Daily Mashriq

وزیرستان وبلوچستان میں دہشتگری کے واقعات

وزیرستان وبلوچستان میں دہشتگری کے واقعات

جوانوں کی شہادت وہ قربانی ہے جو پاکستان خطے میں قیام ِ امن کے لیے دے رہا ہے‘یہ الفاظ ہیں ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل آصف غفور کے جو انہوں نے شمالی وزیرستان میںپاک افغان سرحد پرسرحد پار سے دہشت گردوں کی فائرنگ اور اس کے نتیجے میں جانی نقصان کے بعد کہے۔ یاد رہے اس واقعے میں پاک فوج کے کل 10 جوان شہید ہوئے جس میں 6جوان شمالی وزیرستان میں جب کہ4 بلوچستان میںشہید ہوئے، بلوچستان کے علاقے ہوشاب اور تربت کے درمیان کامبنگ آپریشن کے دوران ایف سی کے جوانوں پر دہشت گردوں نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں کیپٹن سمیت چار جوان شہید ہو گئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ دشمن اپنے مذموم مقاصدمیں کامیاب نہیںہوںگے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے دہشت گردوںکو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب جب کہ قبائلی علاقوں میں سکیورٹی صورتحال بہتر ہو چکی ہے تو تمام کوششیں سرحد کو محفوظ بنانے پر مرکوز ہوں گی، دشمن قوتیں بلوچستان کو غیرمستحکم بنانے کی کوشش کر رہی ہیں ‘ ان کی ہرجسارت ناکام ہو کر رہے گی۔ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے دہشت گردوں کی شمالی وزیرستان اور بلوچستان میں حالیہ کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ دشمن قوتوں کی دم توڑتی ہوئی کوششیں ہیں پاکستان استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے ‘ دنیا کے لیے وقت ہے کہ وہ علاقائی امن کے لیے سہولت فراہم کرے۔ وزیر اعظم عمران خان نے دہشت گردوں سے مقابلے میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہیدوں کو سلام پیش کیاہے۔ نائن الیون کے بعد پاکستان امریکہ کے کہنے پر اس کے نان نیٹو اتحادی کے طور پر افغان جنگ میں شریک ہوا لیکن دھیرے دھیرے افغان جنگ کے شعلے پاکستان کے قبائلی علاقہ جات تک پھیل گئے ‘ اس کی وجہ یہ تھی کہ پاکستان اور افغانستان کے ملحقہ علاقوں کے لوگ بود باش کے اعتبار سے ایک جیسے تھے اس لئے انہیں سرحد کے آرپار آنے جانے میں کسی دقت کا سامنا تھا نہ ہی پاکستان اور افغانستان کی سرحدات پر آنے جانے والوں کے لیے ویزہ کا حصول ضروری تھا۔ یوں امریکہ کے نان نیٹو اتحادی ہونے کی پاکستان کو بھاری قیمت چکانا پڑی‘ جب دہشت گردوں نے پاکستان کے قبائلی علاقہ جات کو اپنا مسکن بنایا تو پاکستان کی مسلح افواج نے اپنے وسائل کے بل بوتے پر ان علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف طویل جنگ لڑی ۔ اس جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کی فہرست بہت طویل ہے ۔ پاکستان آرمی نے قبائلی علاقوں میں مشکل ترین آپریشن کے بعد دہشت گردوں کا صفایا کیا، جب پاکستان آرمی نے دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے تباہ کر دیے تو دہشت گردوں نے قبائلی علاقوں سے ملحقہ افغانستان کے پہاڑی علاقوں کو اپنا مسکن بنا لیا اور وقتاً فوقتاً افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دراندازی کی کوششیں کی جاتی رہیں۔ قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کے بعد چونکہ پاک آرمی کے مسلح دستے ہر وقت چوکنا رہتے ہیں اس لیے شرپسندوں کا بس نہیں چلتا کہ وہ پہلے کی طرح آسانی سے اپنے ٹارگٹ تک رسائی کو یقینی بنا سکیں اس لیے دور ہی سے سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنا کر اپنے مذموم مقاصد میں تکمیل اور پاکستان میں افرا تفری پھیلانا چاہتے ہیں۔ پاکستان نے متعدد بار افغان حکومت کی توجہ اس امر کی جانب دلائی ہے اور شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کے حملوںکو روکے لیکن افغان حکومت اپنی سرزمین سے دہشت گردوںکے حملوں کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جس طرح پاکستان نے اپنے علاقوں سے دہشت گردوں کا صفایاکیا ہے ‘ افغانستان بھی اپنے حصے کا کام کرتا کیونکہ دہشتگردی صرف پاکستان کا ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ افغانستان میں بھی ایسی ہی دہشتگردانہ کارروائیاں ہوتی رہی ہیں، افغان حکام ان کا الزام پاکستان پر عائد کرتے رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے پاکستان نے متعدد بار افغانستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا ہے لیکن افغان حکومت کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہ آنے کی وجہ سے سرحد پار سے دہشت گردی کے سدِباب کا کوئی مشترکہ طریقہ کار وضع نہیں کیا جا سکا ہے۔ جس کا نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑرہا ہے کیونکہ دہشت گرد مشکل ترین پہاڑی علاقوں سے رات کے اندھیرے میں پاکستان کے علاقوں میںآتے ہیںاور دہشت گردی کی کارروائیوںکے فوری بعد افغانستان کے محفوظ ٹھکانوں میں واپس چلے جاتے ہیں‘ایسے دہشت گردوںکا پیچھا کرنا یا خاتمہ اسی صورت میں ممکن ہے جب پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک نکتے پر جمع ہوکر مشترکہ لائحہ عمل اپنائیں۔ اکستان نے افغانستان بارڈر کو محفوظ بنانے کے لیے باڑلگانا شروع کی تو افغانستان کی جانب سے اس پرشدید احتجاج کیا گیا حالانکہ محفوظ بارڈر صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ افغانستان کی بھی ضرورت ہے۔ شمالی وزیرستان اور بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ دونوں واقعات ایک ہی سلسلے کی کڑیاں معلوم ہوتے ہیں‘ دہشت گردوں نے ان حملوں میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ انہیں پاکستانی لیڈر شپ کا دورۂ امریکہ ہضم ہوا ہے اور نہ ہی وہ افغانستان میں امن کے حوالے سے پاکستان کے مثبت کردار کو برداشت کرنے کو تیار ہیں۔ وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورۂ امریکہ کے دوران ان کی پذیرائی خصوصاً خطہ میں امن اور افغانستان میں استحکام کے حوالے سے پاکستان کے مثبت کردار کا امریکہ کی جانب سے سراہاجانا پاکستان مخالف عناصر کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی تھا‘یہ امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ مذکورہ دورہ کی کامیابی کے اثرات سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان مخالف عناصر کوئی نہ کوئی کارروائی ضرور کریں گے۔افغانستان میں چونکہ اشرف غنی حکومت کی کوئی رٹ نہیں اس لیے امریکہ کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ جب تک سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی اور تخریب کاری پرقابو نہیں پایاجاتا تب تک پاکستان کے لیے افغانستان میں امن عمل کی کامیابی ممکن نہیں بن پائے گی۔جہاں تک بات ہے بلوچستان میں شرپسندی کی تو وہاں بھی بیرونی مداخلت اورافغان سرزمین کے استعمال ہونے کے ٹھوس شواہد ہماری سکیورٹی ایجنسیوں کے پاس موجود ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ سرحدی اوراندرونی سکیورٹی بڑھانے کے ساتھ ساتھ پاکستان دستیاب ٹھوس شواہد کی روشنی میں بین الاقوامی سطح پر بھی بھرپور طریقے سے اپنا مؤقف پیش کرے تاکہ دنیا کو معلوم ہو سکے کہ پرامن کون ہے اور پڑوسی ملک میں مداخلت کرکے اس کا امن کون غارت کر رہا ہے؟

متعلقہ خبریں