Daily Mashriq


انجمن محبان جمہوریت سے چند سوال

انجمن محبان جمہوریت سے چند سوال

حلف نہ اٹھانے اور کسی کو پارلیمنٹ میں داخل نہ ہونے دینے کا اعلان کرنے والوں کی خدمت میں بہت ادب کیساتھ دو باتیں رکھتے ہیں۔ اولاً یہ کہ 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی کی شکایات تقریباً سبھی کرتے تھے لیکن جب عمران خان نے احتجاجی تحریک چلائی تو اسے جمہوریت کیخلاف فوج کی سازش قرار دیتے ہوئے پی ٹی آئی اور ق لیگ کے سوا ساری پارلیمانی جماعتیں ''جمہوریت'' کے تحفظ کیلئے لیگی حکومت کی پشت پر کھڑی تھیں۔ تب کہا جاتا تھا نظام کو چلنا چاہئے اس کے اندر رہ کر اصلاح احوال کی کوششیں کریں۔ ثانیاً وہ جماعتیں جو سندھ میں اسٹیبلشمنٹ کے ٹو ڈی بچے جی ڈی اے کی اتحادی' سہولت کار یا معاون رہیں پورے انتخابی عمل میں وہ کس منہ سے پیپلز پارٹی پر ڈیل کی پھبتی کس رہی ہیں؟ لاریب انتخابی عمل اور نتائج پر تحفظات ہیں۔ ایم ایم اے والوں کی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد 1977ء جیسی تحریک چلانے کا اعلان ہوا' کیا ان کی خدمت میں یہ عرض کیا جاسکتا ہے کہ امریکہ نے نئی حکومت کیساتھ کام کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ سعودی سفیر نے جمعہ کے روز بنی گالہ میں عمران خان سے ملاقات کی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ان دوستوں بزرگوں کے بقول تحریک انصاف کی سرپرست ہے تو بندہ پرور آپ کی تحریک کا سپانسر کون ہوگا۔ 1977ء کی بھٹو مخالف تحریک کے تینوں سپانسر تو تحریک انصاف کیساتھ ہیں۔معاملات کو ٹھنڈے دل سے دیکھنے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ الیکشن کمیشن اور انتخابی عملے کی نالائقی' مجرمانہ غفلت اور ہیرا پھیری تینوں پر اٹھتے سوالات بجا ہیں مگر سوالات اٹھانے کا اصل مقام کونسا ہے۔ سڑکیں یا متعلقہ فورمز؟۔ اچھا اگر ہمارے ممدوح مولانا فضل الرحمن کسی پراسرار خلائی مخلوق کی وجہ سے دو نشستوں سے ہارے ہیں تو اس نااہل خلائی مخلوق نے ان کے صاحبزادے کو ٹانک سے کیسے جیتنے دیا جبکہ یہ ذہن میں رکھیں کہ ٹانک میں مولانا کے صاحبزادے سے ہارنے والے سرائیکی قوم پرست امیدوار الزام لگا رہے ہیں کہ انہیں طالبان کے ہمدردوں' مقامی سہولت کاروں اور انتظامیہ نے مل کر ہروایا ہے۔ کیا مولانا سرائیکی قوم پرست امیدوار کے الزام کو درست مان کر اپنے صاحبزادے کو مستعفی ہونے کا کہیں گے؟ چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے کے اصول پر زندگی بسر کرنے والوں سے جرأت رندانہ کے مظاہرے کی توقع عبث ہے۔ بہت احترام کیساتھ عرض کروں ہمارے بہت سارے قوم پرستوں اور سرخوں کے نزدیک جمہوریت نواز شریف کے اقتدار کا نام ہے، نواز شریف اقتدار میں نہیں تو جمہوریت دربدر۔ 2013ء میں جمہوریت کا تحفظ پارلیمان کے اندر کھڑے ہو کر کرنیوالے اب تحفظ جمہوریت کیلئے تحریک چلانے پر مصر ہیں۔ نون لیگ نے مشورے کیلئے وقت مانگا ہے جبکہ پیپلز پارٹی جو اس اے پی سی میں شریک نہیں تھی کے سربراہ بلاول بھٹو کہہ چکے جمہوریت کی جنگ اور دھاندلی کیخلاف احتجاج پارلیمان کے اندر جاکر کریں گے۔ یہی وہ بیان ہے جس کے بعد اے این پی کے دوست زرداری کی ڈیل کا رونا رو رہے ہیں۔ کوئی بتلائے کہ کراچی میں قومی اسمبلی کی جیتی ہوئی تین نشستیں پیپلز پارٹی سے چھین کر تحریک انصاف کو کس نے دیں۔ چھ قومی نشستوں پر جیتنے والی پیپلز پارٹی کو اب تین قومی اسمبلی کی نشستیں ملی ہیں کراچی سے۔ایک سوال اور پوچھ لیتے ہیں' اسٹیبلشمنٹ نے ملک کے نظریاتی اسلامی چہرے کو مسخ کرنے کی حکمت عملی بنائی ہی تھی تو ایم ایم اے کے گیارہ لوگ قومی اسمبلی میں 10کے پی کے 9 بلوچستان اور ایک سندھ اسمبلی کا رکن کیسے بن گیا؟ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ 1970ء سے 2018ء تک گیارہ انتخابات کھلی آنکھوں سے دیکھنے والے صحافت کے اس طالب علم کی دیانتدارانہ رائے یہی ہے کہ آزادانہ انتخابات جاگتی آنکھ کا خواب ہیں۔ گیارہ میں سے ہر انتخابات میں طریقہ واردات مختلف رہا۔ کیا خود مولانا فضل الرحمن دل پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتے ہیں کہ 2013ء میں وہ اپنی مقبولیت سے جیتے تھے؟ انتخابی نظام میں خامیاں بلکہ یوں کہیں کج ہیں لیکن ان کا علاج کیا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ جب قانون سازی کیلئے منتخب ہونیوالے سڑکوں' گلیوں' نالیوں کی سیاست کریں گے تو اصل فرائض یعنی قانون سازی کون کرے گا؟ ایم ایم اے کے ایک لیڈر نے کہا پیپلز پارٹی جمہوریت پسندوں کیساتھ کھڑی ہو جمہوریت قربانی مانگتی ہے۔ دست بستہ عرض ہے حضور! پیپلز پارٹی نے جمہوریت کیلئے 730کارکن قربان کئے۔ بھٹو پھانسی چڑھے' بینظیر بھٹو بھری سڑک پر مار دی گئیں' شاہنواز اور مرتضیٰ قتل ہوئے۔ بیگم نصرت بھٹو قذافی سٹیڈیم لاہور میں سر پر پڑنے والی لاٹھیوں کے گھاؤ تادم مرگ زندہ رکھ کر جیتی رہیں۔ ایم آر ڈی کی تحریک میں اس کے ہزاروں کارکنوں نے ایک سے سات سال کی سزائیں اور پانچ سے دس کوڑے کھائے۔ 580 کارکنوں کو عمر قید کی سزائیں ہوئیں' آٹھ کارکن پھانسی چڑھے۔ بسم اللہ کیجئے نکالئے اپنے بھائیوں' بیٹوں اور بیٹیوں کو، میدان جمہوریت میں دیجئے قربانیاں، پتہ تو چلے کہ اسلام اور جمہوریت کتنے عزیز ہیں۔ حرف آخر یہ ہے کہ انتخابی دھاندلیوں کیخلاف متعلقہ فورمز پر قانونی لڑائی اور پارلیمان میں کردار دونوں ادا کرنے ہوں گے۔ کل اگر عمران خان کی احتجاجی تحریک نظام پر حملہ تھی تو آج آپ نظام پر گھوڑے دوڑانے کی سعی کیوں فرما رہے ہیں؟۔

متعلقہ خبریں