Daily Mashriq

مہنگائی کا جن اس طرح قابو میں نہیں آئے گا

مہنگائی کا جن اس طرح قابو میں نہیں آئے گا

وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کا سخت نوٹس لے لیا، تمام صوبائی چیف سیکرٹریز اور کمشنرز کو فوری اقدامات کی ہدایت ، مہنگائی ، ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں میں بلا جواز اضافے پر کارروائی کی حکمت عملی بنانے کا حکم دے دیا۔ وزیرِ اعظم آفس کی جانب سے جاری مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ مقامی اور مخصوص قوانین پر مکمل عملدرآمد کے ذریعے سروس ڈیلیوری کو یقینی بنانااور عوام الناس کو ریلیف فراہم کرنا فیلڈ انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے، متعلقہ اہلکاروں کے درمیان باہمی روابط کا فقدان، قوانین کا سطحی علم، غیر موثر عمل درآمد اور ذمہ داریوں سے احتراز کی روش نے جہاں متعلقہ قوانین کو غیر موثر بنا دیا ہے وہاں عام آدمی کی مشکلات میں اضافے کا سبب بھی بنی ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ قیمتوں کے کنٹرول سے متعلق قوانین پر موثر عمل درآمد کے لئے فوری طور پر لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔ پرائس اور مارکیٹ کمیٹیوں کو مزید موثر بنایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔وزیراعظم عمران خان کا ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کا سخت نوٹس اور اقدامات کا حکم کافی تاخیر سے ایک ایسے سنگین مسئلے کی طرف توجہ ہے جو نہ صرف عوام کیلئے وبال جان اور ناقابل برداشت معاملہ ہے بلکہ خود حکومت کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی بن چکا ہے جس پر حزب اختلاف کی حکومت مخالف تحریک چلانے والوں کا فائدہ اٹھانا عجب نہ ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صرف انتظامی اقدامات سے مہنگائی کا تدارک ممکن نہیں اس کیلئے ایسے معاشی اقدامات کی زیادہ ضرورت ہے جس سے مہنگائی میں کمی آئے اگر دیکھا جائے تو مہنگائی ایک بار ہو جاتی ہے تو قیمتوں کو اعتدال پر لانے کی کوئی حکومتی کو شش کم ہی کارگر ثابت ہو پاتی ہے۔ اب تک کے کسی بھی حکومتی اقدام کا جائزہ لیا جائے تو اس میں مارکیٹ کو متبادل اقدامات کے ذریعے کنٹرول کرنے کی کوئی سعی تو درکنار خود حکومتی اقدامات ہی مہنگائی درمہنگائی کا باعث بنتے آئے ہیں۔ڈالر کی قیمت کی اونچی سے اونچی اڑان اور اس پر قابو پانے میں حکومت کی شدید ناکامی بلکہ حکومت کی جانب سے ڈالر کے مارکیٹ ریٹ کو قابو میں رکھنے کی بجائے کھلی مارکیٹ میں اس کے ریٹ کا تعین ہونے دینا وہ ابتدائی اور بنیادی غلطی تھی کہ یہ جن اب اتنا طاقتور بلکہ طاقتور ترین ہوگیا ہے اور اس کی جسامت اب اتنی بڑھ چکی ہے کہ اب اس جن کو دوبارہ بوتل میں بند کرنا سرے سے ممکن نہیں رہا۔سٹیٹ بینک کو مداخلت نہ کرنے کی ہدایت یا پھر سٹیٹ بینک کی جانب سے عدم مداخلت کے باعث ڈالر کا ریٹ بے قابو ہوتا رہا، پانی سرسے اونچا ہو جانے کے بعد وزیراعظم کی گورنر سٹیٹ بنک کی اب جا کر دوبارہ طلبی حالات کے تناظر میں لاحاصل سعی نظر آتی ہے۔حکومت کی دوسری بڑی غلطی اوگرا کی ہر سمری کو نمائشی کمی اور ردوبدل کے ساتھ منظور کرنے کا رویہ ہے جس روز وزیراعظم نے مہنگائی کا نوٹس لیا ہے اس سے ایک ہی روز قبل گیس کی قیمتوں میں ایک سو نوے فیصد اضافہ بجلی کے فی یونٹ نرخ میںخاصا اضافہ ہوا اور روپے کی قدر میں مزید گراوٹ آئی ایک جانب جہاں خود حکومتی اقدامات ہی مہنگائی میں اضافے کے بنیادی اسباب ہوں وہاں دوسری جانب انتظامیہ کو سخت احکامات کتنا قابل عمل اور مئوثر ہوسکتے ہیں اس کا اندازہ لگانے کیلئے کسی زیادہ سوچ بچار کی ضرورت نہیں۔ حکومت کے پاس مہنگائی کا مارکیٹ میں مقابلہ کرنے اور شہریوں کو متبادل ریلیف کے طور پر یوٹیلٹی سٹورز کا جو لولا لنگڑا انتظام تھا اسے بھی اسی دور حکومت میں دھچکا لگایا گیا اب صورتحال یہ ہے کہ یوٹیلٹی سٹورز پر اشیائے ضروریہ دستیاب ہی نہیں وزیراعظم کے مہنگائی بارے نوٹس کے روز ہی یوٹیلٹی سٹوروں پر پچاس اشیاء کی قیمتوں میں بیس روپے اضافہ ہو تو کھلی مارکیٹ زخیرہ اندوزوں اور دکانداروں سے حکومت اور عوام کیسے یہ توقع رکھ سکتے ہیں کہ وہ اشیاء کی قیمتیں نہیں بڑھائیں گے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ مہنگائی اور نرخوں کو مقررہ حد کے اندر رکھنے کیلئے چھاپوں کا سلسلہ ضرور شروع کرے لیکن مارکیٹ کو بہتر معاشی و مالیاتی انداز میں کنٹرول کرنے کیلئے بھی کوئی میکانزم‘ کوئی حکمت عملی اورکوئی مناسب طریقہ کاوضع ہونا چاہیئے جس طرح حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے کوشاں ہے اسی طرح روپے کی قیمت میں روزانہ کی بنیادوں پر کمی اورڈالر ریٹ میں اضافہ پر بھی قابوپانے کی ذمہ داری نبھائے جب تالی دونوںہاتھوں سے بجے گی تب جا کر کہیں قیمتوں کو مزید بڑھنے سے روکنے کی راہ ہموار ہوگی وگرنہ معاشی اشارے اور حالات مہنگائی میں اوراضافہ کاباعث بنیں گے اور حکومت کیلئے اسے قابو کرنا نا ممکن ہو جائے گا ۔توقع کی جانی چاہئے کہ وزیراعظم کے احکامات پر عملدرآمد کی پوری پوری کوشش کی جائے گی نیز وزیراعظم آفس اس حکم نامے کے اجراء کے بعد اسے کافی سمجھنے کی بجائے اس پر عملدرآمد کی صورتحال سے بھی وزیراعظم کو باخبر رکھے گا تاکہ ضرورت پڑنے پر مزید احکامات اور اقدامات میں تاخیر نہ ہو۔

متعلقہ خبریں