Daily Mashriq

موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہےموسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے

موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہےموسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے

عزیز اعجاز کا کہا کتنا مستند ہے:

جیسا موڈ ہو ویسا منظر ہوتا ہے

موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے

موسم کی بات اپنے اندر کتنی صداقت لیے ہوئے ہے موسم کی بات چلے تو بچپن کہیں چپکے سے اندر آکے بیٹھ جاتا ہے اور طرح طرح کی سرگوشیاں کانوں میں گونجنے لگتی ہیں ہمارے بچپن میں سات دن کی جھڑی لگا کرتی تھی جمعرات کے دن بارش شروع ہوتی تو بڑے بوڑھے کہتے بیٹا یہ تو جمعرات کی جھڑی ہے اب یہ آنے والی جمعرات تک تو ضرور برسے گی۔اور پھر یہی ہوتا موسلا دھار بارش برستی رہتی اور تھمنے کا نام تک نہ لیتی۔ آخر لوگ تنگ آجاتے بازاروں اور گلیوں میں کیچڑ کی بہتا ت ہوتی۔قصہ خوانی بازار میں گھٹنوں گھٹنوں پانی ہوتا دکاندار اپنی دکانوں کے آگے لکڑی کی چھوٹی سی میز رکھ دیتے تاکہ راستے سے نا آشنا مسافر گرنے نہ پائے اور اگر کوئی گر پڑتا تو منچلے خوب قہقہے لگاتے شاید یہ انسانی فطرت ہی ہے کہ گرنے والے پر سب ہنستے ہیں وہ جیسے کہا جاتا ہے کہ ہنسنے والے کے ساتھ سب ہنستے ہیں لیکن رونے والے کو اکیلا ہی رونا پڑتا ہے۔ کسی کا پائوں کیچڑ کی وجہ سے پھسلے اور بیچارا کیچڑ میں لت پت ہو جائے تو لوگوں کے قہقہے رکنے کا نا م نہیں لیتے۔ ولی محمد جنہیں دنیا نظیر اکبر آبادی کے نام سے جانتی ہے اپنے زمانے کی برسات کا ایسا نقشہ کھینچتے ہیں کہ سارا منظر نگاہوں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔

کیچڑ سے ہو رہی ہے جس جا زمین پھسلنی

مشکل ہوئی ہے واں سے ہر اک کو راہ چلنی

پھسلا جوپائوں پگڑی مشکل ہے پھر سنبھلنی

جوتی گری تو واں سے کیا تاب پھر نکلنی

کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

کالم شروع کرتے وقت ذہن میں جون کی گرمی تھی اور اس گرمی کے ساتھ آنے والے مسائل بھی تھے پھر خیال آیا کہ کب تک مرثیہ خوانی کی جائے ہر وقت کا رونا دھونا اچھا بھی نہیں لگتا ۔ اس لیے خیال بچپن کی سردیوں کی طرف چلا گیا اب تو وہ موسم سرما بھی عنقا ہوا بستر پر لیٹنے کا وقت ہوتا تو بستر برف کی طرح ٹھنڈا ہوتا اس لیے سونے سے پہلے اپنے بستر کو لحاف سے ڈھانپ دیا جاتا اور پھر بستر کے اندر گھستے وقت شدید سردی میں لحاف کو چاروں طرف سے اپنے گرد لپیٹنا اور یہ خوشی علیحدہ ہوتی کہ رات بہت طویل ہے اب صبح آرام سے اٹھیں گے۔لیکن خوشی اور آرام کے لمحات پلک جھپکتے ہی گزر جاتے ہیں صبح سویرے نرم گرم بستر کو چھوڑ کر مسجد جانا پڑتا نماز کے بعد مدرسے میں بیٹھ کر قرآن پاک پڑھنا ہر تھوڑی دیر بعد مسجد کی دیوار پر لگے ہوئے گھڑیال پر نظر ڈال لی جاتی تاکہ سکول وقت پر پہنچا جاسکے سپارہ سامنے رکھ کر ہم ہلتے رہتے تاکہ قاری صاحب سمجھیں کہ حضرت پڑھ رہے ہیں لیکن ہم ساتھ بیٹھے ہوئے ساتھی کے ساتھ گپیں لگا رہے ہوتے۔ مسجد سے چھٹی ہوتی تو بھاگم بھاگ گھر پہنچتے ناشتہ زہر مار کیا جاتا اور پھر سکول کی طرف دوڑ لگا دیتے۔ سکول سے چھٹی ہوتی دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد تین بجے پھر مسجد جانا ہوتا مسجد پہنچتے تو قاری صاحب لکڑی کے بینچ پر زور زور سے چھڑی مار کر ہمارا استقبال کر رہے ہوتے۔ عصر کی نماز کے بعد گھر واپسی ہوتی۔ جیسے تیسے سکول کا کام کیا جاتا رات کے کھانے کے دوران ہی نیند کی دیوی ہمیں اپنی نرم گرم آغوش میں لے لیتی کمپیوٹر اور سیل فون کی پیدائش ابھی نہیں ہوئی تھی سب سے بڑی تفریح ٹی وی ! جو رات کو خبر نامے کے بعد بند ہوجاتا اور ہم خبر نامے سے پہلے سو چکے ہوتے کیونکہ صبح سویرے اٹھ کر منہ اندھیرے مسجد جا کر سپارہ پڑھنا ہوتا۔دسمبر جنوری کی شدید سردی میں ہم اپنے چھوٹے بھائی کو ساتھ لیے گرم چادروں کی بکل مارے گھر سے نکلتے تو ایک حیران کن منظر روز دیکھنے کو ملتا۔ ہمارے گھر کے سامنے ایک بہت بڑی میدانی تھی جس کے درمیان ایک نلکہ لگا ہواتھاجس کے گرد سیمنٹ کی چھوٹی سی چار دیواری تھی اس چار دیواری کے اندر عین نلکے کے نیچے ہمارے محلے کا حجام لنگوٹ لپیٹ کر ٹھنڈے پانی سے نہا رہا ہوتا یہ وہ زمانہ تھا جب پشاور کے گلی کوچوں میں گرم حمام ضرور ہوا کرتے اور لوگ اپنے گھروں سے تولیہ اور صابن کندھے پر ڈال کر گرم حمام نہانے کے لیے جاتے لوگ حمام میں بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کرتے کہ واش روم خالی ہوتو اندر جایا جائے اس وقت واش روم کو سقاوہ کہا جاتاہر سقاوے میں ایک بلب لگا ہوتا جس کا بٹن حمام والے کی دسترس میں ہوتا۔ اگر کسی کو گرم پانی جسم پر بہانے کا مزا آتا اور وہ باہر نکلنے کا نام نہ لیتا تو حمام والا اس کے سقاوے کا بلب بجھادیتا اور ساتھ ہی آواز کرتا کہ جلدی کرو جوان اور لوگوں نے بھی نہانا ہے۔بعض حمام صرف حمام ہی ہوتے لیکن کچھ حمام ایسے بھی تھے جن میں ہیر ڈریسر نے لوگوں کی حجامت کا انتظام بھی کررکھا ہوتا۔ یہ گرم سیلون ایک طرح کا کیمونٹی سنٹر ہوتاجن میں دو چار معززین اپنے سامنے قہوے کی پیالیاں رکھے گپ شپ لگا رہے ہوتے۔ حالات حاضرہ زیر بحث آتے آج کی طرح بے شمار ٹی وی چینلز نہیں ہوتے تھے ان لوگوں کی ساری معلومات خبرنامے اور ایک عدد روزنامے تک محدود ہوتی حکومتی خبرنامے میں صدر مملکت اور وزیراعظم کی سرگرمیوں کی تفصیلات ہوتیں۔ آج تو میڈیا کا کردار بڑا بھرپور ہے چھوٹی سے چھوٹی خبر بھی عوام تک پہنچ جاتی ہے سیاست دانوں کی کوتاہیاں عوام کے سامنے آہی جاتی ہیں۔بات چلی تھی موسموں کے تغیر و تبدل سے اب گرمی آتی ہے، (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں