Daily Mashriq


مصروفیت کاہونا ۔۔۔

مصروفیت کاہونا ۔۔۔

انسان موڈز کے مطابق زندگی گزارتا ہے ۔وہ شاعر کہتا ہے ناکہ 

جیسا موڈ ہو ویسا منظرہوتا ہے

موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے

اس موڈ کی سرشت میں بے چینی موجود ہے ۔جیسے مصروفیت اگرنہ ہوتو بندہ بور ہوجاتا ہے اور مصروفیت کے بہانے تلاشنا شروع کردیتا ہے اور اگر مصروفیت حد سے بڑھ جائے تو بھی انسان کی روزمرہ زندگی ، مزاج وغیرہ پر برا اثر پڑتا ہے ۔ بہرحال یہ طے ہے کہ مصروفیت نہ ہونے سے مصروفیت کا ہونابہت بہتر ہے ۔یہ الگ بات کہ شاعر فرصت کے شب و روز کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے اور وہ بھی تصور جاناں کی جگالی کرنے کے لیے ۔اب اگر تصور جاناں اتنا ہی ضروری ہے تو مصروفیت ترک کردینا تو بندے کے اختیار میں ہے ،چھوڑ دو سارے کام اور بیٹھ جاؤ تصور جاناں کرنے کے لیے ،لیکن یہ تصور جاناں کہیں دوسری تیسری ترجیح میں آتا ہے ورنہ اگر یہ پہلی ترجیحات میں ہوتا تو بازاروں کے بازار اور دفتروں کے دفتر خالی پڑے ہوتے اور سب لوگ تصور جاناں کے مزے لوٹ رہے ہوتے کیونکہ ہرکسی کا کوئی نہ کوئی جاناں تو ہوتا ہی ہے ۔چاہے وہ ا نسانی پیکر ہویا کوئی خیالی تصور یا کوئی مادی شے جو شدید مطلوب ہو۔لیکن اگر ایسا سوچا جائے تو اتنا اچھا شعر کیسے ہوپائے ۔

ہمارے لیے بھی گزشتہ شب وروز کچھ زیادہ ہی مصروف گزرے ،اتنے مصروف کہ کالم لکھنے کی اپنی عادت کو بھی سہلانا پڑا کیونکہ بعض اوقات ذاتی ترجیحات کو ازسرنو مرتب کرنا ہی پڑتا ہے ۔ اور آج جب کالم لکھنے بیٹھے ہیں تو ذہن نے احتجاج شروع کردیا ہے کہ محترم ہم کوئی کمپیوٹر تو ہیں نہیں کہ جب آپ نے آن کیا ہم نے کالم گڑھنا شروع کردیا ۔بات ہے بھی ٹھیک کہ جب تک ذہن آمادہ نہ ہوکالم کیسے لکھا جائے ۔ ہم تو بہرحال اس زعم پر قلم کاغذ اٹھالیتے ہیں کہ ارد گرد پھیلے مسائل کے انبار میں سے کسی ایک مسئلے کو اٹھائیں گے اور قلم کی قینچی سے اس کا تیا پانچہ کردیں گے ۔کالم نگار سے کس نے پوچھنا ہوتا ہے کہ جناب آپ نے تو اس موضوع کا حلیہ ہی بگاڑ دیا ہے ، کیونکہ یہ تو کالم نگار کا پیدائشی حق ہے کہ کسی بھی موضوع کو کیسے برتے،اچھے برے کا تعین تو کسی نے کرنا ہی نہیں یہ تو بیچارے شاعر ادیب ہوتے ہیں کہ جن کے پیچھے نقاد لگے ہوتے ہیں اور ان کے شعر و نثر پر اپنے تبصرے کرکے انہیں اچھا اور براادب قرار دے دیتے ہیں ۔شاعر و ادیب اس پر خوب سیخ پاہوتے ہیں لیکن کر بھی کیا سکتے ہیں کہ نقاد کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی تحریر کو برایا اچھا قراردے دے ۔اب کالم نگاروں کو نقاد کی سہولت میسر نہ ہونے کا نقصان یہ ہے کہ وہ ہر موضوع پر ہاتھ صاف کردیتا ہے ۔ گزشتہ دنوں ایک بڑے اخبار کے ایک بڑے کالم نگار نے علامہ اقبال کو ان کے ان اشعار پر خوب رگید دیا کہ جو اشعار ابھی تک علامہ نے کہے بھی نہیں ۔ اس کالم پر علامہ کے چاہنے والوں نے بہت لے دے کی لیکن ان صاحب سے اتنا بھی نہ ہوا کہ اگلے کالم میں اپنی غلطی مان لیتے کیونکہ کالم نگار بھلا کیسے غلطی مان سکتا ہے وہ تو عقل کل ہوتا ہے ۔ اس سے یہ مطلب بھی لیا جاسکتا ہے کہ وہ اشعار اقبال کے ہی تھے لیکن عوامی دباؤ کی وجہ سے اسے شائع نہ کر پائے تھے ۔اتنی چھٹیوں کے بعد آج کے اس کالم کو ایک سٹارٹر تصور کرلیں کہ ہم نئے سرے سے ایک کام کرنا چاہتے ہیں اور وہ کام بھی کوئی نیا نہیں ہے لیکن بریک آجانے کی وجہ سے کچھ نیا نیا سا لگنے لگا ہے ۔ جیسے گاڑی کچھ دن کے لیے کھڑی ہوجائے اور جب اسے دوبارہ سٹارٹ کیا جائے تو اس میں مسائل سامنے آجاتے ہیں ۔

لیکن جب ایک دفعہ سٹارٹ ہوجائے توچلتی کا نام گاڑی والی صورتحال ہوتی ہے ۔ خدا جانے سماج میں پھیلے اتنے مسائل میں ہمیں کوئی مسئلہ کیوں میسر نہیں آتا کہ جس کو موضوع کرلیں ۔ آصف زرداری کا اچانک سیاسی منظر نامے میں داخل ہوکر سلطان راہی کی طرح بھڑکیں مارنا پر ، ایان علی کی رہائی اور بیرون وطن روانگی ، انڈیا میں مذہبی جنونیوں کا الیکشن جیت جانا ،ٹرمپ کی ''ٹرمپیاں ''اور بہت سی ایسی خبریں ہیں کہ جن پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے لیکن یہ سب خدا جانے ہمارے رجحان کو متاثر کیوں نہیں کرتے ۔کیونکہ ٹی وی تو ہمیں سب کچھ دکھاتا ہے اور وہ بھی دکھاتا ہے جو دکھانا بھی نہیں چاہیئے ، یہ بھلا کہاں کا انصاف ہے کہ پہلے سے ڈی پریس لوگوں کو اپنے تبصروں سے مزید پریشان کیا جائے ۔خوشیاں کم کم ہیں کہ جن پر لکھا جاسکے ۔ ہم تو ان لوگوں میں سے ہیں کہ خوشیوں کو بھی متنازعہ بنادیتے ہیں ۔ ایک پی ایس ایل آیا تو اس میں بھی ہماری یادو ں میں ریلوکٹے اور پھٹیچر ہی رہ گئے ہیں اور قومی یکجہتی کے سارے خوبصورت حوالے کہیں پنہاں ہوگئے ہیں ۔ سیاست ہمارا قومی المیہ بن چکا ہے ۔اچھی اور بری دونوں چیزوں کو ہم سیاست کے تناظر میں دیکھنے لگتے ہیں ۔ اور جب چیزوں کو ان کی حقیقی حیثیت سے ہٹ کر دیکھا جاتاہے تو اس چیز کی روح کہیں اداسیوں کی اترائیوں میں اتر جاتی ہے اور اس کے وہ شوخ رنگ جو آنکھوں کو خیرہ کرتے تھے وہ پھیکے بن جاتے ہیں ۔ یہ سب باتیں سوچوتو اداس کردیتی ہیں ۔ اداسی بھی ایک قسم کی نحوست ہے بندے کو باندھ کررکھ دیتی ہے اور بندہ اپنے امکانات سے بھی مستفید نہیں ہوپاتا۔ اس سے بڑا نقصان اور کیا ہوسکتا ہے۔ لیکن ہمیں اپنے نفع نقصان کا بھلا کیا شعور ۔ اور یہ تو اللہ کا فرمان ہے کہ انسان خسارے میں ہے ۔