Daily Mashriq

بزم میں اہل نظر بھی تماشائی بھی

بزم میں اہل نظر بھی تماشائی بھی

تھی کہ ہم صورت نہ سہی، ہم سیرت کا بھی دعویٰ نہیں کیا جا سکتا لیکن ہم خیال ضرور مل بیٹھے تھے اور وہ بھی دوچار نہیں، پچاس سے بھی زیادہ، بلکہ تقریب کے اختتام تک آمد کا سلسلہ جاری تھا، اب اس میں پشاور کی بی آر ٹی کا قصور تھا جس کی وجہ سے سارا سارا دن ٹریفک کا مسئلہ رہتا ہے اور یار لوگوں کو دیر سے پہنچنے کا بہانہ مل جاتا ہے یا پھر ہماری عادت ثانیہ ہی یہ بن چکی ہے کہ کسی بھی تقریب میں یہ سوچ کر وقت پر نہیں جانا کہ باقی کے لوگ بھی کونسا وقت پر آتے ہیں، حالانکہ وقت پر پہنچنے کی ذمہ داری ہر شخص کی اپنی ہوتی ہے اور اگر ہر شخص اپنے طور یہ تہیہ کر لے کہ وہ اپنی یہ ذمہ داری بخوبی نبھائے گا تو پھر کوئی مسئلہ رہے گا ہی نہیں۔ خیر یہ تو چند جملہ ہائے معترضہ تھے۔ اصل موضوع کی جانب چلتے ہیں اور وہ جو میں چند ہم خیالوں کی بات کر رہا تھا تو وہ یوں اکٹھے ہوئے تھے کہ پشاور میں محکمہ ثقافت خیبر پختونخوا کی جانب سے چیدہ اہل قلم کو کلچر ڈائریکٹوریٹ والوں نے دعوت دی تھی کہ وہ آئیں اور پشاور رائٹرز کلب کی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں تاکہ صوبے کے اہل قلم کیلئے ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا جائے جہاں وہ نہ صرف گاہے گاہے اکٹھے ہوکر اپنی ادبی سرگرمیوں کو فروغ دیں، اہم موضوعات پر بحث ومباحثہ کرسکیں بلکہ نژاد نو کی ادبی تربیت میں بھی اپنا کردار ادا کرسکیں اور اسی پلیٹ فارم سے ان کا تعلق قومی اور بین الاقوامی تنظیموں اور دیگر متعلقہ اداروں کیساتھ جوڑ کر ان کے فن سے استفادہ کی گنجائش نکالی جائے۔ اس ضمن میں کسی مخصوص نہیں بلکہ خیبر پختونخوا میں بولی جانی والی ہر چھوٹی بڑی زبان کے اہل قلم کی حوصلہ افزائی مقصود ہے۔ راحت اندوری نے کہا تھا

اس نے جس طاق پہ کچھ ٹوٹے دئیے رکھے ہیں

چاند تاروں کو بھی لے جا کے وہیں پر رکھ دو

تقریب کی ابتدا کلچر ڈائریکٹوریٹ میں پشاور رائیٹرز کلب کیلئے مخصوص چھوٹے ہال کے دروازے پر لگے فیتے کو کاٹ کر کی گئی، قینچی سینئر ادیب، شاعر، محقق اور کالم نگار سعد اللہ جان برق کو تھما کر یہ فریضہ پورا کیا گیا اور پھر اس آڈیٹوریم میں تقریب کا آغاز کیا گیا، جسے چند ماہ پہلے ایک سہ لسانی مشاعرے میں جس کی نظامت میرے ذمے تھی، میں نے ہی رحمن بابا آڈیٹوریم کا نام دیکر شرکائے محفل کی تالیوں کی گونج میں درخواست کی تھی کہ اس آڈیٹوریم کا نام پختونخوا کے عظیم صوفی شاعر رحمن بابا آڈیٹوریم رکھا جائے تاہم سرکاری طور پر یہ آڈیٹوریم تاحال اس نام سے محروم چلا آرہا ہے، اس لئے پروفیسر ڈاکٹر اباسین یوسفزئی نے گزشتہ روز ایک بار پھر میری اس تجویز کی یاد دلاتے ہوئے محکمہ ثقافت کے ذمہ داروں کی توجہ مبذول کی، جس پر تقریب میں موجود اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے یقین دلایا کہ وہ آج ہی یہ مطالبہ یا تجویز منظوری کیلئے تحریری طور پر حکام بالا تک بھجوا دیں گے۔

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے اور قافلہ بنتا گیا

مقام شکر ہے کہ جو تجویز میں نے چند ماہ پہلے پیش کی تھی اور جسے اس وقت بھی پذیرائی ملی تھی اب اس میں مزید توانا آوازیں شامل ہوگئی ہیں اور انشاء اللہ جلد ہی اس آڈیٹوریم کو صوفی شاعر اور پختونخوا کے متفقہ بابا، رحمن بابا کے نام سے سرکاری طورپر منسوب کرکے ان کے نام کی تختی ہال کے دروازے سے متصل دیوار پر لگا دی جائے گی۔ بات کو آگے بڑھاتے ہیں، تقریب کی نظامت کرتے ہوئے اکبر ہوتی نے پشاور رائیٹرز کلب کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالی اور اہل قلم سے درخواست کی کہ وہ اس کلب کے رجسٹرڈ ممبران میں اپنے نام لکھوائیں تاکہ اس کارخیر کو آگے بڑھایا جا سکے، اس ضمن میں اغراض ومقاصد کی تشریح پر مبنی ایک پمفلٹ بھی ’جو تین‘ صفحوں پر مبنی تھا حاضرین میں تقسیم کیا گیا، جو اگرچہ اچھی کاوش ہے تاہم کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ یہی اغراض ومقاصد اُردو میں بھی لکھوا کر تقسیم کئے جاتے کیونکہ ہر شخص تو ضروری نہیں کہ انگریزی زبان سمجھتا ہو، اور ہمارے ادیبوں، شاعروں اور قلمکاروں کی اکثریت بدیسی زبان سے پوری طرح آشنا نہیں ہے، تاہم اگر اسے ابتدائی طور پر یہ سوچ کر تسلیم کیا جائے کہ شاید وقت کی کمی اور اس نیک کام کی ابتداء کرنے میں مزید تاخیر سے بچنے کی وجہ سے ایسا ہوا تو امید کی جا سکتی ہے کہ ان اغراض ومقاصد کو جلد ازجلد اُردو کے سانچے میں بھی ڈھالا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفید ہو سکیں۔

باراں کی طرح لطف وکرم عام کئے جا

آیا ہے جو دنیا میں تو کچھ کام کئے جا

تقریب سے مجھ ناچیز سمیت کئی اہل قلم نے خطاب کیا اور تجاویز پیش کیں، ان میں اباسین یوسفزئی، ناصر علی سید، ڈاکٹر صلاح الدین، قاری جاوید اقبال اور دیگر کے علاوہ صدر محفل سعداللہ جان برق نے اپنے مخصوص انداز میں محفل کو زعفران زار بنا دیا اور بعض خدشات بھی سامنے لاکر رکھے جن پر توجہ دینا ضروری ہے۔ بہرحال یہ ایک یادگار تقریب تھی جس کے اغراض ومقاصد اہل قلم کی پذیرائی کیساتھ ساتھ ان کی فلاح وبہبود کے اقدام بھی ہیں، اسلئے دعا کی جا سکتی ہے کہ جس مقصد کیلئے یہ محفل سجائی گئی تھی ان کے حصول میں کامیابی ملے۔

اہل معنی کو ہے لازم سخن آرائی بھی

بزم میں اہل نظر بھی ہے تماشائی بھی

متعلقہ خبریں