Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

مرواح بن مقتل ایک سید تھے جو قاہر ہ میں رہتے تھے ، ان کی آنکھوں میں بادشاہ وقت نے سلائی پھر وادی تھی ۔ جس کے صدمے سے دماغ پک گیا اور پھول گیا ۔ ایک عرصہ بعد وہ مدینہ منورہ چلے گئے اور روضہ اطہر کے قریب کھڑے ہو کر اپنا حال زار بیان کیا ، جب سوئے تو خواب میں جناب نبی کریم ۖ تشریف لائے اور ان کی آنکھوں پر پنا دست مبارک پھیرا ۔ بیدار ہوئے تو آنکھیں بالکل درست تھیں ۔جب قاہرہ واپس ہوئے تو بادشاہ ان کی آنکھوں کو درست پا کر بہت ناراض ہوالیکن لوگوں نے بتایا کہ مدینہ منورہ تک یہ اندھے تھے اور وہاں پہنچ کر یہ واقعہ ہوا ، تب بادشاہ نادم ہوا ۔ (دینی دسترخوان ، جلد ، اول )

اکبر بادشاہ کے زمانے میں ایک مشہور شاعر گزرے ہیں ،جن کا تخلص ''فیضی '' تھا ۔ ایک مرتبہ ''فیضی '' حجام سے خط بنوارہے تھے ۔ اور داڑھی بھی صاف کر رہے تھے ۔ اس وقت ایک بزرگ ان کے قریب سے گزرے اور فرمایا : آغا ! ریش می تراشی ؟ جناب ! کیا آپ داڑھی منڈوارہے ہیں ؟ کیونکہ فیضی شاعر علم و فضل کے بھی مدعی تھے ، انہوں نے ہی قرآن کریم کی بغیر نقطوں کی تفسیر لکھی ہے ۔ ان بزرگ کا کہنا یہ تھا کہ تم عالم ہو ۔ تمہیں سرکاردو عالم ۖ کی سنت کے بارے میں علم ہے ۔ پھر بھی تم یہ کام کر رہے ہو ؟ جواب میں فیضی نے کہا: ''بلے ، ریش می تراشم ۔ دل کسے نمی خراشم ''جی ہاں ، میں داڑھی منڈوا رہا ہوں ۔ لیکن کسی کا دل نہیں توڑرہا ہوں ۔ گویا کہ فیضی نے طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ میں تو یہ ایک گنا ہ کر رہا تھا لیکن تم نے مجھے یہ کہہ کر میرا دل توڑ دیا ۔ جواب میں ان بزرگ نے فرمایا :'' ولے ، دل رسول اللہ می خراشی ''کسی اورکا دل تو نہیں توڑرہے ہو ، لیکن رسول اکرم ۖ کا دل توڑرہے ہو ۔ اس لیے سرکار دوعالم ۖ نے منع فرمایا کہ یہ کام مت کرو ۔اس کے باوجود تم کر رہے ہو ۔ (گناہ چھوڑ نے کے آسان نسخے )

حضرت شیخ سعدی فرماتے ہیں کہ ایک گدھ چیل کے سامنے بولا کہ مجھ سے زیادہ دور بین کوئی نہیں ہوگا ۔ چیل بولی کہ اتنی زیادہ شیخی اچھی نہیں ہوتی ۔ حضر ت سعدی فرماتے ہیں کہ ایک دن کے فاصلے سے گدھ نے اوپر سے نیچے نظر دوڑائی اور چیل سے بولا کہ اگر تجھے یقین آجائے تومیں نے دیکھا ہے کہ گیہوں کا ایک دانہ زمین پر پڑا ہے چیل کو تعجب کی وجہ سے یقین نہ آیا ۔ اس نے سر اونچائی سے نشیب کی طرف کر دیا ۔ جب گدھ دانہ کے قریب پہنچا ۔ وہ شکاری کے بچھائے ہوئے پھندے میں بری طرح پھنس گیا ۔ چیل نے جب گدھ کو جال میں پھنسے دیکھا تو گدھ سے بولی : اس دانے کے دیکھنے سے کیا فائدہ ، جب تجھے دشمن کے جال کی بینائی نہ تھی ۔ حضرت سعدی فرماتے ہیں کہ وہ کہہ رہا تھا اور اس کی گردن پھنسی تھی ۔ تقدیر سے بچائو مفید نہیں ہے ، موت نے جب اس کا خون بہانے کے لیے ہاتھ نکال لیا تو تقدیر نے اس کی باریک بینی بند کردی ، جس پانی کا کنارہ موجود نہ ہو اس میں تیراک کا غرور کام نہیں آتا ہے ۔

(بوستان سعدی )

متعلقہ خبریں