Daily Mashriq

شکست کی جلن' دیانت کی پاسداری کا ووٹ

شکست کی جلن' دیانت کی پاسداری کا ووٹ

انتخابات کے حتمی نتائج آنے سے پہلے متعدد سیاسی جماعتوں کی ایک کانفرنس نے انتخابات کو دھاندلی اور بے قاعدگیوں کے الزامات لگا کر مسترد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اس سے بھی دو دن پہلے نتائج کو مسترد کرنے کا اعلان کر چکے تھے۔ ایم ایم اے کے مولانا فضل الرحمان نے بھی گزشتہ روز نہایت سخت لب و لہجے میں انتخابات کے نتائج پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔ اجلاس انہی دونوں رہنماؤں کی مشترکہ صدارت میں ہوا۔ اس کانفرنس میں پیپلز پارٹی موجود نہیں تھی حالانکہ اس کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی نتائج کو نہ صرف مسترد کیا بلکہ چیف الیکشن کمشنر سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ جمہوری فورم کو نہیں چھوڑیں گے یعنی انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کریں گے۔ انہوں نے سندھ میں پارٹی کی حکومت بنانے اور وفاق میں مؤثر اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اخبارات میں بالعموم اس اجلاس کا ماحصل یہ بیان کیا گیا ہے۔ انتخابات کا بائیکاٹ کرنے یعنی اسمبلیوں کے اجلاسوںمیں نہ جانے کی مولانا فضل الرحمان کی تجویز پر مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے مولانا کے مطابق ایک دن کی مہلت مانگی ہے۔اپوزیشن پارٹیوں کی کانفرنس میں سب سے زیادہ تیز لائن مولانا فضل الرحمان نے اسمبلیوں کے بائیکاٹ کی دی ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ ہم انہیں یعنی منتخب نمائندوں کو اسمبلیوں میں جانے ہی نہیں دیں گے۔ لیکن مولانا کے پاس صرف گیارہ منتخب ارکان کی حمایت ہے۔ جب کہ پیپلز پارٹی کے سندھ میں اتنے ارکان ہیں کہ وہ خود حکومت بنا سکتی ہے۔ قومی اسمبلی میں 43ارکان پیپلز پارٹی کے ہیں اور میاں شہباز شریف کی ن لیگ قومی اسمبلی میں 64ارکان کے ساتھ دوسری بڑی جماعت ہے۔ اور جیسا کہ سطور بالا میںکہا جا چکا ہے کہ ن لیگ اب تک کے نتائج کے مطابق پنجاب میں سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے ۔ اس سیاسی منظرنامے میں مولانا فضل الرحمان کی یہ توقع کہ کانفرنس میں شریک سب پارٹیاں انتخابات کے بائیکاٹ کے لیے ان کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئیں گی اور ازسرِنو انتخابات کی مہم چلائیں گی، دیوانے کا خواب یا شکست کی جلن ہی شمار کی جاسکتی ہے۔ ن لیگ کے دو سو کے قریب منتخب نمائندے کیوں اسمبلیاں چھوڑ کر مولانا کے جھنڈے تلے سڑکوں پر تحریک چلانے نکلیں گے جب کہ پیپلز پارٹی نے بائیکاٹ کے نقطۂ نظر کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ رہا دھاندلی کا الزام تو سارا پاکستان ' اس کا میڈیا ' یورپی یونین اور دولت مشترکہ کے مبصرین متفق ہیں کہ 25جولائی کو کوئی دھاندلی نہیں ہوئی ۔ مولانا کہہ رہے ہیں کہ پریذائڈنگ افسروںکو پولنگ سٹیشنوں میں جانے نہیں دیا گیا لیکن پولنگ کے د ن ایسی کوئی شکایات درج نہیںہوئیں۔ غیر ملکی مبصروں نے گواہی دی ہے کہ کہیں بھی سیکورٹی فورسز نے مداخلت نہیں کی۔ اس طرح سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کا یہ بیانیہ بری طرح پٹ گیا کہ ''اسٹیبلشمنٹ انتخابات کو انجینئر کر رہی ہے''۔پولنگ جس طرح پرامن ماحول میںہوئی اور اس کے جو نتائج سامنے آئے ان کے بعد ایسے تمام میڈیا مبصرین اور سیاسی لیڈروں کو شرمندگی کا اظہار کرنا چاہیے جو اسٹیبلشمنٹ یا فوج پر انتخابات کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کے الزامات لگا رہے تھے یا ایسا تاثر دے رہے تھے ۔ پاک سرزمین پارٹی کے بارے میں کہا جار ہا تھا کہ یہ جماعت فوج نے بنوائی ہے۔ اس کا دعویٰ تھا کہ کراچی اور اربن سندھ اس کا ہے ، وہ ایک نشست بھی حاصل نہیں کر سکی۔ جی ڈی اے جس کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ نئی آئی جے آئی ہے وہ سندھ میں کامیاب نہ ہو سکی۔ چوہدری نثار جن کے بارے میںکہا جاتا تھا کہ وہ فوج کی نمائندگی کرتے ہیں خود وہ کہتے تھے کہ ان کا تعلق فوجیوں کے خاندان سے ہے دو میں سے ایک بھی نشست پر کامیاب نہ ہو سکے۔ کہا جا رہا ہے کہ جیپ کے نشان والے الگ گروپ بنائیں گے ایسا کوئی گروپ سامنے نہیں آیا۔
پاک فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ فوج کا الیکشن کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور 25جولائی کو یہ حقیقت سامنے آ گئی۔ یورپی یونین کے الیکشن کا جائزہ لینے والے وفد نے البتہ یہ کہا کہ انتخابات سے پہلے کا ماحول سب سیاسی جماعتوں کے لیے یکساں نہ تھا۔ اس حوالے سے ایسے اشارے دیے ہیں کہ بعض سیاسی لیڈروںکو سزائیں سنائی گئیں اور کرپشن کے مقدمات درج کیے گئے۔ یہ وفد تو حال ہی میں پاکستان آیا تھا اگر اس کے ارکان کی نظر پہلے سے پاکستان کے حالات پر ہوتی تو انہیں یہ بھی معلوم ہوتا کہ مقدمات کے فیصلوں کو مؤخر کروا کے عین انتخابات کے نزدیک لانا تو مسلم لیگ ن کی قیادت کی اپنی حکمت عملی تھی۔ نواز شریف کے ریفرنس کا فیصلہ تو تین ماہ پہلے سپریم کورٹ کی دی ہوئی مدت کے اندر ہو جانا چاہیے تھا لیکن خود ملزمان نے اس میں تاخیر کی حکمت عملی اختیار کی۔ حکمت عملی صاف یہ نظر آتی کہ فیصلے انتخابات کے نزدیک ہوں مزاحمت کی دلیری اور ہمدردی کا ووٹ حاصل کیا جائے۔ لیکن یہ نہ ہو سکا۔ یہ دہری حکمت عملی ناکام ہو گئی۔ انتخابات کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان کے ووٹروں نے میٹرو بس' اورنج لائن ' مہنگی بجلی' کی پیداوار کی کارکردگی کوووٹ دینے کی بجائے دیانت کی پاسداری اور کرپشن کے خاتمہ کے موقف کو ووٹ دیا ہے۔ اس کی واضح ترین مثال خیبر پختونخوا کے نتائج ہیں جہاں نہ صرف ایک حکمران پارٹی کو تاریخ میں پہلی بار دوبارہ حکومت بنانے کے لیے ووٹ پڑا ہے بلکہ بھاری اکثریت سے ووٹ پڑا ہے۔ اس میں بڑی وجہ عمران خان کا وہ فیصلہ ہے جس کے تحت انہوں نے کرپشن میں ملوث ہونے کی بنیاد پر اپنی پارٹی کے بائیس ارکان کو پارٹی سے نکال دیا تھا۔ اس نے پی ٹی آئی کی دیانت کی پاسداری ثابت کر دی اور لوگوں نے عام انتخابات کے دن اس پر مہر لگا دی۔

اداریہ