دھاندلی کیا ہے؟

29 جولائی 2018

کیسی عجیب بات ہے ہارے ہوئے لوگ کہتے ہیں کہ وہ انتخابات کو تسلیم نہیں کرتے۔ وہ جو اسمبلیوں تک پہنچے نہیں وہ کہتے ہیں کہ کوئی حلف نہ اٹھائے اور یہ سب ایک جگہ اکٹھے ہوگئے۔ انہوں نے عوام کا فیصلہ نہ سنا' کوئی آواز ان تک نہ پہنچی۔ وہ لوگ جن سے عوام نے منہ موڑ لیا ان لوگوں نے شور مچا دیا کہ دھاندلی ہوگئی۔ کہاں ہوگئی دھاندلی؟ کیا ہوتی ہے دھاندلی' جب لوگ چوری کرنے والوں' دھوکہ دینے والوں کی اصلیت پہچان لیں تو دھاندلی ہوتی ہے؟ جب لوگ کہیں کہ اب ہم اور بے وقوف بننے کیلئے تیار نہیں' تب ہوتی ہے دھاندلی؟ جب لوگ کہیں اب ہمیں اپنے مستقبل کو مزید تباہ نہیں ہونے دینا، تب ہوتی ہے دھاندلی؟ یہ لٹیرے' یہ دھوکے باز' یہ سیاستدان یہ نہیں سمجھتے کہ یہ دھاندلی نہیں ہوتی' اسے لوگوں کا جاگ جانا کہتے ہیں۔ جب لوگ میاں نواز شریف اور مریم نواز کے جیل سے آتے پیغامات کو رد کر دیں جس میں وہ یہ کہیں کہ ہم جمہوریت بچانے کو گھروں سے جیل کی طرف آئے ہیں' لوگ ہنس پڑیں اور کہیں ہمیں معلوم ہے چوری کی سزا پا رہے ہیں' اسے نہ سمجھنا اور دھاندلی پکارنا اصل دھاندلی ہے۔ جب پنجاب کا وزیراعلیٰ اپنی الیکشن کمپیئن میں کہے کہ پٹوار خانے کا نظام بہت بدعنوان ہے میں اس کیخلاف بغاوت کا اعلان کرتا ہوں اور وہ گزشتہ تین حکومتوں سے' گزشتہ پندرہ سالوں سے وہاں وزیراعلیٰ ہوں' دھاندلی تب ہوتی ہے۔ تب دھاندلی ہوتی ہے جب صحت کارڈ کے نام پر کمپنیوں کو تشکیل دیا جائے اور حکومتی فنڈز کا رخ ان کی جانب موڑ دیا جائے یہاں تک کہ وفاق کے فنڈز بھی پنجاب میں لگائے جائیں۔ دھاندلی تب ہوتی ہے جب سی پیک کے نام پر ریلوے سٹیشن صرف پنجاب میں نئے بنائے جائیں۔ دھاندلی تب ہوتی ہے جب چین سے کوئلے سے بجلی بنانے والے کارخانے سستے داموں خریدے جاتے ہیں اور ایک عام آدمی کی صحت سے کھلواڑ کیا جاتا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ اس ملک اور قوم کیساتھ کب کب دھاندلی نہیں ہوئی۔ کس کس شکل میں دھاندلی ہوئی۔ کون نہیں جانتا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم کے تعین میں کیسا تکنیکی گھپلا ہے جس میں کمرشل بینک شامل ہیں جو ان چند سو روپوں کی ہر ایک بینک اکائونٹ میں موجودگی کو اپنے مفاد کیلئے استعمال کرتے ہیں۔

دھاندلی کس کو کہتے ہیں! کیا ہوتی ہے دھاندلی؟ میں سننا چاہتی ہوں' سمجھنا چاہتی ہوں' دھاندلی کیا یہ نہیں کہ اس ملک کے حکمران ہمارے ٹیکسوں کا پیسہ اس ملک کے ہسپتالوں پر لگانے کے بجائے ان سے غیر ملکی دورے کر لیں۔ دھاندلی کیا یہ نہیں کہ ہمارے خون پسینے کی کمائی سے اس ملک کے حکمران اپنی سرکاری رہائش گاہوں کو آراستہ کریں جبکہ سڑکیں بنانے کیلئے بھاری سود پر قرضے لئے جائیں۔ وہ قرضے جنہیں واپس کرتے کرتے ہماری دو نسلیں گزر جائیں۔ کیا یہ دھاندلی نہیں کہ اس ملک کا حکمران' اس ملک کے اصل مسائل جانتا ہی نہ ہو' کیا یہ دھاندلی نہیں کہ منشیات بیچنے والے اسمبلیوں میں موجود ہوں اور ان کی سرپرستی کی جائے۔ ان کی ایسی سرپرستی ہو کہ ان کیخلاف مقدموں کے فیصلے نہ ہو سکیں۔ میں سمجھنا چاہتی ہوں کیونکہ میری سمجھ میں یہ باتیں نہیں آتیں۔ میں اپنے بچوں کا اپنے ملک میں بہتر مستقبل چاہتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ میں خوشی سے اپنی بہن کو کہوں دیکھا پاکستان کتنی ترقی کر رہا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ مجھے صرف اسلئے خاموشی نہ اختیار کرنی پڑے کیونکہ خوشامد پسند وزیر کے ٹولے میں شامل اعلیٰ افسران کو میری باتیں پسند نہیں آتیں۔ مجھے سمجھ نہیں تاکہ ہم بے وجہ' بے سبب محض تاریخی حوالوں کے باعث اپنا ووٹ کسی کو کیونکر ڈال سکتے ہیں۔ کیا جمہوریت کے نام پر موروثیت دھاندلی نہیں۔ کیا الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے ایک عام آدمی کو جھوٹ دکھایا جانا دھاندلی نہیں۔

مجھے عمران خان اور تحریک انصاف سے کوئی امید نہیں بس خواہش ہے' خواہش ہے کہ وہ اس ملک سے وفاداری نبھائیں' اس ملک کے لوگوں کا خیال رکھیں۔ اس ملک کیلئے احسن اقدامات کریں۔ پاکستان کی عزت اقوام عالم میں بحال کروائیں۔ اس ملک کے لوگ صعوبتیں کاٹتے کاٹتے ذہنی مریض ہوگئے ہیں۔ اس ملک کے لوگوں کے دلوں کے آنگن میں امید کا دیا جلائیں۔اس ملک نے ایک عرصے سے کوئی بھی اچھی خبر نہیں سنی' کوئی اچھی خبر سنائیں۔ لوگوں کے چہرے پر کسی مسکراہٹ کی کوئی کرن بکھیریں۔ ہم لوگ اچھے لوگ ہیں' ہماری اچھائی کو بے وقوفی پر محمول نہ کریں۔ ہم پیار کرنے والی قوم ہیں۔ ہمارے پیار کو طوق بنا کر ہمارے گلے میں نہ ڈال دیں۔ یاد رکھیں اس بلوچی عورت کے درد کو جو اپنی معذور بچی کو اس خوف سے بیابان میں چھوڑ کر آگے بڑھ گئی تھی کہ اس کے جانور مر چکے تھے اور اسے اپنے باقی کنبے کے ہلاک ہوجانے کا ڈر تھا اور اگر وہ اس قوم کی تکلیف کو اپنی تکلیف نہ سمجھیں گے تو یہ ان کی جانب سے دھاندلی کا آغاز ہوگا۔ جب جب وہ اپنے کسی وزیر کے مفاد کیلئے اس قوم کے مفاد کا سودا کریں گے دھاندلی ہوگی۔ جب کسی منشیات فروش کو سزائے موت نہ ہوگی' اس ملک کے چوراہے میں نہ ہوگی تب دھاندلی ہوگی۔ جب کسی معصوم بچی کو درندگی کا نشانہ بنانے والے اسی محلے میں سنگسار نہ ہوں گے تب دھاندلی ہوگی۔ اس وقت پرانے آزمائے ہوئے' بدعنوانی کے عفریت کے کھائے ہوئے سیاستدان اکٹھے ہو کر جتنا بھی شور مچائیں اس ملک کو کوئی پرواہ نہیں۔ اس ملک کے عوام کا فیصلہ تبدیلی ہے بس اس تبدیلی کی روح نیک ہونی چاہئے۔ نیت صاف ہونی چاہئے اور ارادوں کی سمت درست ہونی چاہئے۔

مزیدخبریں