Daily Mashriq


ہم حالت انکار میں ہیں

ہم حالت انکار میں ہیں

آج کل ایک نئی تحقیق کے حوالے سے بات ہورہی ہے۔ کچھ سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ پانی ایک زندہ وجود ہے ۔ اس کا دل بھی ہے اور دماغ بھی ۔ یہ یادداشتیں محفوظ رکھتا ہے ۔ ابھی تک سائنسدان اسے پوری طرح سمجھنے میں کامیاب نہیں ہوئے لیکن اس سمت میں اس حوالے سے کام شروع ہوگیا ہے ۔ اس ریسرچ کے بارے میں سوچتے ، غور کرتے مجھے خیال آیا کہ ایسا ضرور ہوگا ، انسان بالا خر یہ دریافت بھی کر لے گا ۔ قیامت کے رو ز ہر ایک شے گواہی دے گی ۔ وہ زمین جس پر ہم چلتے ہیں ہمارے ہاتھ پائو ں ، اس کا مطلب ، ان میں بھی یاداشت ہوگی ۔ انسان کے لیے اس علم کے کھولے جانے کا بس وقت ابھی نہیں آیا ۔ اسی بات کا اطلاق جب میں تاریخ پر کرتی ہوں تو دیکھتے ہوں ، قوم بھی ایک زند ہ کیفیت کا نام ہے ۔ ہر قوم کا ایک دل او ردماغ بھی ہوتا ہے ۔ اسکی اپنی یادداشت اور احساسات بھی ہوتے ہیں ۔ عجب بات یہ ہے کہ یہ سب پاکستانی قوم میں منجمددکھائی دیتا ہے ۔ نہ یہ باتوں کو یاد رکھتے ہیں اور نہ ہی کسی واضح احساس یا جذبے کا اظہار کرتے ہیں لیکن یہ کیفیت کبھی بھی مجھے اس بات کی غماز نہیں لگتی کہ پاکستان میں ایک قوم نہیں بستی ، یا اکثر یہ ذکر کیا جاتا ہے کہ دراصل یہ ایک ہجوم بیکراں ہے جو ان سرحدوں میں مقید ہے ۔ ان میں سے جب کسی کو کبھی بھی ، کسی طور بھی اس ملک سے نکل جانے کا موقع ملے یہ اُڑجایا کرتے ہیں ۔ یہ سب سو چ کے بر عکس ہیں ۔ بقول شاعر 

سودا جو تیرا حال ہے ایسا تو نہیں وہ

کیا جانیئے تو نے اسے کس آن میں دیکھا

ہماری قوم کی کیفیت بھی کم وبیش ایسی ہی ہے ۔ اسکے بارے میں اندازے لگانے اتنے آسان بھی نہیں کیونکہ ہم بحیثیت قوم بڑی مائع سی شخصیت رکھتے ہیں ۔ جس پیمانے میں ڈالیں ویسے ہی دکھائی دیتے ہیں سو اکثرلوگ دھوکہ کھا جاتے ہیں ۔عجب بات یہ ہے کہ مائع ہوتے ہوئے بھی ہماری کوئی یادداشت دکھائی نہیں دیتی ۔ ہم کسی بھی بات پر کسی جھوٹ پر کوئی رد عمل نہیں دیتے ۔ وہ لوگ جو ہمیں مسلسل لوٹتے رہتے ہیں ۔ ہمارے ساتھ مسلسل دھوکہ دہی کرتے ہیں ، وہ انتخابات کے سال میں اچانک ہی پینترا بدل کر اس قوم کے سب سے بڑے خیر خواہ بن جاتے ہیں تو بھی ہماری پیشانیوں پر شکن تک نہیں ابھرتی ۔ ہم اتنا بھی نہیں کہتے کہ ہم جانتے ہیں ۔ ہم یوں انجان بن جاتے ہیں گویا پچھلی ہر یا دہمارے ذہنوں کے کہیں نہال خانوں میںکہیں موجود نہ ہو ۔ یا جیسے یہ سب کبھی ہوا ہی نہ ہو اور پھر وہ بھی لوگ ہیں جو ہمارے لیے ہمیشہ ہی محترم رہے ہیں ۔ جو ہمارے آزمائے ہوئے ہیں ، جو ہمیں کبھی نقصان نہیں پہنچا تے لیکن اس سب کے باوجود ان کے بارے میں بھی ہمارا رویہ کبھی نہیں بدلتا ۔ان کے بارے میں ہماری کیفیت وہی رہتی ہے کہ جیسے ہم ان لوگوں سے واقف ہی نہیں نہ ہم ان کی اچھائی کوجانتے ہیں اورنہ ہی کسی برائی سے واقف ہیں۔ میں حیران رہتی ہوں کہ ایک طرف مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ایسے بیانات سننے کو ملتے ہیں کہ آصف علی زرداری اور شرجیل میمن نے لوٹ کھسوٹ میں ڈاکٹریٹ کر رکھی ہے اور دوسری طرف آصف زرداری کہتے ہیں کہ وہ نکلیں گے تو لاہور بند ہو جائے گا۔ شفاف انتخابات کے لیے وہ تمام جماعتوں سے رابطے کرنے کے لیے تیا ر نہیں ۔ ساری انتخابات کی تیاریاں ہیں ۔انہی تیاریوں کے مناظر ہم نے پہلے بھی دیکھے ہیں ۔ انہی دشمنوں کے گٹھ جوڑ بھی ہم نے دیکھ رکھے ہیں ۔ یہ ساری باتیں ہمیں یاد ہونی چاہئیں ۔ ہمیں یا د ہونا چاہیے کہ آصف علی زرداری کو بے نظیر بھٹو کی پہلی وزارت عظمیٰ کے دوران مسٹرٹین پرسنٹ کہا جاتا تھا اور دوسری وزارت عظمیٰ کے دوران ان کا عہدہ بڑھ کر مسٹر ہینڈ رڈ پرسنٹ ہوگیا تھا ۔ آصف علی زرداری کی اپنی صدارت کے دور میں بد عنوانی اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ لوگ پناہ مانگا کرتے تھے ۔وہی لوگ جو اب حیرت بھری نگاہوں سے جناب آصف علی زرداری کا چہرہ تکا کرتے ہیں کہ یہ کون صاحب ہیں ۔ ان کے شفاف انتخابات کے مطالبے کو بھی سچ سمجھتے ہیں اور اگر وہ گھروں سے نکلنے کا اعلان کردیں تو یہ لوگ ان کا کہا مان کر جو ق درجوق نکلیں گے کہ شفاف انتخابات کی بات ہورہی ہے حالانکہ اگر کوئی عوام سے شفاف انتخابات کے بارے میں پوچھے تو سچ پوچھیئے انہیں اس کے بارے میں بھی کوئی علم نہ ہوگا ۔ مسلم لیگ (ن) کوہی دیکھئے جنہیں آصف علی زرداری اور شرجیل میمن کی لوٹ کھسوٹ دکھائی دیتی ہے لیکن اپنا کوئی بھی کیا دھرا دکھائی نہیں دیتا ۔ ان کا کمال یہ ہے کہ انہیں پاناما کیس تک یاد نہیں ۔ وہ پاناماکیس جس کا فیصلہ عدالت میںمحفوظ ہے اور ان کی ڈھٹائی کا عالم یہ ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ پانا کیس میں کوئی جان نہیں حالانکہ یہ سب جانتے ہیں کہ پاناما کیس ایسے بے شمار کیسز میں تو اتنی جان ہوتی ہے کہ انہیں قابو کرنا مشکل ہوتا ہے ، تبھی تو اس کیس کا فیصلہ عدالت نے محفوظ کر رکھا ہے ۔ کیونکہ اگر یہ شیر پنجرے سے نکل آیا تو کون جانے کتنی تباہی مچائے گا ۔ اور بات یہیں تک کہاں ختم ہوتی ہے ۔ بدعنوانی کے عنوانات کے تو دفتر کے دفتر بھرے ہوئے ہیں ۔ کچھ سمجھ نہیں آتی کہاں سے شرو ع کیا جائے ۔انتہا کے بارے میں سوچنا محال لگتا ہے اور اسکے باوجود ان کے سینے چوڑے ہیں کیونکہ یہ جانتے ہیں اس قوم کی کوئی یادداشت نہیں ۔ کئی بار تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ قوم حالت انکار کا شکار ہے ۔ یہ Denial یہ انکاران کا ایک حفاظتی طریقہ ہے ، اپنی ذہنی کیفیت کی حفاظت کرنے کا خود اپنے پندار کی حفاظت کرنے کا ۔یہ اپنا تحفظ ہی انکار سے کر رہے ہیں ۔یہ انکار انہیں اس بد عنوانی کے سیلاب میں خس وخاشاک کی طرح بہہ جانے سے روک رہا ہے ورنہ زرداری ،نواز شریف اور ایسے ہی اندھے کنوئیں ہمیں نگل گئے ہوتے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر کب تک ہم اس کیفیت کا شکار رہیں گے ۔کبھی تو اس نیند سے جاگنا ہوگا ورنہ ہماری حالت کبھی نہ بدلے گی ۔

متعلقہ خبریں