Daily Mashriq

افغان صدر کا دورہ

افغان صدر کا دورہ

افغان صدر اشرف غنی کادورہ پاکستان سے احتراز کرتے کرتے بالآخر پاکستان کا دورہ بدلتے حالات کے تقاضے ہیںافغان صدر کے خیالات میں تبدیلی آگئی ہے یا پھر وہ پاکستان کے ساتھ مل کر حقیقی معنوں باہم مل بیٹھ کر مسائل کاحل اور حالات بہتر بنانے کے خواہاں ہیں۔افغان صدر اشرف غنی ایک ایسے وقت میں پاکستان کے دورے پر آ ئے ہیں جب طالبان کے ساتھ امریکہ کے مذاکرات جاری ہیں اور اسی سال ستمبر میں افغان صدارتی انتخابات بھی ہو رہے ہیں۔ اگرچہ صدر اشرف غنی کی حکومت کچھ مہینوں میں ختم ہورہی ہے، لیکن غالب امکان یہی ہے کہ وہ ستمبر کے انتخابات میں دوبارہ صدر منتخب ہو جائیں گے۔امکان ہے کہ افغان صدر کے دورے میں افغان مہاجرین، بارڈر مینجمنٹ، افغان امن عمل اور دونوں ملکوں کے ایک دوسرے پر اپنے اپنے ریاست دشمن عناصر کو پناہ دینے کے الزامات پر بھی بات چیت ہو گی۔ ان کے مطابق افغان صدر کی ایک اور کوشش یہ بھی ہو گی کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے جائیں۔اشرف غنی اپنی مدت اقتدار کے ابتدائی دنوں میں پاکستان کے حوالے سے مثبت خیالات رکھتے تھے مگر تھوڑے عرصے بعد تلخی اور الزامات کا دور شروع ہوا ویسے دونوں ممالک کے درمیان یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں کہ حالات سنورتے سنورتے کب بگاڑ کا رخ اختیار کریں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہم آہنگی اور اعتماد کی فضا افغانستان کے اندرونی مسائل کے حل اور طالبان سے مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے بہت ضروری ہے افغانستان کو جتنا جلد اس کا ادراک ہو جائے اتنا اچھا ہوگا اگرچہ طالبان کے ساتھ معاملات نہایت پیچیدہ اور افغانستان کااندرونی مسئلہ ہے لیکن اس سے قبل خطے میں اور خاص طور پر پڑوسی ممالک سے افغانستان کے تعلقات کی بہتری یا کم از کم معمول پر آنا ہی اس ساز گار فضا کے قیام کا باعث بن سکتا ہے کہ افغانستان اپنے اندرونی مسائل پر یکسوئی سے توجہ دے سکے۔ افغان صدر کا یہ دورہ پاکستان کے لیے بھی اتنی ہی اہمیت کا حامل ہے جتنا کسی ملک کا ہمسایہ ملک کے ساتھ اچھے تعلقات کے لیے ہوتا ہے۔افغانستان کو پاکستان کی طرف خیرسگالی کا ہاتھ بڑھایا گیا تاہم ان وجوہات کے خاتمہ کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے جس کے بغیر دونوں ملکوں کے درمیان پائیدار اور اعتماد کے تعلقات کا قیام مشکل ہے۔اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کو الزام تراشی سے مکمل گریز اور خاص طور پر اپنی سر زمین کو پاکستان کے خلاف کسی قسم کی دہشت گردی اور پراپیگنڈے کیلئے استعمال سے پاک رکھنا ہوگا اسی طرح کا رویہ پاکستان بھی اختیار کرے تبھی دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی امید بر آئے گی۔

تعلیمی ادارے فوری طور پر خالی کئے جائیں

ہمارے سپیشل رپورٹر کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ کے خاتمے اور حالات کے معمول پر آنے کے باوجودپشاور کے مضافاتی علاقوں میں بیشتر سرکاری تعلیمی ادارے ایف سی اور پولیس کے زیر تصرف ہیں ۔ تعلیمی اداروں میں سیکورٹی اہلکاروں کے رہائش پذیر ہونے کے باعث ان علاقوں کے بچے تعلیم حاصل کرنے کیلئے کئی کلو میٹر دور دیگر علاقوں کوجانے پر مجبور ہونا فطری ہے جو نہایت افسوسناک امر ہے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے حلقہ میں بیشتر سرکاری تعلیمی اداروں میں ایف سی اور پولیس نے چوکیاں قائم رکھی ہیں اور کئی سالوں سے ایف سی اور پولیس اس میں رہائش پذیر ہے جس کی وجہ سے ہزاروں بچے کئی کلومیٹر دور جانے پر مجبور ہیں وہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس مسئلہ کا حل نکالا جائے اور ان بچوں کا مستقبل تاریک ہونے سے بچایا جائے۔سیکورٹی کے ذمہ داروں نے حالات کے ستم اور اشد مجبوری میں تعلیمی اداروں میں رہ کر امن وامان کی بحالی کیلئے جو قربانیاں دی ہیں اس سے انکار ممکن نہیں لیکن ابتک تعلیمی اداروں کو تعلیمی سرگرمیوں کیلئے خالی نہ کرنا ناجائز قبضہ کے زمرے میں آتا ہے جس کی گنجائش نہیں ہونی چاہیئے تھی۔جتنا جلد ہوسکے پشاور کے مضافاتی علاقوں سمیت قبائلی اضلاع اور جہاں جہاں دیگر علاقوں میں تعلیمی ادارے ابھی تک سیکورٹی فورسز کے زیر استعمال ہیں اُن کو جلد سے جلد خالی کر کے تعلیم وتعلم کا سلسلہ شروع کیا جائے ۔

صرف تصحیح کافی نہیں تحقیقات کی ضرورت

خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومت کی جانب سے اسلامیات کی کتاب میں مال غنیمت کیلئے لوٹ مار کے الفاظ کی تصحیح کی یقین دہانی کافی نہیں درسی کتاب میں اس قسم کی غلطی سہواً ممکن نہیں اس کے پیچھے کوئی ایسا ذہن کارفرما نظر آتا ہے جسے اسلام اور دینی شعائر کی توہین مقصود تھا ممکن ہے ایسا نہ ہوہمارے تئیں اس کی تصحیح کافی نہیں تحقیقات کی بھی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں