Daily Mashriq


بتا تیری رضا کیا ہے؟

بتا تیری رضا کیا ہے؟

خودی کی بلندی اور غریبی میں نام پیدا کرنے کی فکر دینے والے اقبال اگر اس سال کے یومِ پاکستان پر زندہ ہوتے تو پریڈ گراؤنڈ میں عسکری اور جمہوری قیادت کو اپنے اپنے آئینی کردار میں اکٹھا کھڑے دیکھ کر خوش ہونے کیساتھ ساتھ یقینا یہ سوچتے کہ قراردادِ پاکستان کی سلور جوبلی منانے کے باوجود میری اس قوم نے دیارِ عشق میں اپنا مقام، زمانہ یا کوئی نئی صبح وشام پیدا کی؟ پاکستان کا خواب دیکھتے ہوئے ہمارے بزرگوں نے اقبال کے جس طریقِ فقیری کیلئے حامی بھری کیا آج کا پاکستانی اس طرز کی زندگی گزارنے کا سوچ بھی سکتا ہے؟ کیا آج کا پاکستانی جمہور1980ء میں دی گئی حبیب جالب والی دس کروڑ کی تشبیہہ سے مختلف ہے؟ جمہوریت اور شراکتِ اقتدار کے فلسفے پر یقین رکھنے والا میرے جیسا عام فہم انسان بھی کبھی کبھی یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ کیا ہم بحیثیتِ قوم اس قابل ہو چکے ہیں کہ اپنے لئے صحیح حکمران چن سکیں؟ ہم حکمران اور سیاسی نمائندوں پر تو ہر وقت تنقید کے نشتر چلاتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ انکو ہم ہی نے چنا ہے اور انکا ہماری سوچ جیسا ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ میں اس قومی پست حالی کیلئے ایک راشی حاکم کو بھی اتنا ہی ذمہ دار سمجھتا ہوں جتنا ایک ملاوٹی گوالے کو۔ ایک ملاوٹی دودھ بیچنے والا بھی اتنا ہی ملک دشمن ہے کہ جتنا ملکی راز فاش کرنے والا غدار۔ جو قوم دودھ کے دھوکے میں ڈٹرجنٹ، بکرے کے دھوکے میں گدھا، لال مرچ کے دھوکے میں اینٹیں، دال کے دھوکے میں کنکر اور گھی کے دھوکے میں آلائشوں کی چربی کھلانے والوں کیساتھ ذاتی مفاد میں رسمِ دنیا، موقع اور دستور نبھائے اس قوم کو اپنی ریاست اور مستقبل کو داؤ پر لگانے والوں کیساتھ گلے ملنے بلکہ سونے کے تاج پہنانے میں کوئی جھجھک کیسے محسوس ہو سکتی ہے؟ جو قوم قطار بنانے میں شرم اور ٹریفک سگنل پر رکنے میں اپنی عار محسوس کرے وہ قوم پانامہ لیکس، ایبٹ آباد آپریشن، گالیوں والی سیاست اور میموگیٹ پر شرمندہ ہونے کے بجائے انہیں قصرِسلطانی کے گنبد کا پڑاؤنہ سمجھے تو اور کیا سمجھے؟ ہمارے بڑوں کا خواب جس پاکستان کی تعبیر کیلئے تھا اس پاکستان میں بسنے والوں کا بسیرا قصرِ سلطانی کے گنبد پر نہیں بلکہ خودی کی اس بلندی پر منحصر ہے کہ جس میں خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے۔ یہ ایک پل صراط ہے کہ جس سے گزر کر ہی قومیں اپنی تقدیر بدلتی ہیں۔ اس قوم کو اپنی تقدیر بدلنے کیلئے کسی فلمی ہیرو یا کوہ کاف کی پری کے انتظار کی بجائے اپنے اعمال ٹھیک کرنے ہونگے۔ یہ سب نا ممکن نہیں صرف ایک نسل کی دوری پر ہے ہماری کامیابی یا ناکامی۔ عوام اور حکمرانوں کو مل کر معاشرے کی کچھ اکائیوں پر محنت کی ضرورت ہے تاکہ آنیوالے بچے ہماری ملت کے معمار بن سکیں۔ ان میں سب سے پہلے ماں کی گود۔ ایک انسان کوزندگی کی بنیادی تصویر اسکی ماں کی گود سے ملتی ہے۔ ایک روشن خیال اور صحتمند ماں ہی ایک بہتر معاشرے کا پہلا ستون ہے۔ اسکی دوسری اکائی گھر اور محلہ ہے۔ بچہ زندگی کے بنیادی اصول اپنے بڑوں اور اپنے ارد گرد کے ماحول سے سیکھتا ہے۔ اگر وہ ماحول چوری، جھوٹ، فریب اور منفی تقابلے والا ہوا تو وہ بچہ بھی اسی ماحول میں پروان چڑھے گا۔ اس کیلئے غلط اور صحیح کے معنی اور نظریہ ترقی یافتہ دنیا کے بالکل برعکس ہوجائیگا۔ معاشرے کی تیسری اکائی ہے مذہب۔ جدت پسندی اور اسلام مخالف پراپگینڈا نے ہمارے بہت سارے دوستوں کو یہ سوچنے پر اکسایا ہے کہ شاید سارے مسائل کی جڑ ہی اسلام یا دنیا کے باقی مذاہب ہیں۔ جبکہ حقیقتاً مذہبی رواداری اور اخلاقیات میں پروان چڑھنے والا شخص دنیا کے باقی باشندوں کیلئے ہمیشہ امن و آشتی لائے گا نہ کہ ظلم و جبر۔ معاشرے کی چوتھی اکائی اسکول ہے جو ایک انسان کو زندگی گزارنے اور ترقی کرنے کے طریقے سکھاتا ہے۔ جبکہ معاشرے کی پانچویں اکائی قانون ہے۔ اب آپ خود ہی اندازہ کرسکتے ہیں کہ معاشرے میں یہ اکائیاں جس نہج پر کھڑی ہونگی اس معاشرے میں پلنے والا ہر بچہ اپنی ماں کی گود، اپنے گھر و محلے، اپنے مذہب، اپنے اسکول اور اپنے تھانے اور کچہری سے جو پائے گا وہ اس امانت کو سود سمیت واپس کرے گا۔ ہمارے معاشرے میں یہ اکائیاں کتنی فعال ہیں یہ بات ہم سب پر آشکار ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں آمریت اور جمہوریت کی آنکھ مچولی نے تو ہمیں تعلقات اور مطلب پرستی کی ایسی دلدل میں دھکیل دیا ہے کہ ہمارے آگے انصاف کی بنیادی تعریف ہی اپنی وقعت کھو بیٹھی ہے۔ مثلاً عام طور پر تو میرٹ اور انصاف کا راگ الاپنے والے میرے جیسے کئی افراد جب اپنی ذات کی بات آئے تو میرٹ اور انصاف کی نئی نئی تشریحات لیکر اپنے آپ کو اور باقیوں کو مطمئن کر لیتے ہیں۔ اس ملک کا مستقبل ایک مضبوط اور سچی جمہوریت پر ہے پر یہ جمہوریت آئے گی کیسے۔ اور اگرمان لیں کہ معجزہ ہوبھی جائے تو وہ چلے گی کیسے؟ بچہ جمہورا کی ڈگڈگی بجاتا آج کا میڈیا بھی تو خبر کے پیچھے اسکے اسباب بھول جاتا ہے۔ اب ایسی صورتحال میں ''ہم سب کا پاکستان''تب ہی ترقی کر سکتا ہے کہ جب اسکے معاشرے کی بنیادی اکائیاں ٹھیک کام کریں۔ ہم انفرادی طور پر اپنا کام سچائی اور ایمانداری سے کریں۔ گھر، محلہ، سڑک، اور کام کی جگہ پر بھی اسی جمہوریت کا مظاہرہ کریں کہ جو ہم سیاسی رہنماؤں سے چاہتے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی اور گومل یونیورسٹی میں ہونے والے واقعات سے لیکر اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری تک اب ہمیں دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں بھی جھانکنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں