daily Mashriq

ٹکراؤ نہیں مفاہمت سے تحفظات دور کئے جائیں

ٹکراؤ نہیں مفاہمت سے تحفظات دور کئے جائیں


کل جماعتی کانفرنس نے نتائج کو مکمل طور پر مسترد اور دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے حلف نہ اٹھانے کا اعلان تو کیا ہے لیکن صورتحال یہ ہے کہ ایک اہم سیاسی جماعت نے اے پی سی میں شرکت ہی نہیں کی جبکہ دوسری جماعت نے اس فیصلے پر عملدرآمد کا یقین نہیں دلایا اور غالب امکان یہی ہے کہ وہ انتخابی نتائج کو تسلیم نہ کرنے کے باوجود وہ راستہ نہیں اپنائے گی جو تصادم کا راستہ ہو اور ملک ایک نئے امتحان سے دوچار ہو۔ اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ شہباز شریف کی میزبانی میں کانفرنس ہوئی جس میں ایم ایم اے، اسفندیار ولی، حاصل بزنجو، محمود خان اچکزئی، فاروق ستار، آفتاب خان شیرپاؤ اور مصطفی کمال نے شرکت کی اور اتفاق کیساتھ 25جولائی کے انتخابات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم اس الیکشن اور مینڈیٹ کو عوام کا مینڈیٹ نہیں سمجھتے بلکہ عوام کے مینڈیٹ پر ایک ڈاکہ سمجھتے ہیں اور اس کے نتیجے میں جو اکثریت کا دعویٰ کر رہے ہیں ہم ان کی اکثریت کو بھی تسلیم نہیں کرتے اور نہ ہی اس الیکشن کے نتیجے پر ہم انہیں حق حکمرانی دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شفاف الیکشن کے انعقاد کے مطالبے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ ان جماعتوں کے جو لوگ منتخب ہوئے ہیں وہ حلف نہیں اٹھائیں تاہم شہباز شریف نے اس معاملے پر پارٹی سے مشاورت کی مہلت مانگی ہے تاکہ پارٹی سے مشاورت کرکے آگاہ کیا جائے۔ ایم ایم اے کے صدر نے کہا کہ ہم دوبارہ انتخابات کرانے کیلئے تحریک چلائیں گے، احتجاجی مظاہرے ہوں گے اور اس کی ترتیب کیلئے ایک کمیٹی بنائی جائے گی جس کیلئے شیڈول ترتیب دیا جائے گا جو کارکنوں کی رہنمائی کرے گی۔ اس بارے دوسری رائے نہیں کہ 2018ء کے انتخابات مکمل طور پر شفاف نہیں لیکن اس امر کا تعین بھی آسان نہیں کہ کتنے حلقے ایسے ہیں جس میں ہونے والی دھاندلی کو ثابت کیا جائے۔ مبصرین کی بھی ان انتخابات بارے حتمی رائے نہ تو موافقانہ ہے اور نہ مخالفانہ۔ ان انتخابات میں فارم پینتالیس کے حوالے سے سنجیدہ اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ فارم 45 ہی وہ قانونی اور قابل قبول دستاویز ہے جس پر انتخابی نتائج کا دار ومدار ہوتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس سنگین قانونی معاملے کا آئین اور قانون کے مطابق سنجیدگی سے جائزہ لیکر تحفظات دور کرنے کی سعی اور معترضین کی تشفی کی جا سکتی ہے۔ علاوہ ازیں دوبارہ گنتی ہر امیدوار کا بلاامتیاز حق ہے اس سے انکار کا کوئی اخلاقی اور قانونی جواز نہیں۔ اس ضمن میں درجنوں مثالیں موجود ہیں کہ عدالتوں نے باربار گنتی کے احکامات دئیے اور بعض پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کے بھی احکامات دئیے گئے۔ ایک قانونی اور آئینی طریقہ کار کی موجودگی میں نہ تو شکایت کنندگان کو دوسرا راستہ اختیار کرنا چاہئے اور نہ ہی الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ افسران کو قانون کے مطابق ملنے والی سہولت اور اعتراض دور کرنے سے انکار کی ضرورت ہے۔ اگر بار بار کی گنتی سے کسی امیدوار کی تشفی ہو سکتی ہے تو اس میں مضائقہ کیا ہے؟ مری کے حلقے میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی شکست کے بعد دوبارہ گنتی میں سامنے آنیوالی صورتحال میں جو مداخلت سامنے آئی ہے یہ چور کی داڑھی میں تنکا نہیں شہتیر کا مظہر ہے۔ اس حد تک کی مداخلت کسی کے بھی مفاد میں نہیں۔ جہاں تک آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیہ کا تعلق ہے اولاً سندھ اور پنجاب میں حکومت سازی یا طاقتور ترین اپوزیشن میں آنے والی بڑی جماعتوں کو خود کو ملنے والی اس قدر واضح مینڈیٹ کو ایک طرف رکھ کر حلف برداری سے انکار اور اسمبلی میں نہ جانا ازخود مینڈیٹ کی توہین اور ووٹ کو عزت نہ دینے کے مترادف ہوگا جس کے وہ متحمل نہیں ہوسکتے۔ اس ضمن میں جوانسال چیئرمین پی پی پی کا مشورہ صائب ہے کہ مضبوط اپوزیشن اور اسمبلی میں حکومت کو ٹف ٹائم دیا جائے۔ ہر وقت اقتدار میں آنا ہی سیاست نہیں حزب اختلاف کا حقیقی کردار بھی سیاست اور سیاسی تقاضا ہے۔ اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ بعض نشستوں پر دھاندلی ہوئی ہے تو اسے ثابت کیسے کیا جائے۔ اگر اسے ثابت کیا جاسکتا ہے تو پھر سڑکوں کی بجائے عدالت سے کیوں نہ رجوع کیا جائے۔ آل پارٹیز کانفرنس کے روح رواں مولانا فضل الرحمن سے بڑھ کر اس امر سے کون واقف ہوگا کہ دین اسلام میں حکومت خواہ وہ جیسے بھی بن جائے اس کیخلاف اس قسم کی جدوجہد جس کے نتیجے میں انتشار پھیلے روا نہیں۔ ملک کی معاشی اور اقتصادی حالت کے تذکرے کی ضرورت ہی نہیں۔ قوم حال ہی میں دہشتگردی کی لہر سے نکلی ہے۔ علاوہ ازیں جس کردار وعمل پر سیاسی جماعتیں تحریک انصاف کو قصوروار ٹھہراتی رہی ہیں جس میں وہ حق بجانب بھی تھے آج اگر وہ وہی طرز سیاست اپناتے ہیں تو پھر قوم ان کے بارے میں کیا سوچے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اقتدار کی دہلیز پر کھڑی جماعتوں کی قیادت کا بھی فرض ہے کہ وہ ایسی پالیسیاں اور رویہ اپنائیں کہ ملک میں اچھی حکمرانی اور اقتدار کی سلیقے کیساتھ منتقلی ممکن ہو فی الوقت اس کے علاوہ کوئی اور صورت نظر نہیں آتی کہ عوام کا جس شرح اور جس قدر مینڈیٹ جس جماعت کو حصول ہے اس کا احترام کیا جائے اور انتخابی نتائج پر جو اعتراضات ہیں ان کو احسن طریقے سے دور کیا جائے تاکہ ملک میں رسہ کشی' احتجاج اور مظاہروں میں گھرنے کی بجائے حکومتیں عوام کے مسائل ومشکلات کے حل اور اپنے اپنے منشور پر عملدرآمد کیلئے یکسوئی کیساتھ سرگرم عمل ہوسکیں۔

اداریہ