Daily Mashriq

اے پی سی کے فیصلوںمیں پڑنے والی دراڑیں

اے پی سی کے فیصلوںمیں پڑنے والی دراڑیں

بلاول زرداری کے انکار اور شہباز شریف کے متذ بذب مؤقف کے بعد کیا اپوزیشن جماعتیں اکیلا چنا کیا بھاڑ جھونگے گا کی کیفیت سے دوچار نہیں؟ زبانی کلامی لاکھ اعتراضات، خدشات ظاہر کئے جائیں مگر احتجاج کو عملی صورت دینے میں یہ سیاسی جماعتیں کامیاب ہو سکیںگی؟ ظاہر ہے جواب نفی میں ہونے کی وجہ سے گزشتہ روز کے اے پی سی (؟؟) اجلاس کو وہی محاورةً نشستند وگفتند وبرخواستند کے علاوہ کوئی اور سرخی لگا کر نہیں بیچا جا سکتا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے اگرچہ انتخابات سے پہلے یہ ضرور کہا تھا کہ عمران خان کو ان کی مرضی کے بغیر وزارت عظمیٰ کے منصب پر نہیں بٹھایا جا سکے گا۔ یہ بھی درست ہے کہ پیپلز پارٹی نے پنجاب میں کسی حد تک کم بیک کیا ہے تاہم شاید آصف زرداری کے سندھ اور خصوصاً کراچی کے بارے میں اندازے درست ثابت نہیں ہوئے اور جہاں انہیں یقین تھا کہ کراچی میں پی پی پی ایم کیو ایم کو ڈینٹ لگا کر ایک نئی صورتحال کوجنم دینے میں کامیاب ہو جائے گی وہاں نہ صرف خود پیپلز پارٹی کے اصل گڑھ لیاری میں کوئی اور نہیں بلاول زرداری شکست سے دوچار ہوئے بلکہ کراچی میں تحریک انصاف ایم کیو ایم کے دونوں دھڑوں، حقیقی اور پاک سر زمین پارٹی کو بھی مات دینے میں کامیاب ہو گئی، اب اس نئی صورتحال ہی کی وجہ سے بلاول زرداری کو انتخابی نتائج مسترد کرنے اور چیف الیکشن کمشنر سے مستعفی ہونے کے مطالبے پر ہی اکتفاء کرتے ہوئے تمام جماعتوں کو پارلیمنٹ جا کر معاملہ وہیں اٹھانے کا بیان دینا پڑا ہے۔ گویا اب پیپلز پارٹی پھونک پھونک کر قدم رکھنے پر ایک بار پھر ''مجبور'' ہو چکی ہے کیونکہ اب آصف زرداری اورفریال تالپور کی پیشیاں بھگتنے کی باری جو لگ گئی ہے یعنی بقول شاعر
چراغوں کو غلط فہمی ہوئی ہے
ہوا ساکت نہیں سہمی ہوئی ہے
دوسری جانب شہباز شریف نے پارلیمنٹ کے ممکنہ بائیکاٹ کے حوالے سے جو متذبذب رویہ اختیار کیا ہے تو اس کے پیچھے آہنی سلاخوں کے پیچھے قید بڑے میاں نواز شریف کا یہ مؤقف بھی ہے کہ جو ہو چکا اب اسے جانے دیں اور پنجاب میں حکومت سنبھالیں، تاہم نواز شریف ایسا مشورہ نہ بھی دیتے تو بھی شہباز شریف یہی حکمت عملی اختیار کرتے کیونکہ پارلیمنٹ کے بائیکاٹ کے نتائج تو جانے کیا نکلیں اس سے پہلے ہی صورتحال ''تیری گٹھڑی کو لاگا چور'' والی بنتی دکھائی دے رہی ہے، تحریک انصاف کی جانب سے وفاق کے علاوہ پنجاب جیسے بڑے صوبے میں بھی اقتدار پر نظریں لگائی جا رہی ہیں ۔ اب (اگر لیگ ن) کے پاس عددی اکثریت کے باوجود تحریک انصاف پنجاب میں بھی حکومت سازی پر تلی بیٹھی ہے تو اس سے جمہوری اقدار کو دھچکا لگے گا، تاہم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کے عددی اکثریت کو کم کرانے کیلئے اس وقت کئی سمت سے جمہوری اصولوں کی پامالی کی سازشیں ہو رہی ہیں اور ان کے سابق مخالفین بھی سرگرم ہو چکے ہیں۔ اور بعض ایسی خبریں بھی گردش میں ہیں کہ لیگ (ن) کے اندر کوئی فارورڈ بلاک بنانے کی کوششیں بھی ہو رہی ہیں، اس صورتحال میں لیگ (ن) کیلئے متحدہ اپوزیشن (متحدہ؟؟؟) کا ساتھ دینے اور پارلیمنٹ کے بائیکاٹ کا سودا مہنگا پڑ سکتا ہے، دراصل یہ کم بخت اقتدار چیز ہی ایسی ہے کہ بقول شاعر، شراب چیز ہی ایسی ہے نہ چھوڑی جائے، اور اگر کرسی سامنے نظر آرہی ہو مگر یہ کہہ کر اسے دور کر دیا جائے کہ ابھی اسے ہاتھ نہیں لگانا تو معاف کیجئے گا، لاکھوں بلکہ اب تو کروڑوں خرچ کر کے انتخابی معرکہ جیتنے کے بعد اس قسم کی صورتحال ناقابل برداشت ہی ہو سکتی ہے اور یہی وہ خوف ہے جو لیگ (ن) کے رہنماؤں کو لاحق ہے کہ اگر وہ حکومت بنانے پر قادر ہوتے ہوئے بھی اقتدار کی غلام گردشوں سے دور رہنے کا مشورہ اپنے ساتھیوں کو دیں تو کم ازکم جہاں یہ صورتحال ہے وہاں کے اقتدار پسند اور اقتدار پرست عناصر میں ایسی کوئی اخلاقی صفت موجود نہیں کہ وہ ٹھنڈے پیٹوں یہ سب کچھ برداشت کرنے کو تیار ہو سکیں گے، اس لئے یہی وہ خوف ہے جو میاں خاندان کو لاحق ہے اور وہ کسی بھی ممکنہ فارورڈ بلاک کے قیام کا جواء کھیلنے کیلئے ہرگز تیار نہیں ہے۔
بیا جاناں تماشا کن کہ درانبوہ جانبازاں
بہ صد سامان رسوائی سر بازار می رقصم
صورتحال اگرچہ خاصی دلچسپ ہوتی جا رہی ہے مگر دو پارٹیوں کے آل پارٹیز کانفرنس کے علی الرغم پارلیمنٹ کے بائیکاٹ اور احتجاج کرنے کی راہ میں مفادات کی دیواریں حائل ہونے سے تحریک انصاف کیلئے فی الوقت کسی تشویشناک صورتحال کی نشاندہی نہیں ہو رہی ہے، رہ گیا خصوصاً پختون قیادت کا یہ مؤقف کہ حالیہ انتخابات میں صرف پختون سیاسی قیادت کو ہی باہر نکالنامقصود تھا تاکہ بقول اسفندیار ولی ''لاڈلے'' کیلئے پارلیمنٹ کا ماحول پرسکون رکھا جائے، تو اس موقع پر مرحوم عبدالولی خان کی یاد آرہی ہے جنہوں نے الیکشن ہارنے کے بعد سیاست سے کنارہ کشی کرتے ہوئے آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کا نہ صرف اعلان کیا بلکہ تادم مرگ اس فیصلے پر عمل پیرا بھی رہے، اس تمام صورتحال کا واحد علاج اور حل تمام سیاسی جماعتوں میں موروثیت کی بیخ کنی ہے اگر اتنی جرأت ہو ان ''سیاسی بادشاہوں'' میں۔ فاعتبرو یا اولی لابصار

اداریہ