Daily Mashriq


اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی' امکانات و خدشات

اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی' امکانات و خدشات

او آئی سی کی تشکیل میں اگرچہ بیت ا لمقدس کے ایک حصے کو اسرائیل کی صیہونی حکومت کے ہاتھوں آگ لگانے کے واقعے کا بڑا کرداار تھا لیکن مسلمان ممالک کے درمیان اتحاد و تعاون مسلمان عوام کی ہمیشہ خواہش رہی ہے۔ لہٰذا جب بھی مسلمانوں پر کوئی افتاد پڑی ہے مسلمان عوام نے امت کی سطح پر اکٹھے ہو کر اس کا مقابلہ کرنے کی آرزو کی ہے۔ امت اسلامیہ کے پیچھے ایک ہونے کی خواہش میں قرآن و سنت کی وہ تعلیمات ہیں جس نے کبھی قبائل و شعوب میں تقسیم عربوں کو بھائی بھائی بنایا تھا۔ اور پھر اخوت کا یہی پیغام پھیلتے پھیلتے ایشیاء اور افریقہ تک پہنچ گیا۔ یوں عرب و عجم الگ الگ رنگ و نسل اور جغرافیہ کے باوجود ایک ہی امت کے افراد بن گئے۔مہاجر اور انصار بھائی چارے کی ایسی لڑی میں پرو گئے کہ موت تک وہ لڑی کہیں کمزور نہ ہوئی۔ آج بھی عالم اسلام پر جب غیر مسلم طاقتوں کی طرف سے کوئی تکلیف اور مصیبت آتی ہے یا قدرتی آفات سے مسلمانوں کو مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو آواز آتی ہے کہ کونوا عباداللہ اخواناً '' اللہ کے بندوں بھائی بھائی بن جائو'' یہ تعلیمات اتنی طاقتور ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو ایک جسم کی مانند قرار دیا ہے۔ جسم کے کسی بھی حصے میں کوئی تکلیف ہو تو پورا جسم تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے۔ باہمی اتحاد و تعاون کے حوالے سے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو مثال بیان فرمائی ہے وہ دیوار کی اینٹوں کی ہے جو ایک دوسرے سے جڑی ہوئی اور ایک دوسرے کو تقویت دینے والی ہوتی ہیں۔اب بھی اگر کسی غیر جانبدار سروے کے ذریعے مسلمان عوام کی رائے معلوم کی جائے تو مسلمانوں کے درمیان اتحاد و تعاون ہر مسلمان کے دل کی آواز ہوگی۔ اگرچہ بعض حضرات یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ اب امت و خلافت کی باتیں کرنا ذہنی عیاشی کے سوا کچھ نہیں کیونکہ پورے عالم اسلام میں قومی ریاستوں کا وجود اس چیز کے بالکل خلاف ہے اور عثمانی خلافت کے بعد مسلمانوں کو استعمار کے ہاتھوں جو چرکے لگے اس حوالے سے عالم اسلام کی طرف سے کوئی موثر متفقہ رد عمل سامنے نہ آسکا لیکن اس کے باوجود ایسے واقعات بھی ہیں کہ پابندیوں' مشکلات اور نا ساز گار حالات کے باوجود مسلمان عوام نے ہمیشہ ایک دوسرے کی ہر ممکن مدد کی ہے۔ اس کے پیچھے بھی گئے دنوں کی خلافت کے اثرات تھے۔ ترکی اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں تو ''تحریک خلافت'' کے دنوں کی یادیں اور قربانیاں آج تک بنیادی کردار ادا کر رہی ہیں۔ اسی طرح سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تعلقات اور محبت میں حرمین الشرفین سے پاکستانیوں کی لا زوال محبتوں اور عقیدتوں کا بے مثال کردار ہے۔ خلیجی ممالک کے درمیان GCC کی سطح پر تعاون اور اتحاد اسلامی اخوت کا مظہر ہے۔ شاہ فیصل شہید چونکہ عرب حکمرانوں میں اپنی مثال آپ تھے اور آپ کو قرآن و سنت سے والہانہ عقیدت تھی اس لئے انہوں نے او آئی سی کی سطح پر مسلمان ممالک کو ایک چھت کے نیچے جمع کرنے میں سر گرم کردار ادا کیا۔ لیکن برا ہو سیاست کاذبہ کا اور عالمی استعمار کا ورنہ افغانستان پر روسی جارحیت کے سامنے عالم اسلام نے جس اتحاد کا مظاہرہ کیا اس میں عالم اسلام کے دلوں میں اسلامی اخوت کاجو جذبہ کار فرما رہا اس نے اپنے وقت کے معجزے برپا کردئیے تھے۔آج جب عالم اسلام اور بالخصوص سعودی عرب کے اڑوس پڑوس میں جو پر آشوب حالات رونما ہوئے ہیں اور اس کے برے اثرات (خدا نہ کرے) حرمین الشرفین تک پہنچنے کے خطرات و خدشات ہوسکتے ہیں تو ان مذموم حالات سے نمٹنے کے لئے اسلامی فوجی اتحاد وقت اور فطرت کا عین تقاضا ہے۔ سعودی عرب نے شاہ فیصل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بہت اچھا اقدام کیاہے۔ اس فوج کی سربراہی کے لئے پاکستان نے جس عظیم سپوت کا انتخاب کیاہے یہ بھی کمال ہوا ہے۔ اب اس سلسلے میں بعض لوگ جو سوالات اٹھاتے ہیں ان کا مدلل جواب دینا ضروری ہے تاکہ اس اتحاد کو کسی قسم کے اختلاف سے محفوظ رکھ کر اس سے وہ کام لیا جاسکے جس کے لئے بنایاگیا ہے۔اس اتحاد میں عالم اسلام کے تقریباً سارے بڑے ممالک شامل ہیں اور کسی بھی اسلامی ملک کے اس میں شامل ہونے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ ایک قابل ذکر ملک ایران اس میں شامل نہیں ہیاوراس حوالے سے تحفظات کا اظہار بھی کرتا ہے ۔ ایران کے علاوہ عراق' شام اور یمن بھی اس اتحاد میں شامل نہیں ہیں۔ اب یہ بات کس کو معلوم نہیں کہ ان تینوں ممالک پر اس وقت ایران کے گہرے اثرات ہیں اور ایران ان کے معاملات میں سر تا پا ملوث ہے اور خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب میں انہی تین ممالک میں برپا صورتحال سے خطرات لاحق ہیں۔ ان تینوں ممالک میں داعش موجود اور بر سر پیکار ہے۔ ظاہر بات ہے کہ داعش سے نمٹنا کسی اکیلے ملک کا کام نہیں اور اب تو افغانستان تک میں اس کی موجودگی اور کارروائیوں کااعتراف ہو چکاہے۔ لہٰذا ایران کو چاہئے کہ اس اتحاد میں شامل ہو کر عالم اسلام کو درپیش خطرات کا سدباب کرنے میں امت کی سطح پر اپنا موثر کردار ادا کرے اور اگر کہیں کسی معاملے پر اختلاف نظر رکھتا ہے تو او آئی سی کا اجلاس بلاکر کھلے الفاظ میں اپنا موقف پیش کرکے اسلامی ممالک کی اکثریت کو اپنا ہمنوا بنا کر اصلاح احوال کرے۔ اسلامی فوجی اتحاد میں تو اڑتیس ممالک شامل ہیں۔ کسی نہ کسی نے تو اس اتحاد کی سربراہی کرنی تھی۔ لہٰذا پاکستان کے لئے یہ فخر کی بات ہے۔

متعلقہ خبریں