Daily Mashriq

تماشا کرنے والوں کو خبردی جا چکی ہے

تماشا کرنے والوں کو خبردی جا چکی ہے

وہ جو شاعر نے کہا تھا کہ کیاکسی کو پھر کسی کاامتحاں مقصود ہے؟ تو ہمیں تو کچھ ویسی ہی کیفیت کا احساس ہو رہا ہے اور شاید اسی لئے وزیر اعظم کی مشیر برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے طنزیہ لہجے میں کہہ دیا ہے کہ یہ چار سال پہلے والی تنخواہ پر ہی نوکری کریں گے۔ محترمہ کی باتوں کاکیا برا منانا کہ ہر دور میں ہر حکومت نے ایسے افراد اسی لئے بھرتی کئے ہوتے ہیں کہ وہ کبھی سنجیدہ باتیں کریں تو کبھی مزاحیہ گفتگو کرکے منہ کا ذائقہ بدلنے کی کوشش کرکے عوام کے لئے تفریح کے مواقع پیدا کریں۔ دربار اکبری میں تو شہنشاہ اکبر کے نورتنوں میں اس کام کے لئے بیر بل اور ملاد وپیازہ ہواکرتے تھے جو اپنی بذلہ سنجیوں سے بادشاہ سلامت کو محظوظ کیا کرتے تھے مگر آج کے دور میں یہ کام اسی طرز کے کچھ کرداروں سے لیاجاتا ہے اور ’’ بادشاہ‘‘ سلامت اپنے بیر بلوں اور دوپیازوں کی گفتگو کی زد میں آنے والے مخالفین کی سبکی پر کبھی دل کھول کر اور کبھی زیر لب مسکرا کر خوش ہو لیتے ہیں۔ خیر یہ تو چند جملہ ہائے معترضہ بیچ میں آگئے تھے بات ہم اس امتحان کی کر رہے تھے جو شاید پھر مقصود کے دائرے میں آرہا ہے یعنی یہ جو ان دنوں اے پی سی کا بڑا چرچا رہا ہے اور جس کے انعقاد کے بعد معاملہ کچھ کچھ ’’ ٹائیں ٹائیں فش‘‘ بنتا دکھائی دے رہا ہے تو اس سارے ’’ میلے‘‘ کا مقصد کہیں کسی ایک کا یا پھر ماضی کی مانند ایک دوسرے کا کمبل چوری کرنے کا بہانہ تو نہیں تھا؟ در اصل سیاست کے نام پر ہمارے ہاں جس قسم کی ڈرامے بازی ایک عرصے سے جاری ہے اسے دیکھتے ہوئے تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ کمبل چوری کرنے کے لئے منعقد کیاجانے والا میلہ ہی ہوسکتا ہے۔ اب یہی دیکھ لو کہ ابھی میلہ منعقد ہوا بھی نہیں تھا کہ بی این پی مینگل کے سردار اختر مینگل نے اس میلے سے (فی الحال) کامیاب استفادہ کرتے ہوئے حکومت پر دبائو ڈالا اور گوہر مقصود حاصل کرنے میں (کم از کم) وعدوں کی حد تک کامیابی حاصل کی یعنی حکومت نے بھی گھبرا کر اپنے پہلے سے کئے ہوئے وعدوں پر عمل درآمد کی یقین دہانی کا اعادہ کیا۔ اب آگے کیاہوتا ہے کہ پشتو ضرب المثل کے مطابق جب موت سامنے نظر آرہی ہو تو بندہ بخار کو گلے لگانے کے لئے تیار ہوجاتا ہے کے مصداق اختر مینگل کو یقین دہانیاں اسی کلئے کے تحت کی تو گئیں مگر ان پر ’’ یو ٹرن‘‘ کب لیا جائے گا جس کے بعد شاید سردار اختر مینگل بھی یہ کہتا پھرے کہ کھلونے دے کر بہلایاگیا ہوں۔ کیونکہ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں‘ اور یہ اس طرح والے کام بھی ہماری سیاست کا تلازمہ ہے۔ تب شاید اے پی سی والے بھی انہیں کہہ دیں کہ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ تاہم اس مقام تک پہنچنے کے لئے بقول شاعر انتظار ساغر کھینچ کی کیفیت سے گزرنا پڑے گا‘ تب سردار اختر مینگل کو ڈاکٹر اظہار اللہ اظہار کے اس شعر کی حقانیت کا بھرپوراحساس ہوگا کہ

خواب رسوا ہوئے‘ سنگسار ہوئیں تعبیریں

روپ برہم ہوا‘ نادانیاں آباد رہیں

اگرچہ دعا ہے کہ سردار اختر مینگل کے ساتھ ایسا نہ ہو مگر کیا کیاجائے ہماری سیاست کی کوئی کل سیدھی نہیں اور ماضی کے تلخ تجربات بھی حافظے کو کرید کرید کر جھنجھوڑ رہے ہیں۔ بات پھر سارے معاملے کے ایک جزو کی طرف جا رہی ہے جبکہ اصل مسئلہ بیچ ہی میں اٹک رہا ہے‘ یعنی وہ جو ہم نے ابتدائی سطور ہی میں کمبل چوری کرنے والے واقعے کا تذکرہ کیا تھا تو اسی جانب توجہ دیتے ہیں کہ آج سے کئی سال پہلے بھی انگلستان کے شہر لندن میں اسی طرح سیاسی رہنمائوں کااجتماع ہوا تھا‘ اس میں جو کچھ طے ہوا اگر اسے ’’جمہوریت کے کمبل‘‘ کی چوری کے لئے سجایا جانے والا میلہ قرار دیاجائے تو شاید غلط نہ ہو کیونکہ اسی کی آڑ میں ایک بڑے فریق نے جنرل مشرف کے ساتھ پس پردہ مذاکرات کرتے ہوئے وطن واپسی کا پروانہ حاصل کرلیا تھا۔ اگرچہ بعد میں اسی این آر او سے ہزاروں بھتہ خوروں‘ ٹارگٹ کلرز اور دیگر جرائم پیشہ افراد کو بھی بھرپور فائدہ ملا اور بالآخر دوسرے بڑے فریق کو بھی وطن واپسی نصیب ہوئی۔ مگر اس ساری صورتحال کانتیجہ آج قوم بھگت رہی ہے۔ اس لئے اب جو ایک بار پھر نیا میلہ سجایا گیا ہے اس کے پیچھے اصل مقاصد کیا ہیں؟ اس بارے میں تو ایک فلمی گیت کا یہ مصرعہ ہی کافی ہے کہ ’’ پبلک ہے‘ سب جانتی ہے‘‘ اور بقول افتخار عارف

تماشا کرنے والوں کو خبردی جا چکی ہے

کہ پردہ کب کرے گا کب تماشا ختم ہوگا

کیونکہ اڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی یعنی ایک ’’افواہ‘‘ یہ بھی ہے کہ مولانا صاحب کو پیغام دیا جا چکا ہے کہ ہم سے غلطی ہوئی ہے۔ ہمیں معاف کیاجائے حالانکہ اس پیغام کے الفاظ بڑے معنی خیز ہیں اور آگے کیا ہونے جا رہا ہے اس بارے میں آنے والے دنوں میں معلوم ہوسکے گا کیونکہ ابھی تو جولائی میں ’’ یوم سیاہ‘‘ بھی آنے والا ہے۔ مگر ساتھ ہی مرحوم نوابزادہ نصر اللہ خان کی ایک بات بھی یاد آرہی ہے کہ جب جنرل مشرف کے ساتھ خفیہ ڈیل کے بعد میاں برادران جلا وطنی پر آمادہ ہوگئے تھے تو نوابزادہ صاحب نے کہا تھا کہ میں نے ہر قسم کے سیاسی رہنمائوں کو دیکھا اور بھگتا ہے مگر کسی تاجر سیاستدان کے ساتھ ایسا تلخ تجربہ کبھی نہیں ہوا۔ در اصل میاں صاحب نے جنرل مشرف کے ساتھ ڈیل کی کسی کو ہوا بھی لگنے نہیں دی تھی۔ نوابزادہ صاحب کو بھی اعتماد میں نہیں لیا تھا‘ بالکل اسی طرح جس طرح محترمہ نے میثاق جمہوریت پر دستخطوں کے باوجود جنرل مشرف سے دوبئی میں ڈیل کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں راز داری برتی تھی۔ اس لئے تو اے پی سی پر عوام کا اعتماد متزلزل ہو رہا ہے۔ وما علینا الالبلاغ۔

متعلقہ خبریں