Daily Mashriq

ہر وقت پیشاب آنے کی وجوہات جانتے ہیں؟

ہر وقت پیشاب آنے کی وجوہات جانتے ہیں؟

جسم سے پیشاب کا اخراج بہت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ گردے اضافی پانی اور کچرے کو خون سے فلٹر کرتا ہے اور اسے مثانے میں منتقل کردیتا ہے۔

اوسطاً ایک فرد روزانہ چار سے چھ بار پیشاب کرتا ہے اور چار گھنٹے کے اندر ایک چکر لگ ہی جاتا ہے۔

تاہم اگر ہر کچھ دیر بعد ہی پیشاب آنے لگے تو یہ معمول کی بات نہیں ہوتی۔

اگر ایسا ہورہا ہے تو اس کی وجوہات یہ ہوسکتی ہیں۔

بہت زیادہ پانی پینا

اگر آپ زیادہ مقدار میں پانی پینا شروع کردیں تو آپ کو واش روم کے چکر بھی زیادہ لگانے پڑتے ہیں، اور اگر کچھ زیادہ ہی چکر لگ رہے ہیں، تو دیکھیں آپ کتنا پانی پی رہے ہیں، عام طور پر زیادہ پانی پینے کے نتیجے میں جسم میں نمکیات کی کمی ہونے لگتی ہے جس کا عندیہ پیشاب کی بالکل شفاف رنگت سے بھی ہوتی ہے، جو بتدریج صحت کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتا ہے، تو اس کا ایک آسان حل بہت زیادہ کی جگہ مناسب مقدار میں پانی پینا ہے۔

بہت زیادہ چائے ، کافی یا سافٹ ڈرنکس کا استعمال

مشروبات جیسے کافی، چائے یا کولڈ ڈرانکس وغیرہ زیادہ مقدار میں پینا بھی ہر وقت پیشاب آنے کی وجہ بن سکتا ہے، ان مشروبات کے نتیجے میں جسم میں نمک اور پانی کی مقدار بڑھتی ہے اور گردوں ان کی صفائی کرتا رہتا ہے جس کے باعث زیادہ پیشاب آتا ہے۔

پیشاب کی نالی میں سوزش

اس مرض میں مثانہ اور گردے متاثر ہوسکتے ہیں اور اس انفیکشن کے باعث مثانے ورم کے شکار بھی ہوجاتے ہیں جس کے باعث ایسا لگتا ہے کہ 24 گھنٹے پیشاب آرہا ہے حالانکہ جسمانی نظام میں اتنا سیال ہوتا نہیں، ایسے حالات میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

ذیابیطس

جب آپ ذیابیطس کے شکار ہوجائیں تو آپ کا جسم خوراک کو شوگر میں تبدیل کرنے میں زیادہ بہتر کام نہیں کرپاتا جس کے نتیجے میں دوران خون میں شوگر کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور جسم اسے پیشاب کے راستے باہر نکالنے لگتا ہے، یعنی ٹوائلٹ کا رخ زیادہ کرنا پڑتا ہے۔ تاہم اس مرض کے شکار اکثر افراد اس خاموش علامت سے واقف ہی نہیں ہوتے اور نہ ہی اس پر توجہ دیتے ہیں۔ خاص طور پر رات کو جب ایک یا 2 بار ٹوائلٹ کا رخ کرنا تو معمول سمجھا جاسکتا ہے تاہم یہ تعداد بڑھنے اور آپ کی نیند پر اثرات مرتب ہونے کی صورت میں اس پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

بہت کم پانی پینا

جی ہاں واقعی بہت زیادہ کی جگہ اگر بہت کم پانی پیا جائے تو بھی یہ مسئلہ ہوسکتا ہے کیونکہ اس سے مثانہ متاثر ہوتا ہے اور وہ دماغ کو یہ احساس دلاتا رہتا ہے کہ پیشاب آرہا ہے جبکہ ایسا ہوتا نہیں، اگر آپ پانی کم پیتے ہیں مگر ہر وقت پیشاب آنے کا احساس ہوتا ہے تو پانی پینے کی مقدار بڑھادیں۔

گردوں کی پتھری

گردے کی پتھری پیشاب کی نالی کے کسی بھی حصے کو متاثر کرسکتی ہے اور وہاں سے ان کا نکلنا کافی تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے، مگر پیشاب زیادہ آنے لگتا ہے جس کے ساتھ تکلیف بھی ہوتی ہے۔

مخصوص ادویات

مختلف ادویات جیسے ہائی بلڈ پریشر کے لیے لی جانے والی ادویات کے نتیجے مین یہ مسئلہ لاحق ہوسکتا ہے یا سکون آور ادویات کا بھی یہ سائیڈ ایفیکٹ دیکھنے میں آتا ہے۔

کوئی سنگین مسئلہ

ہر وقت پیشاب آنے پر ڈاکٹر سے رجوع ضرور کرنا چاہیے کیونکہ اس کے پیچھے کوئی سنگین طبی مسئلہ بھی چھپا ہوسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں