Daily Mashriq


بار بار وضاحت کی ضرورت کیوں ؟

بار بار وضاحت کی ضرورت کیوں ؟

امریکہ میں پاکستان کے سفیر اعزاز احمد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کی معاون ریاست قرار دیے جانے کی بات چند ذہنوں کی سوچ ہے اور اِس کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔واشنگٹن میں بی بی سی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اعزاز احمد چوہدری کا کہنا تھا کہ انڈیا پاکستان سے مذاکرات معطل کرتا ہے تو اِس سے دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔حقانی نیٹ ورک کے بارے میں اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ وہ ہمارے دوست نہیں ہیں اور نہ ہماری پراکسی ہیں۔ اور نہ ہم چاہتے ہیں کہ وہ کسی قسم کا تشدد کریں۔خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں امریکی کانگریس کے ایوان نمائندگان میں ایک بل پیش کیا گیا جس کے تحت پاکستان کو دہشت گردی کی معاونت کرنے والا ملک قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔حافظ سعید کی نظربندی سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان کی سرزمین سے کوئی بھی منفی پیغام باہر جائے۔ہمارا پیغام بہت واضح ہے، ہم ہندوستان کے ساتھ امن اور سلامتی کا رشتہ چاہتے ہیں، دوستانہ ماحول چاہتے ہیں۔ باہمی احترام کی بنیاد پر پر امن تعلقات چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جب بھی پاکستان اور ہندوستان امن کی جانب بڑھتے ہیں دہشت گرد کوئی کارروائی کر دیتے ہیں اور جب ہندوستان بات چیت روک دیتا ہے تو اس سے دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی ہورہی ہوتی ہے۔امریکہ میں پاکستانی سفیر نے جس دو ٹوک انداز میں ان الزامات کی صفائی پیش کی ہے اور ان عناصر سے صریح الفاظ میں لا تعلقی کااعلان کیا ہے جس کے بارے میں شکوک و شبہات کا وقتاً فوقتاً اظہار ہوتا رہاہے اور ان معاملات کی پرچھائیاں پاک امریکہ تعلقات پر بھی اثر انداز ہوتی رہی ہیں۔ بھارت تو پاکستان کے بارے میں زہریلا پروپیگنڈہ کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ حقانی نیٹ ورک اور جماعت الدعوة کی سرپرستی بارے جو غلط فہمیاں تھیں ان کے ازالے کے لئے حکومت وقتاً فوقتاً اقدامات کرتی رہی ہے۔ حقانی نیٹ ورک ایک غیر مرئی اور افسانوی کہانی تھی یا اس کا حقیقت سے واسطہ تھا' اس حوالے سے پاکستان کی جانب سے ثبوتوں کے جواب میں سوائے دبائو اور الزام تراشی کے کوئی سنجیدہ جواب نہیں ملتا رہا جبکہ جماعت الدعوة کی سرگرمیوں کے حوالے سے الزامات اور شکوک و شبہات تو سامنے آتے رہے مگر عملی طور پر اس ضمن میں بھی کوئی ٹھوس ثبوت کبھی سامنے نہ آیا اس کے باوجود حکومت نے الزامات کا توڑ کرنے کے لئے حافظ سعید کو نظر بند کردیا جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی سیکورٹی فورسز کی بھرپور کارروائی کسی سے مخفی امر نہیں۔ اس کے باوجود میران شاہ میں مبینہ طور پر حقانی نیٹ ورک کی موجودگی کے الزامات لگتے رہے اب جبکہ میران شاہ کے متاثرین کی واپسی کا عمل بھی مکمل ہونے کو ہے تو اس امر کی گنجائش ہی نہیں رہ جاتی کہ شہریوں کے معمولات میں کسی ایسے عنصر کی موجودگی ممکن رہے جو مطلوب ہو اور اگر کہیں اس کا امکان ہو بھی تو بھی اس کا خود اپنی بقا کے تحفظ میں سر گردان ہونے سے زیادہ کی کوئی سرگرمی ممکن نہیں۔ اس کے باوجود بھی امریکی کانگریس کے ایوان نمائندگان میں پیش کئے گئے بل میں پاکستان کو دہشت گردی کی معاونت کرنے والا ملک قرار دینے کو لا علمی کی انتہا قرار دیا جائے یا ہٹ دھرمی یا اسے کوئی اور نام دیا جائے۔ ہمارے تئیں پاکستان کو کمانڈر حقانی کے مبینہ نیٹ ورک کے الزامات کی صفائی دینے کی بجائے امریکہ سے سفیر حقانی نیٹ ورک کے بارے میں سوال ضرور کرنا چاہئے کہ تھوک کے حساب سے ویزے ایشو کروا کر جتنے لوگوں کو پاکستان بھجوایا جاتا رہا ان کا مقصد کیا تھا۔ ان کی سرگرمیوں سے بھی ہمارے ادارے بے خبر نہیں مگر حکمران عناصر کی مداخلت اور مصلحت ہر جگہ آڑے آتی رہی۔ پاکستان میں بلیک واٹر کی سرگرمیاں اور ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری و انکشافات بھی کوئی مخفی معاملہ نہیں اس کے باوجود بجائے اس کے کہ دو ٹوک بات کی جائے ہر جگہ مصلحت کی ردا اوڑھ لی جاتی ہے جس کے باعث پاکستان پر الٹا دبائو پڑتا ہے۔ پاکستان کو جہاں عالمی سطح پر اس طرح کے دبائو کا سامنا ہے وہاں پڑوسی ملک بھارت اور افغانستان سے اعتماد کا رشتہ نہ ہونے کے باعث مشکلات اور الزامات کاسامنا رہتا ہے۔ پاکستان جب بھی بھارت اور افغانستان سے حالات کو معمول پر لانے کے حوالے سے پیش رفت کا ارادہ کرتا ہے خطے میں کوئی نہ کوئی ایسی ناخوشگوار صورتحال رونما ہوتی ہے جس سے غلط فہمیوں میں اضافہ ہوتاہے ۔ اس صورتحال میں بجائے اس کے کہ پاکستان کو اس صورتحال سے نکلنے میں مدد دی جائے الٹا پاکستان کو مطعون کردیاجاتا ہے۔ امریکہ سمیت دنیا کے ممالک کو چاہئے کہ وہ پاکستان پر انگشت نمائی کی بجائے پاکستان کی مشکلات کا ادراک کریں اور پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اتحادی بن کر جس طرح جان جوکھوں میں ڈالی اس میں پاکستان کو اب تنہا چھوڑنے کی بجائے اس کی دفاعی و اقتصادی اخلاقی اور ہر طرح سے مدد کی جائے۔ پاکستان کی جانب سے آپریشن ضرب عضب کے بعد آپریشن رد الفساد کی صورت میں پورے ملک میں جس طرح کی بلا امتیاز کارروائیاں کی جا رہی ہیں اس کی روشنی میں تعصب کی عینک اتار کر دیکھا جائے تو پاکستان کی قربانیاں دہشت گردی کاخاتمہ اور دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے اقدامات کی دنیا میں نظیر نہیں ملے گی۔ پاکستان کو عالمی طور پر سفارتی ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے منفی پروپیگنڈے کا توڑ اور مدلل طور پر پاکستان کے اقدامات اور پالیسیوں کو اجاگر کرنے کی خصوصی مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بار بار اس طرح کی صورتحال کا سامنا نہ ہو جو پاکستان کے لئے خفت کا باعث ہو۔

متعلقہ خبریں