Daily Mashriq

ملاقات اور ڈیل کی بازگشت

ملاقات اور ڈیل کی بازگشت

وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کی چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار سے بغیر پروٹوکول سپریم کورٹ میں ملاقات کو ملک میں جاری سیاسی محاذآرائی کے موجودہ ماحول میںغیر معمولی قراردیا جارہاہے۔خیال رہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے جب چیف جسٹس ثاقب نثار نے وزیراعظم سے ملاقات کی۔ ماضی میں بھی وزیراعظم اور چیف جسٹس کے درمیان ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں مگر اس غیرمعمولی ملاقات کے بعد ملک میں مختلف چہ میگوئیاں شروع ہوگئی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے اس ملاقات بارے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ ملاقات کامناسب وقت نہیں تھا اس سے شکوک و شبہات جنم لیں گے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی زیر صدارت پارٹی کے مرکزی قائدین کے غیر معمولی اجلاس میں نواز شریف اور انکے خاندان کیلئے کسی قسم کا این آر او قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اورکہاگیا کہ نواز شریف کیساتھ وہی برتائو کیا جانا چاہیے جیسا چوری اور دیگر جرائم میں ملوث عام شہریوں کیساتھ کیا جاتا ہے۔اجلاس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو پاکستان سے باہر بھجوانے کی کوششوں پر شدید تحفظات کا اظہارکیا گیا ۔ تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات و ترجمان فواد چوہدری نے اجلاس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے اداروں سے بات چیت کا بیان انتہائی تشویشناک ہے۔قانون کے یکساں اور بے لاگ نفاذ کے علاوہ کوئی راستہ قابل قبول نہیں۔ احتساب کا عمل بلا تعطل مکمل ہونا چاہیے ۔وزیر اعظم پاکستان اور چیف جسٹس کے درمیان ملاقات اصولی قانونی اور اخلاقی طور پر بالکل ہی مناسب ہے۔ اگر یہ ملاقات اداروں کے درمیان مکالمہ کی ابتداء تھی تو اس سے احسن اقدام کوئی نہیں۔ بہر حال اس کے محاسن و نتائج کی تفصیل سامنے آنے کے بعد ہی اس حوالے سے کوئی حتمی رائے قائم کرنا ممکن ہوگا۔ فی الوقت تو اس حوالے سے کوئی ایسی تفصیلات دستیاب نہیں جو قابل ذکر ہوں لیکن اگر اس ملاقات کا تعلق کسی طرح سے بھی سیاست سے ہو تو اس ملاقات سے مختلف قیاس آرائیوں کا جنم لینا فطری امر ہوگا۔ دیکھا جائے تو اس ملاقات کو اسی تناظر میں لیاگیا ہے۔ اس ملاقات بارے یہاں تک کہا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم کا چیف جسٹس سے جا کر ملنا نواز شریف کی بہت بڑی سیاسی ناکامی ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی تھی کہ وزیر اعظم نے ایک ایسے وقت میں چیف جسٹس سے ملاقات کی ہے جب ان کی کابینہ کے کچھ وزراء کے مقدمات سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کا تاثر انسانی جبلت کے عین مطابق ہے اور اسی وجہ سے ہی اس قسم کے تاثرات ابھر رہے ہیں وگرنہ وزیر اعظم اورچیف جسٹس کی ملاقات کوئی انہونی بات نہیں جس پر قیاس آرائیاں کی جائیں۔جہاں تک پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی جانب سے اس حوالے سے اعتراضات اور تحفظات کا تعلق ہے دیکھا جائے تو اس حوالے سے ان کے تحفظات اور اعتراضات بلا وجہ نہیں۔ وطن عزیز کی سیاست میں ڈیل اور ڈھیل ‘ این آر او‘ جلاوطنی کا دس سالہ معاہدہ اور سمجھوتہ کوئی انہونی بات نہیں ممکن ہے اسوقت اس قسم کا کوئی اور قسم کا فارمولہ زیر غور ہو۔ اس امر کو تقویت اس بات سے بھی ملتی ہے کہ حال ہی میں نواز شریف کے لب و لہجہ سے تبدیلی کا اشارہنظر آیا ہے اور ان کے بیانئے میں شدت کی جگہ مصلحت کے تقاضے واضح ہوئے ہیں۔ وطن عزیز کی سیاست میں جتنی بھی سنجیدگی اور استحکام آئے جمہوریت کے پودے کی جڑوں میں کتنا بھی کھاد ڈالا جائے اس کا تنا اور پودے زمین میں استحکام کے بقدر جگہ نہیں پاتے اور بظاہر پھلتی پھولتی جمہوریت کو اچانک بلوچستان کی صوبائی حکومت کے تلپٹ کئے جانے اور سینیٹ کا چیئر مین کسی بھی سیاسی جماعت کا امیدوار نہ ہونے کے باوجود با آسانی منتخب ہونے کا نتیجہ سامنے آتا ہے جس سے سیاست میں مداخلت اور سیاستدانوں کی خود سپردگی از خود طشت از بام ہو کر سامنے آتی ہے۔ اسباب و قرائن وجوہات و حالات اور نوعیت سبھی اعتبار سے محولہ ملاقات کی بنیادی وجہ اور ضرورت سمجھ سے بالا تر ہے سوائے اس کے کہ سید خورشید شاہ اور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے تحفظات ‘ خدشات اور اعتراضات کو اہمیت دی جائے اور اسے ممکنہ ڈیل کی کسی سازشی کہانی سے جوڑا جائے اس کے بعد اگر شریف خاندان کو کوئی ریلیف ملتی ہے یا پھر دیگر معاملات میں ہتھ ہولا رکھنے کا کوئی معاملہ سامنے آتا ہے تو شکوک و شبہات یقین کی جانب جائیں گے اور ایک نئی بحث چھڑ جائے گی جس کے یقینا مسلم لیگ(ن) کی سیاست پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ عوام کی نفسیات کا جائزہ لیا جائے تو یہ ہمیشہ کمزور اور مشکل حالات سے دو چار عناصر کی حمایت اور ہمدردی کی طرف مائل رہتی ہے مگر جیسے ہی اس قسم کے حالات نہ رہیں تو ہمدردی کا جذبہ باقی نہیں رہتا اور معمول کا تناظر بحال ہوتا ہے اس قسم کے ماحول اور تناظر کی بحالی شریف خاندان اور بعض وزراء کے معاملات کو سیاسی بھینٹ کے طور پر قبول کرکے عوام کی سطح پر ہمدردیاں کھو دینے کا باعث بننا فطری امر ہوگا جس کا سیاسی جماعت کو متحمل ہونے کے لئے تیار نہیںہونا چاہئے۔ ہمارے تئیں سیاسی اور عوامی نقطہ نظر سے سزا یافتہ نواز شریف ڈیل کرنے والے سے کہیں زیادہ طاقتور اور عوامی ہمدردی کے حامل ہوں گے مگر لگتا ہے کہ اب اعصاب اس قدر مضبوط نہیں رہے کہ مسلم لیگ(ن) اپنے بیانیہ کو آگے بڑھا سکے۔ ممکنہ مفاہمت سے صرف ایک خاندان کی قسمت کی وابستگی محض اتفاقیہ ہوگی وگرنہ ڈیل اور ڈھیل کے معاملات میں کچھ لو کچھ دو کا اصول مروج ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہاں قیمت بھاری چکانی پڑے گی یہاں تک کہ ملک میں جمہوریت کو وقفہ بھی مل سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں