Daily Mashriq

میں نے کہا تھا آج مرغا بنائو ں گی

میں نے کہا تھا آج مرغا بنائو ں گی

اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر آج کا کالم لکھ رہا ہوں، لیکن پھر بھی وضاحت کرتاچلوں جیسے کوئی بھی کہانی، فلم اور ڈرامہ شروع ہونے سے پہلے ہی آپ یہ جملہ اکثردیکھتے اور پڑھتے ہیں کہ ’’کرداروں یا واقعات سے مماثلت محض اتفاق ہوگا‘‘ ۔ایک دفعہ ایک بادشاہ نے اپنے معتمد خاص سے کہا کہ کیا ہماری طرح اور بھی کوئی اپنی بیوی سے ڈرتا ہے معتمد خاص نے کہاکہ جناب آپ کی سلطنت میںنوے فیصد سے زیادہ لوگ اپنی بیویوں سے ڈرتے ہیں۔

بادشاہ نے کہا کہ نہیں ایسا نہیں ہوسکتا ہمارے پاس مضبوط فوجی جوان ہیںطاقتور سپہ سالار ہیںہمارے رعب دبدبہ والے وزیر ہیں۔معتمد خاص نے جان کی امان مانگتے ہوئے عرض کیا کہ جناب سلطنت کے تمام کے تمام مردوں کو ایک کھلے میدان میں جمع کرتے ہیں جو بیویوں سے ڈرتے ہیں وہ سرخ جھنڈے کے نیچے کھڑے ہوتے جائیں اور جو نہیں ڈرتے وہ سفید جھنڈے کے نیچے۔ شاہی فرمان سارے ملک میں پھیلادیا گیا چنانچہ مقررہ تاریخ کو ایسا انتظام کیا گیاکہ تمام مرد آتے گئے اوراپنی مرضی سے سرخ جھنڈے کے نیچے کھڑے ہوتے گئے عورتوں نے چاروں طرف ایک دائرہ سا بنالیا تاکہ سارا نظارہ دیکھا جائے صبح سے سہ پہر تک کا وقت مقرر کیا گیاتھا سرخ جھنڈ ے کے نیچے تو گویا ایک میلہ سا لگ گیا اور سفید جھنڈے کے نیچے صرف ایک شخص کھڑا تھا ۔ مقرر وقت ختم ہوابادشاہ بڑا حیران ہوااس نے کہا کہ میری سلطنت کے بہادر مردکہ جو بیوی سے نہیں ڈرتا۔شاہی حکم ہوااس مرد مجاہد سے بادشاہ سلامت کی ملاقات کروائی جائے اس اکلوتے شخص سے کہا گیا آئیے آپ کو بادشاہ سلامت سے شرف ملاقات بخشا گیا ہے مگر وہ شخص ایک قدم بھی نہ ہلا سپاہیوں نے پوچھا کہ تم شاہی حکم کی عدولی کررہے ہومگر اس نے کہا کہ بھائی وہ سامنے میرے بیوی کھڑی ہے اس نے کہا تھا کہ اس جھنڈے سے ایک قدم بھی حرکت نہ کرناورنہ تمہاری ٹانگیں توڑ دوں گی لہٰذہ جب تک وہ اجازت نہ دے میں بادشاہ سے ملاقات تو کیا یہاں سے ہٹ بھی نہیں سکتا۔تب راز کھلاکہ اصل میں یہی شخص بیوی سے ڈرتا تھا۔درحقیقت ہم بھی ان سرخ جھنڈے والے مردوں میں سے ہیں یعنی کہ ڈرتے تو ہم بھی ہیں اپنی بیوی سے اور ہم اس کا برملا اظہار بھی کرتے ہیں،دیکھئے یہاں اخلاقی جرأت کی بات ہے کہ جو بیوی سے ڈرتا بھی ہو اور کھل کر کہہ بھی سکے، کئی بیچارے تو کہہ بھی نہیں سکتے یا انہیں زبان کھولنے کی اجازت ہی نہیں، اگر کبھی زبان کھولی تو بیگم کی ڈانٹ سننے کو ملتی ہے۔

ایک تو بندہ شوہر ہو اوراوپر سے پھر دفتر میں کام کرتا ہو توپھر قسمت مار پر مار دیتی ہے ہم دفتر والوں کی قسمت میں تو دہری جھاڑ لکھی ہوتی ہے دفتر میں صاحب کی اور گھر لوٹیں تو بیوی کی، بڑوں نے کہاتھا کہ ’’نوکر کی تے نخرہ کی‘‘ مگر ہم تو نوکر بھی ہیں اور شوہر بھی ۔نخرہ تو صرف بیوی کرسکتی ہے وہ بھی ہمارے پیسے پر۔ سینکڑوں روپے تو ان کے میک اپ پر لگ جاتے ہیں کہ جتنے میں ہم پورے مہینے کی چائے سیگریٹ اور لنچ خرید سکتے ہیںمگر مجال ہے کہ ہم کچھ کہہ سکیں ، اپنے وقت کے ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کو بیگم کے سامنے ناچتے ہم سب دیکھ چکے ہیں ۔

سچ تو یہ ہے کہ کیا یہاں پر تو بڑے بڑوں کی بولتی بند ہوجاتی ہے بولیوںسے یاد آیا کہ ایک صاحب کی بیگم کی اپنی ماں بولی اردو نہیں تھی انہوں نے بڑی مشکلوں سے اپنی بیوی کو طوطے کی طرح اردو رٹوادی۔ ان صاحب کی مہینہ بھر کی کوششوں سے وہ محترمہ اردو بولنے شروع ہوگئیں ان کے پڑوس سے ایک خاتون اکثر ان کے گھر آتی اور پوچھتیں ارے بہن یہ کیا سیکھ رہی ہو وہ کہتی اردو۔

ان میاں بیوی کی آپس میں بڑی محبت تھی میاں اچھی اچھی چیزیں بازار سے لاتا اور بیوی انہیں خوب محنت اور لگن سے پکاتی اور اپنے شوہر کے سامنے رکھ دیتی لیکن ایک دن تو معاملہ الٹ ہی ہوگیا اور شوہر گھر سے بھاگ گیا ، بیوی نے رونا پیٹنا شروع کردیا پڑوسن دوڑی آئی اور پوچھا کیا معاملہ ہے ، بیوی نے کہا کہ معلوم نہیں شوہر نے پوچھا تھاکہ آج دن میں کیا کررہی ہو میں نے’’ اردو زبان‘‘ میں جواب دیا اور شوہر بھاگ گیا پڑوسن نے پوچھا آخر تم نے کہا کیا تھا بیوی نے اپنا جواب کچھ یوں دیا:

مشکل میں پڑ گئی ہوں میں اردو زبان سے

کھانا پکائوں گی کہ میں کھانا بنائو ںگی

شوہر تو میرا بھاگ گیا بر بنائے خوف

میں نے کہا تھا کہ آ ج مرغا بنائوں گی

معلوم نہیں اس خاتون کے شوہر واپس آئے کہ نہیں اور انہیں اردو زبان کی الجھن سے کسی نے نکالایا نہیں مگر ہم کسی الجھن میں نہیں پڑنا چاہتے لہٰذہ جیسا کہ میںپہلے لکھ چکا ہوں اورآخر میں ہم اپنے قارئین کو بتاتے چلیں یہ فرضی کالم ہے اس میں اگر کسی ’’بادشاہ‘‘ ، وزیروں یا پھر عام آدمی کو اپنی تصویر نظر آئے تو ہم ہرگزمعذرت خواہ نہیں ہیں ۔

متعلقہ خبریں