Daily Mashriq

کیا بڑے خوابوں کو تعبیر مل سکے گی؟

کیا بڑے خوابوں کو تعبیر مل سکے گی؟

الحمدللہ! وطن عزیز میں بہت سارے وسوسوں' اند یشوں اور خدشات وخطرات کے باوجود انتخابات بخیر وخوبی انجام کو پہنچے۔ انتخابی نتائج پر میڈیا' اخبارات اور سوشل میڈیا پر انواع واقسام کے تبصرے' تنقیدیں' اعترا ضات، تائید وستائش اور حوصلہ افزائی جاری ہے۔ یہ واقعی وطن عزیز کے تاریخی انتخابات ہیں۔ کئی چیزیں ایسی ہیں جو ان انتخابات کو اس سے پہلے منعقد کئے گئے سارے انتخابات سے منفرد بناتی ہیں۔ سب سے منفرد بات یہ ہے کہ حکیم اللہ محسود کے گاؤں مرغ بند میں جوش وجذبے اور خیر وعافیت کیساتھ ووٹ ڈالے گئے۔ واہ! الحمدللہ' یہ دن بھی وطن عزیز نے دیکھ لیا اور اس کا سہرا وہاں کے غیور عوام کیساتھ ساتھ پاک افواج کے سر بندھتا ہے۔دوسری منفرد بات یہ ہے کہ شاید دنیا کی تاریخ میں پہلی دفعہ ایک کرکٹر سیاست میں آکر وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہونے والا ہے جو اس کی انتھک جہد مسلسل اور عزم صمیم کا مظہر ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں شاید اتنے بڑے بڑے سیاسی برج پہلی دفعہ گرے ہیں اور خیبر پختونخوا میں کسی سیاسی جماعت کی ملک بھر کے سیاسی مخالفین کی شدید بمبارمنٹ کے باوجود دوسری دفعہ حکومت بننے جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی نادر اور منفرد واقعات وریکارڈ منظر عام پر آئے ہیں۔ مثلاً عمران خان اپنی پانچوں قومی اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے بھٹو صاحب کا ریکارڈ توڑ چکے اور چوہدری نثار 1985ء سے مسلسل قومی اسمبلی کی سیٹ جیتنے کے بعد پہلی دفعہ ہارے ہیں اور آخر میں یہ ریکارڈ کہ پاکستانی انتخابات کے بعد ہارنے والی جماعتوں کی طرف سے دھاندلی کے وہی روایتی الزامات تسلسل کیساتھ لگ رہے ہیں۔ عمران خان نے بہت بڑا خواب دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا موقع عطا فرمایا لیکن اس کیساتھ ہی بہت بڑا امتحان شروع ہونے والا ہے۔ ابتداء بہت اچھی ہے' ملک میں کسی کیساتھ سیاسی اور غیرسیاسی بنیادوں پر کسی قسم کی زیادتی اور انتقامی کارروائی نہ کرنے کے اعلان نے عوام کے اذہان میں تاریخی فتح مکہ کے موقع پر عام معافی کی یاد دلائی ہے۔ نیلسن منڈیلا نے بھی یہی کام کیا تھا۔ الحمدللہ! ہم تو مسلمان اور پاکستانی بھائی ہیں آپس میں۔ منڈیلا نے اپنے استعماری حکمرانوں اور عوام کو بھی عام معافی دینے کا اعلان کیا تھا۔ ایسے اقدامات سے ملک میں امن اور قوم میں ترقی کاجذبہ پیدا ہوتا ہے۔ انتخابات کے بعد اپنی پہلی تقریر میں تحریک انصاف کے چیئرمین اپنی جسمانی بولی( باڈی لینگویج) اور تقریر کے نکات سے بالکل بدلے ہوئے عمران خان لگ رہے تھے۔ حکومت اور عوام کے مسائل کے حل کرنے کے بوجھ تلے اور بھی بدلیں گے اور ہم سب پاکستانیوں کو امید ہے کہ عمران اپنے خواب کو حقیقت کی تعبیر دے کر پاکستان کو صحیح معنوں میں مثبت' تعمیری اور خوشحالی وترقی کیساتھ تبدیل کریں گے۔عمران خان نے اپنے سر اتنا بڑا بوجھ لیا ہے جس کے بارے میں حضرت عمر فاروق نے فرمایا تھا' کاش! میں ایک تنکا ہوتا تاکہ آخرت میں حساب کتاب سے محفوظ رہتا۔ اپنی انتخابی اور انتخابات کے بعد تقریر میں کپتان نے جو وعدے کئے ہیں وہ بہت بڑے ہیں۔ قومی' داخلی اور خارجی مسائل کے کوہ ہمالیہ سامنے کھڑے ہیں۔ سب سے اہم اور بقاء پاکستان کیلئے ناگزیر مسئلہ معیشت کا ہے' تجارتی اور گردشی خساروں کا ہے۔ امریکہ، روس، چین اور بھارت کیساتھ اعتدال وتوازن کیساتھ تعلقات اور خارجہ پالیسی کا نازک مسئلہ ہے۔ سعودی عرب' ایران اور مشرق وسطیٰ میں ثالث کا کردار بہت چیلنجنگ ہوگا۔ طیب اردوان کے شریفوں کیساتھ بڑے گہرے تعلقات ہیں لہٰذا ترکی کو اعتماد میں لینا بہت اہم ہے لیکن سب سے بڑھ کر پاکستان کے اندر تعلیم' صحت' امن وامان' روٹی' کپڑا مکان کے مسائل ہیں۔ پینے کے صاف پانی کی فراہمی' بجلی گیس کی عادلانہ تقسیم اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ۔ اس پر مستزاد ایک کروڑ روزگار کے مواقع' پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر اور مستحقین کو فراہمی، اداروں کی تعمیر واصلاح' دفاع پاکستان اور پاک افواج کیساتھ ایک صفحے پر رہنا' وزارتوں کی تقسیم' منتخب اراکین اسمبلی سے رائٹ مین فار رائٹ جاب کے مطابق کام لینا' کس کس مسئلے کا ذکر کیا جائے۔ فہرست مسائل اور خان کے وعدے بہت طویل ہیں لیکن ہمیں امید ہے کہ عزم فرہاد کے سامنے پہاڑوں کے درمیان جوئے شیر بہانا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن بالکل نہیں۔ کپتان کو کمر کس کر اور اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے ہر کام میں کلام مجید اور فرامین رسولۖ سے رہنمائی لیتے ہوئے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر کام کی ابتدا کرنا ہوگی۔ پختونخوا کا خصوصی خیال رکھنا ہوگا کہ پختون کپتان سے عشق میں مبتلا ہیں۔ کپتان کو یاد رکھنا ہوگا کہ سیاسی مخالفین کمین گاہوں میں بیٹھ کر آپ کی ایک ایک حرکت' ایک ایک گھنٹہ' دن' ہفتہ اور سو دن کو مانیٹر کریں گے۔ سو دن کے اندر اندر وطن عزیز عوام کی مشکلات میں کمی کی ابتداء کیساتھ ٹھنڈی ہواؤں کا اس انداز میں چلنا ضرور ہے کہ ہر کس وناکس کو محسوس ہو اور ہر آدمی پکار اُٹھے کہ
کچھ اس انداز سے چھیڑا ہے میں نے نغمہ گلشن
کہ فرط جوش سے جھوم اُٹھے شاخ آشیاں برسوں

اداریہ