Daily Mashriq


صوبائی احتساب کمیشن کی ’’بے مثال‘‘ کارکردگی

صوبائی احتساب کمیشن کی ’’بے مثال‘‘ کارکردگی

ہمارے نمائندے کے مطابق انتظامی بحران سے دوچارخیبر پختونخوا احتساب کمیشن صوبائی خزانے پر بوجھ بن چکا ہے۔ ایک سال کے دوران احتساب کمیشن کے افسران اور ملازمین تنخواہوں، مراعات اور دیگر مدات میں17کروڑ57لاکھ روپے وصول کرنے کے باوجود کسی ایک فردکیخلاف بھی تحقیقات مکمل نہکرسکیں ۔ اختیارات کی جاری سرد جنگ کے باعث احتساب کمیشن محکموں اور اداروں کے خلاف صرف شکایات وصول کرنے تک محدود رہ گیا ۔کمیشن کو سال2017ء کے دوران 53محکموں اور اداروںکے خلاف مبینہ کرپشن، بے قاعدگیوں اوربے ضابطگیوں سے متعلق 567شکایات موصول ہو ئیں تاہم کسی بھی فرد کے خلاف تحقیقات کو عملی جامہ نہیں پہنایاجاسکا۔ہمارے نمائندے کی جامع رپورٹ میں ان محکموں کی تفصیلات بھی درج ہیں جن کے بارے میں شکایات موصول ہوئی تھیں۔ اس صورتحال پر جامع تبصرہ یہی ہوسکتا ہے کہ کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے کا۔ لیکن یہاں معاملہ گلاس توڑنے کا نہیں اور نہ ہی بارہ آنے خرچ ہوئے ہیں احتساب کمیشن کو صوبائی خزانے سے رقم کی ادائیگی ہی اس مد میں کی گئی کہ وہ قابل احتساب معاملات میں احتساب کا فریضہ انجام دے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملنے والی تمام شکایات نہ تو بالکل درست ہوںگی اور نہ ہی سبھی کی جلد سے جلد تحقیق و تفتیش ممکن تھی۔ کسی بھی شکایت پر تحقیقات مکمل کرکے معاملہ نمٹانے میں ناکامی اس امر پر دال ہے کہ گویا صوبائی احتساب کمیشن کاکوئی وجود ہی نہیں اور اس کا قیام ہی عمل میں نہ آیا وگرنہ سترہ کروڑ 57 لاکھ روپے کی قیمت پر درجنوں شکایات کی تحقیقات کوئی مشکل کام نہ تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ صوبائی حکومت نے دعوے کی حد تک تو خیبر پختونخوا کو صوبائی احتساب کمیشن کے قیام کا اعزاز بخشا مگر اس کو فعال بنانے پرچنداں توجہ نہ دی گئی۔ اس کے پس پردہ کوئی نہ کوئی مصلحت اور وجہ بھی ضرور ہوگی۔ اب یہ تجویز بھی نہیں دی جا سکتی کہ اس کمیشن کو فعال بنایا جائے اس لئے کہ جب اس کی مخالف حکومت ہی اس میں جان ڈالنے کی خواہش مند نہ تھی تو اس مردہ گھوڑے کو آنے والے کیا پالیں صرف یہی نہیں نیب کی بھی کوئی کارکردگی دکھائی نہیں دیتی ۔ اگر وطن عزیز میں احتساب مقصود نہیں تو کم از کم قومی خزانے سے اس پر رقم خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ ان دفاترکو تالا لگا دیاجائے تو کم از کم تنخواہوں اور بڑے بڑے دفاتر کے کرائے تو نہ دینے پڑیں گے۔

پاکٹ گائیڈ پر پابندی یقینی بنائی جائے

کوہاٹ بورڈ کے زیر اہتمام جاری میٹرک کے سالانہ امتحانات میں پرچے آئوٹ ہونے اور فوٹو سٹیٹ والوں کی چاندی ہونے کی رپورٹ تو دی گئی ہے لیکن اس امر کی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ پرچہ آئوٹ کس طرح ہوا اور اس کا طریقہ کار کیا تھا۔ جہاں تک بورڈز کے طریقہ کار کا تعلق ہے اس طریقہ کار کے تحت پرچے کی بنک سے وصولی اور پرچہ امتحانی ہال میں تقسیم کے لئے کھولنے کے وقت کی بروقت متعلقہ بورڈ کو ایس ایم ایس پر اطلاع دی جاتی ہے۔ ساڑھے آٹھ بجے سے قبل پرچہ بنک سے وصول نہیں کیا جاسکتا اور نو بجے پرچے کا وقت شروع ہوتا ہے۔ اس دوران پرچہ اگر آئوٹ کرنے کی اولاً کوئی گنجائش نہیں اور اگر بالفرض پرچہ آئوٹ کیا جائے تب بھی مطلوبہ مقاصد کا حصول ممکن نہیں۔ اس لئے جب تک اس معاملے میں ٹھوس ثبوت کے ساتھ کوئی صورتحال سامنے نہ آئے۔ اس حوالے سے کوئی ٹھوس رائے قائم کرنا مشکل ہے لیکن بہر حال ساڑھے آٹھ بجے سے قبل پرچہ آئوٹ ہونے کی ایک سے زیادہ ذرائع سے اطلاع ہے لہٰذا متعلقہ عملے سے اس بارے پوچھ گچھ ضرور ہونی چاہئے۔اس میں بینک کے عملے سے بھی استفسار کی ضرورت ہے۔ البتہ چھوٹے چھوٹے کتابچوں کی شکل میں گائیڈز کی چھپائی پر پابندی کی کھلم کھلا خلاف ورزی کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ اس طرح کی صورتحال سے امتحانی عملے کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ مناسب ہوگا کہ پاکٹ گائیڈز کی چھپائی اور خرید و فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور نقل کی روک تھام میں ممکنہ کردار کی ادائیگی میں مصلحت سے کام نہ لیا جائے۔

متعلقہ خبریں