Daily Mashriq


حاکم کی منصف سے ملاقات

حاکم کی منصف سے ملاقات

کل ساری سیاست ٹی وی کے ذریعے ہی ہو رہی ہے۔ جہاں خبر آتی ہے تو پر پرزے صاف کر کے چند سیکنڈ میں بیان کر دی جاتی ہے۔ تبصروں میں چند سیانے چند سکینڈ میں اپنی بات کہنے پر مجبور ہوتے ہیں، نہ ہوں تو قطع کلامی عام ہے خواہ یہ سیانے کریں خواہ کوئی کمپیئرکہہ دے کہ بس آپ کی بات ہو گئی ہے۔ منگل کی شام ملک بھر کے ٹی وی دیکھنے والے حیران رہ گئے جب خبر آئی کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے ملاقات کی ہے۔ ایسا بالعموم ہوتا نہیں ہے۔ البتہ ایک بار سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے ملاقات کی تھی۔ کیا خبر اس کے علاوہ بھی کوئی نظیر ہو۔ آج کے حالات میں جب وزیر اعظم عباسی کے ممدوح اور ن لیگ کے سپریم لیڈر سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی بڑھ چڑھ کر اداروں کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں اور وزیر اعظم کے دوست اور ان کی پارٹی کے صدر میاں شہباز شریف پچھلے کئی دنوں سے لندن میں اپنے طبی معائنے کے باوجود کہہ رہے ہیں کہ عدلیہ ‘ فوج‘ پارلیمنٹ اور اہل سیاست مل کر ملک کو مسائل سے نکال سکتے ہیں، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے ملاقات کی خبر کانوں کے لیے مانوس نہ تھی۔ ملاقات کی خواہش کا اظہار وزیر اعظم نے کیا تھا ، اس اظہار کے لیے وسیلہ انہوں نے وزارت قانون کے سیکرٹری کی بجائے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کو بنایا تھا بہرحال ملاقات کی خواہش کا اظہار سرکاری ذریعے سے کیا گیا تھا۔ وزیر اعظم سرکاری پروٹوکول کی بجائے ایک پرائیویٹ گاڑی میں سوار ہو کر گئے۔ سپریم کورٹ نے ملاقات کے لیے چیف جسٹس کے چیمبر ہی کا انتخاب کیا اور ملاقات سے آدھ گھنٹہ پہلے میڈیا کو بھی خبر دی۔ ملاقات کے بعد وزیر اعظم ہاؤس سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا حالانکہ ان کے بغیر پروٹوکول کے سپریم کورٹ جانے کے باوجود یہ ملاقات غیر سرکاری نہیں تھی۔ ملاقات کا اعلامیہ سپریم کورٹ کے دفتر تعلقات عامہ نے جاری کیا جس میں کہا گیا کہ چیف جسٹس صاحب نے خود وزیر اعظم کا گیٹ پر استقبال کیا اور خود ملاقا ت کے بعد انہیں دروازے پر رخصت کیا۔ یعنی سپریم کورٹ نے اس ملاقات کو وزیر اعظم کے سرکاری تکلفات کے بغیر آنے کے باوجود خالصتاً سرکاری ملاقات کادرجہ دیا۔ سپریم کورٹ کے دفتر تعلقات عامہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے چیف جسٹس کے وژن کے مطابق عدالتی نظام میں اصلاحات لانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ حکومت عوام کو سستے اور فوری انصاف دلانے اور انہیں انصاف تک رسائی کے لیے تمام دستیاب وسائل فراہم کرے گی۔ وزیر اعظم نے مختلف فورمز پر ایف بی آر اور ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کے زیر التواء مقدمات میں حائل مشکلات سے آگاہ کیا اور چیف جسٹس نے یقین دلایا کہ ایسے مقدمات کے جلد فیصلے ممکن بنائے جائیں گے۔ اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے مفاد عامہ سے متعلق معاملات میں چیف جسٹس کے اقدامات میں مکمل حمایت کا یقین دلایا اور کہا کہ مفت تعلیم ‘ صحت اور ہسپتالوں کو درست کرنے۔ معیاری صحت خصوصاً نجی شعبہ کے میڈیکل کالجوں کی تعلیم میں بہتری لانے‘ نکاسی آب‘ صاف پانی کی فراہمی اور ماحول کے تحفظ کے حوالے سے چیف جسٹس کے اقدامات سے بہتری آئے گی۔ اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عدلیہ اپنی آئینی ذمہ داریاں آزادانہ ‘ غیر جانبدارانہ اور شفاف طریقے سے بلا خوف و رغبت قانون کے مطابق ادا کرے گی ۔ سوال یہ ہے کہ آیا وزیر اعظم محض یہ مطالبہ لے کر چیف جسٹس کے پاس گئے تھے کہ ایف بی آر اور ٹیکس عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کے فیصلوں میں تیزی لائی جائے۔ کیا وزیر اعظم صرف یہ اعتراف کرنے گئے تھے کہ مفاد عامہ کے کام حکومت نے نہیں کیے ۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ جو اقدامات کر رہی ہے وہ ان کی حمایت کرتے ہیں اور ان میں تعاون کریں گے ۔ کیا صرف یہی دو موضوع تھے جن پر بات چیت ہوئی اور سپریم کورٹ کی طرف سے جو یہ کہا گیا کہ عدلیہ اپنی آئینی ذمہ داری آزادانہ ‘ غیر جانبدارانہ اور شفاف طریقے سے اور بلا خوف و رغبت قانون کے مطابق ادا کرے گی ، یہ کس موضوع پر گفتگو کے نتیجے میں کہا گیا؟ ملاقات وزیر اعظم کی خواہش پر ہوئی لیکن وزیر اعظم ہاؤس سے اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں ہوا۔ یہ سوال اپنی جگہ ہے۔ آج کے ماحول میں جب وزیر اعظم کی حکمران پارٹی کے سپریم لیڈر اداروں سے محاذ آرائی کے رویہ کو آگے بڑھا رہے ہیں خبریں سننے والے کیسے یہ یقین کر لیں کہ یہ ملاقات محض ایک کرٹسی کال تھی اور اس میں ٹیکس کے مقدمات کے نمٹانے میں تیزی لانا مقصود تھا۔ اور حکمران پارٹی کے صدرجو کہہ رہے ہیں کہ عدلیہ‘ فوج ‘ مقننہ اور حکومت مل کر مسائل حل کریں اس مؤقف کا اس ملاقات کے حوالے سے کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ ملاقات میں جو بات چیت ہوئی اس میں کس بات پراتفاق ہوا ‘ کس پر اختلاف رہا اس کا اندازہ آئندہ چند روزمیں آنے والے بیانات و واقعات سے لگایاجا سکے گا۔ اور ہرشخص اپنے معنی خود اخذ کرے گا۔ دوسری طرف پہنچے ہوئے صحافی کہہ رہے ہیں کہ اس ملاقات کا فیصلہ ن لیگ کے صدر شہباز شریف اور سپریم لیڈر نواز شریف کی ملاقات میں ہوا تھا۔ شہباز شریف کی تجویزتھی نواز شریف اس تجویز کے خلاف تھے۔ محض اس ملاقات سے جو تاثر ابھرے گا اس کی وجہ سے حکمران ن لیگ کے آئندہ انتخابات میں جو متوقع امیدوار محاذ آرائی سے گریز پا ہو سکتے ہیں وہ بھی پارٹی صدر کے مؤقف کی وجہ سے ساتھ رہیں گے اور جو لوگ محاذآرائی کے بیانیہ کو ن لیگ میں جان ڈالنے کی کارروائی کہہ رہے ہیں وہ بھی ساتھ رہیں گے اور ان کے متاثرین کا ووٹ بھی ن لیگ کو حاصل ہو جائے گا۔چت بھی اپنی پٹ بھی اپنی۔

متعلقہ خبریں