Daily Mashriq

اک ستم اور

اک ستم اور

روزنامہ مشرق پشاور کے ادارتی صفحہ کے علاوہ فاضل کالم نگار مشتاق شباب نے الیکشن کمیشن کی جانب سے مرتب کی جانے والی صوبائی اور قومی اسمبلی کے اولین حلقہ یا حلقہ نمبر1کو پشاور کی بجائے خیبر پختونخوا کی دورافتادہ وادی چترال کے کسی شہر کو قومی وصوبائی اسمبلی کا پہلا حلقہ گرداننے پر صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے اسے الیکشن کمیشن کا غیرمنطقی فیصلہ قرار دیا۔ ہر فیصلے کے پیچھے کوئی نہ کوئی مصلحت کارفرما ہوتی ہے۔ کو ئی جواز بنتا ہے۔ حلقہ بندی کے اس فیصلہ کا کیا جواز ہے جس کے حق میں چترال کے رحمت غازی، عنایت اللہ فیضی، عزیز احمد، سردار اعظم اور دیگر بہت سے دانشمند ودانشور یا سیاسی بصیرت رکھنے والے بات کر سکیں گے یا الیکشن کمیشن والے ہی بتا سکیں گے کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا۔ جہاں تک روزنامہ مشرق پشاور کی مجلس ادارت میں اُٹھنے والی اس واویلا کی بازگشت کا تعلق ہے وہ مشرق کے ہر قاری کی طرح راقم السطور کی بھی نظروں سے گزری۔ جس کے متعلق جان کر اسے اپنے وجود کے وہ گھاؤ تازہ ہوتے محسوس ہونے لگے جن کی چبھن نے اسے دل جانے یا دل والا کے مصداق تگنی کا ناچ نچا دیا تھا۔ بقول کسے

مرے دل کے زخموں کو نیند آگئی ہے

انہیں تم جگانے کوشش نہ کرنا

مگر کر ہی ڈالی ایسی کوشش الیکشن کمیشن والوں نے بقول مشتاق شباب اپنا نادر شاہی فرمان جاری کرکے۔ ہاں تو بات کر رہا تھا ان کچوکوں کی جو الیکشن کمیشن کے ارباب بست وکشاد نے پشاور شہر کے اس عاجز اور محب الوطن شہری کے جسم پر ہی نہیں اس کی روح پر بھی لگا کر جانے کس جرم کی پاداش میں اسے ایسا دیس نکالا دیا جو تادم تحریر بھی اس کی شناخت کو بحال نہ کرسکا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب الیکشن 2013 کا میلہ لگنے میں ابھی چند مہینے باقی تھے۔ ان دنوں راقم السطور پشاور شہر کے گنج گیٹ سے باہر درخشاں کالونی میں رہائش پذیر تھا۔ الیکشن کی تیاریاں زوروں پر تھیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے گھر گھر ایسے فارم تقسیم کئے جا رہے تھے جن کو بھرنے کے بعد الیکشن کمیشن کے مقرر کردہ رضاکاروں کے حوالہ کرنا تھا۔ ہم نے فارم بھر کر دے دئیے۔ ان فارموں میں جو کواٰئف مانگے گئے تھے ان میں گھر کے سربراہ کے علاوہ جملہ اہل خانہ کے نام، ان کی عمریں، شناختی کارڈ نمبر الغرض کسی گھرانے کے ہر فرد کے متعلق ہر وہ بات جو الیکشن کمیشن والوں کو مختلف علاقے کے لوگوں کی ووٹرلسٹ بنانے کیلئے چاہئے ہوتی ہے، ہم نے درج کرنے کے بعد ہر فارم پر وہ پتہ لکھا جہاں ہم رہائش پذیر تھے۔ الیکشن کے دن جوں جوں قریب آرہے تھے ہم اپنی پسند کے اُمیدوار کی کارنر میٹنگز میں شامل ہونے کے علاوہ اپنا اور اپنے اہل خانہ کا حق رائے دہی استعمال کرنے کیلئے بے تاب ہو رہے تھے لیکن عین ان دنوں جب ہم نے اپنا ووٹ استعمال کرنا تھا، ہمیں علم ہوا کہ اپنے علاقے کی اس ووٹرلسٹ میں ہمارا اور ہمارے اہل خانہ کا نام سرے سے موجود ہی نہیں جہاں ہم رہ رہے تھے۔ یہ سب کیسے ہوا کیوں ہوا ہمیں اس کے متعلق کوئی کچھ بھی نہیں بتا رہا تھا۔ ارے غضب ہوگیا پورے گھرانے کے افراد کے نام ووٹرلسٹ سے حذف کر دئیے گئے۔ ہم نے صدائے احتجاج بلند کرنا چاہی تو کسی نے کہا یہ ستم صرف تمہارے ساتھ روا نہیں رکھا گیا علاقے کے دیگر خانوادے بھی متاثر ہوئے ہیں اس گھپلے سے۔ وہ چپ ہوگئے ہیں آپ بھی چپ ہوجاؤ، خواہ مخواہ کا پنگا نہ لو کسی کیساتھ، جو ہوگیا سو ہوگیا۔ نہیں جی نہیں، ووٹ دینا ہمارا جمہوری حق ہے۔ ہم نے فارم بھر کر دئیے تھے۔ کہاں گئے ہمارے فارم، کوئی تو بتائے۔ ہم نواز شریف کی طرح مجھے کیوں نکالا مجھے کیوں نکالا کے سے انداز میں کہہ رہے تھے کہ ووٹرلسٹ میں ہمارا اور ہمارے اہل خانہ کا نام کیوں نہیں، جواب ملا ایسا ہوتا رہتا ہے ایسے کاموں میں۔ ایسے میں کسی جاننے والے نے ہماری حالت زار پر ترس کھاتے ہوئے کہا کہ تم اپنے موبائل پر اپنا شناختی کارڈ نمبر لکھ کر الیکشن کمیشن والوں کی جانب سے جاری ہونے والے نمبر پر ایس ایم ایس کردو تمہیں آناً فاناً اس بات کا جواب مل جائے گا کہ کہاں اور کس ووٹرلسٹ میں تمہارا اور تمہارے گھرانے کے افراد کا نام شامل ہے۔ اندھے کو کیا چاہئے دو آنکھیں کے مصداق ہم نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور بھیج دیا ایس ایم ایس الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نمبر کو، بھلا ہو الیکشن کمیشن والوں کا اگر وہ عہد جدید کی یہ سہولت مرحمت نہ فرماتے تو نہ ہمارے ہاتھ کے طوطے اُڑ پاتے اور نہ ہمیں اپنے قدموں تلے کی زمین سرکتی محسوس ہوتی۔ ہمارے ایس ایم ایس کے جواب میں ہمیں بتایا گیا کہ تمہارا ووٹ مہمند ایجنسی جیسے علاقہ غیر کے کسی دور افتادہ گاؤں کی ووٹرلسٹ میں درج ہے۔ میں نے اپنے گھرانے کے ہر فرد کے شناختی کاررڈ نمبر لکھ کر باری باری ایس ایم ایس بھیج کر ووٹرلسٹ میں ناموں کے اندراج کا پتہ کیا اور ہر بار ہمیں ایک ہی جیسا جواب ملتا رہا۔ سر پیٹنے اور بال نوچنے کو دل کر رہا تھا مگر بال ہی نہیں تھے، نوچتے کس طرح۔ قہر درویش برجان درویش چپ ہوگئے اور اب تک چپ ہیں۔ شاید اب بھی نہ بولتے اگر نہ سن پاتے شباب کی باتیں، الیکشن کے دن جوں جوں قریب آرہے ہیں ہم اپنے آپ کو تیار کر رہے ہیں سہنے کیلئے الیکشن کمیشن کا ہر ستم دل ہی دل میں گنگناتے ہوئے کہ

اک ستم اور میری جاں

ابھی جاں باقی ہے

متعلقہ خبریں