Daily Mashriq


انتخابی ٹکٹوں کا شفاف اجراء ، امتحان سے کم نہیں

انتخابی ٹکٹوں کا شفاف اجراء ، امتحان سے کم نہیں

تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی جانب سے انتخابی ٹکٹس میرٹ پر دینے اور ٹکٹوں کے درخواست دہند گان اور خواہشمند وں کے پہلے احتساب کو ذاتی طور پر کرنے کا اعلان خوش آئند ہونے کے ساتھ مشکل امر بھی ہے کیونکہ ملک بھر سے انتخابی ٹکٹوں کے خواہشمند وں کی پوری طرح چھان بین اور معلومات نہ تو آسان کام ہے اور نہ ہی اسے کوئی اکیلا آدمی کر سکتا ہے۔ فرد و احد کا فیصلہ جمہوری پارٹی کیلئے مناسب نہیں لہٰذا بہتر یہی ہوگا کہ اس مقصد کیلئے ایک با اختیار کمیٹی مقرر کر کے اس کے کا م میں کسی قسم کی مداخلت نہ ہونے کو یقینی بنایا جائے ۔ مشاہدے کی بات یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں میں مخلص کارکنوں اور رہنمائوں کی جانب سے حقدار اور طویل رفاقت اور وفاداری رکھنے والے دیرینہ کارکنوں پر عین وقت جیتنے والے امید واروں کی تلاش شروع ہوتی ہے اور انہی کو پارٹی ٹکٹ جاری کئے جاتے ہیں۔ تقریباً ہر بڑی سیاسی پارٹی کے قائدین اور اکابرین ہی کسی امید وار کی میرٹ پرہونے کے باوجود مخالفت شروع کردیتے ہیں اور دوسرے بااثر امید وار کو پارٹی ٹکٹ دلا دیتے ہیں ۔ گزشتہ انتخابات میں تحریک انصاف نے دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں امید واروں کے چنائو میں زیادہ غلطیاں کیں جس کے باعث کارکنوں میں اضطراب فطری امر تھا۔ چونکہ اب تحریک انصاف کے کارکنوں کا گزشتہ انتخابات والا جوش باقی نہیں رہا اس لئے تحریک انصاف کے امید واروں کو بھی جیتنے کیلئے پہلے سے کہیں بڑھ کر پاپڑ بیلنے پڑیں گے ۔ براہواس انتخابی سیاست کا جو عین وقت پر کسی دیرینہ ورکر امید وار پر دوسرے نووارد کو محض اس لئے ترجیح دی جاتی ہے کہ وہ با اثر اور مضبوط امید وار ہے جو مذکورہ نشست بہ آسانی جیت سکے گا جبکہ اس کے مقابلے میں پارٹی کے مخلص کارکنوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے جس سے بد دلی پھیل جاتی ہے۔ اصولی طور پر توتمام سیاسی جماعتوں کو اپنے مخلص کارکنوں ہی کو آگے لانے کی سعی کرنی چاہیئے خاص طور پر تحریک انصاف کو اس امر کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو ترجیح دے کر مثال قائم کریں ۔ہمارے تئیں عمران خان اگر سخت نگرانی اور عدم مداخلت یقینی بناکر انتخابی ٹکٹوں کا اجراء کروائیں تو مطلوبہ نتائج کا حصول ممکن ہوگا اگر پارٹی کو جیتنے والے گھوڑے نہ بھی ملیں توپارٹی کارکنوں کا مورال بلندہوگا اور جو کارکن میرٹ پر کامیاب ہو کر اسمبلیوں میں جائیں گے وہ عوام اور پارٹی کا رکنوں دونوں ہی کیلئے مدد گار ثابت ہوں گے ۔

کچھ علاج اس کا اے چارہ گراں ہے کہ نہیں

محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کی جانب سے ڈیوٹی میں غفلت پر چارہزار پانچ سو چھ اساتذہ پر انیس کروڑ چوراسی لاکھ روپیہ جرمانہ عائد کرنا صوبہ بھر میں سات سو چارمرد و خواتین اساتذہ کی ملازمتوں سے بر طرفی اور ستتر کی تنزلی کے اقدامات سنجیدہ اور لائق تحسین ہیں جو تعلیمی شعبے کی حالت زار میں بہتری لانے میں مدد گار ثابت ہوںگے ۔ سزا وجزاء کے اس نظام سے اساتذہ کو اس امر کا احساس ہونا چاہیئے کہ ان کی غفلت اب زیادہ عرصے پوشیدہ نہیں رہ سکتی مگر افسوسناک امریہ ہے کہ حکومت کے اس قدر مئو ثر اقدامات کے باوجود اب بھی اس کا توڑ کرتے ہوئے غیر حاضر ہونے کے باوجود دوسرے دن آکر حاضری لگانے اور چیکنگ پر ان کو درخواست دہندہ ظاہر کرکے پہلے سے لکھی درخواست پر تاریخ ڈال کر دینے اور اعتبار کیلئے احتیاطاً موبائل پر صبح آنے والا برقی پیغام بھی دکھا کر چیکنگ کرنے والوں کی تسلی کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کا توڑ بائیو میٹرک سسٹم سے ہی ہوگا مگر جہاں یہ طریقہ متعارف کرایا گیا ہے وہاں انگوٹھا لگا کر غائب ہونے یا فضول بیٹھے رہنے ۔کی بدعت سامنے آتی ہے۔ ان حالات میں حکومت اور متعلقہ محکمے کے پاس بھی کوئی طریقہ باقی نہیں بچتا سوائے اس کے کہ تمام سکولوں میں سی سی ٹی وی کیمرے لگا کر مانیٹرنگ کی جائے ۔مگر پورے صوبے میں ایسا کرنا بھی ممکن نہیں ایسے میں سوائے خوف خدا اور تنخواہ حلال کرنے واسطے محنت سے بچوں کو پڑھانے پر مائل اور قائل کرنے کی سعی کے کچھ نہیں بچتا۔ المیہ یہ ہے کہ ہم نہ تو احساس ذمہ داری رکھتے ہیں نہ اپنے فرائض سے دلچسپی رکھتے ہیں اور خوف خدا بھی کم ہی لوگوں میں ہوگا جس کا حکومت کے پاس کوئی حل نہیں اس کے باوجودبھی نگرانی اور جزاوسزاء کا عمل نہ صرف جاری رکھنے کی ضرورت ہے بلکہ اس میں مزید وسعت بھی دی جانی چاہیئے ۔ حکومتی ادارے فعال ہوں گے تو ماتحت عملہ بھی چوکس ہوگا ۔

متعلقہ خبریں