Daily Mashriq

الیکشن 2018ء

الیکشن 2018ء

کہتے ہیں جو بولا وہ پہچانا گیا۔ اس کی مثال یوں دی جاسکتی ہے کہ جو کچھ برتن کے اندر ہوتا ہے وہی باہر آتا ہے، آپ اپنی گفتگو سے پہچانے جاتے ہیں آپ کی قدر وقیمت آپ کی بات چیت سے متعین ہوتی ہے، یہ بعد کی بات ہے کہ جو کچھ آپ نے کہا اس میں سچ کی مقدار کیا تھی! سیاستدان تقریر سے ہی لوگوں کے دل جیت لیا کرتے ہیں۔ جب سے پاکستان عالم وجود میں آیا ہے ہم یہی دیکھ رہے ہیں کہ انتخابات سے پہلے لوگوں کو شیشے میں اُتارنے کیلئے سبز باغ دکھائے جاتے ہیں اور اگر پیچھے مڑ کر دیکھیں تو جو سیاستدان اچھے مقرر تھے انہوں نے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو متاثر کیا۔ کسی زمانے میں روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے نے بہت سے لوگوں کو متاثر کیا، یہ حضرت انسان کی بنیادی ضروریات ہیں یہ سب کی ضرورت ہے اس لئے جس نے بھی روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ سنا وہ کسی نہ کسی درجے میں ضرور متاثر ہوا۔ ایک زمانے میں قرض اُتارو ملک سنوارو کا نعرہ بڑا مقبول ہوا تھا، پاکستان کے دل والے عوام نے اس حوالے سے حکمرانوں کی بڑی خدمت کی، خواتین نے اپنے زیور اُتار کر دے دئیے صرف اس لئے کہ ان کا ملک قرض کے بے رحم شکنجے سے نجات حاصل کرسکے! کچھ سیاستدانوں کا خیال ہے کہ ان کے لئے علاقائی سیاست ہی میں بہتری کی گنجائش ہے وہ صوبائیت اور قومیت کے نعروں تک خود کو محدود رکھتے ہیں! تبدیلی کا نعرہ بھی لگا اور یہ نعرہ لگانے والے فائدے میں رہے! دین سے محبت بھی انسانی خون میں شامل ہے کچھ سیاسی پارٹیاں اسلامی نظام کے حوالے سے اپنا منشور پیش کرتی ہیں اور ان کا یہ دعویٰ ہے کہ اگر انہیں اقتدار ملا تو وہ ضرور اسلامی نظام نافذ کرکے رہیں گی! جن سیاسی پارٹیوں کو اقتدار ملا انہوں نے عوام کی کتنی خدمت کی اور اپنے دھن دولت میں کتنا اضافہ کیا اس پر بات کرنے کی ضرورت اس لئے نہیں ہے کہ سب کچھ ہمارے سامنے ہے عوام سے کوئی بات بھی چھپی ہوئی نہیں ہے، سب جانتے ہیں سب کو معلوم ہے کہ وطن عزیز میں کیسے کیسے کھیل کھیلے جاتے رہے ہیں! اب ایک مرتبہ پھر انتخابات کا میلہ سجنے والا ہے، تمام سیاسی جماعتیں بڑے زور شور سے اپنی اپنی فتوحات کی پیشن گوئیاں کر رہی ہیں۔ دھواں دار تقاریر کا سہارا بھی لیا جارہا ہے، آج سیاست میں جو گرما گرمی نظر آرہی ہے اس میں بتدریج اضافہ ہوتا رہے گا، اپنے اپنے حریفوںکے کچے چٹھے بھی بیان کئے جائیں گے، ایک دوسرے پر خوب کیچڑ اُچھالا جائے گا، اپنی تعریف اور مخالفین کی تنقیص میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ جو سیاسی جماعتیں اقتدار کے ایوانوں میں وقت گزار چکی ہیں ان کا اپنا بیانیہ ہوتا ہے اور جن سیاسی جماعتوں نے ابھی تک اقتدار کا مزا نہیں چکھا وہ ایک موقع مل جانے کے حوالے سے اپنا بیانیہ ترتیب دیتی ہیں۔ اگر دل وجاں کی ساری توانائیوں کی بات ہو تو یہ صرف اور صرف اقتدار کے حصول کے گرد گھومتی نظر آتی ہیں اور یہ بری بات بھی نہیں ہے، اگر ایک سیاسی جماعت یہ سمجھتی ہے کہ وہ ملک وقوم کی خدمت کرنے کا جذبہ رکھتی ہے اور اس خدمت کی اہل بھی ہے تو اسے الیکشن جیتنے کی پوری پوری کوشش کرنی چاہئے۔ بس صرف ایک بات کا خیال رکھیں کہ جب انتخابات پایہ تکمیل کو پہنچ جائیں، حزب اقتدار اور حزب اختلاف اپنا اپنا کام سنبھال لیں تو پھر برائے خدا اس ملک کی خاطر اس ملک کے پریشان حال عوام کی خاطر منفی سوچ کو اپنے دل ودماغ سے نکال باہر کریں، سپورٹسمین سپرٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کے ووٹ کی طاقت سے اقتدار حاصل کرنے والی جماعت کے ہاتھ مضبوط کریں، سب ملکر اس مملکت خداداد کی خدمت میں لگ جائیں اور اگر کسی جگہ صاحبان اقتدار ڈنڈ ی مارتے دکھائی دیں تو جمہوری طریقوں اور روایات کے مطابق ان کے خلاف ضرور آواز اُٹھائیں۔ عوام کو ہر لمحہ ان کی کمزوریوں سے آگاہ کرتے رہیں، انہوں نے جو وعدے کئے تھے اور پھر وفا نہیں کرسکے وہ عوام کو بتاتے رہیں، یوں کہئے کہ ایک مثبت حزب اختلاف کا بہترین کردار ادا کر یں اور یہ سب کچھ کرتے ہوئے کسی کی ذات پر کیچڑ نہ اُچھالیں، ذاتی حملوں سے گریز کریں، اخلاق کا دامن ایک لمحے کے لئے بھی ہاتھ سے نہ جانے دیں، اگر حزب اختلاف یہ سب کچھ کرسکی تو یقین کیجئے یہ عوامی مینڈیٹ کا بہت بڑا احترام ہوگا اور یہ کوئی نئی بات بھی نہیں ہوگی۔ جن ممالک میں جمہوریت کا پودا ایک تناور درخت کی صورت اختیار کر چکا ہے وہاں سیاست کا کھیل اسی طرح کھیلا جاتا ہے۔ وہاں فتح وشکست کو موت اور زندگی کا مسئلہ نہیں بنایا جاتا، جیتنے والا کاروبار حکومت سنبھالتا ہے اور ہارنے والا اگلے الیکشن کا انتظار کرتا ہے۔ اس دوران وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھا رہتا اپنی شکست کے اسباب پر غور کرتا رہتا ہے، اپنی جماعت کی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہے! اس کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اگلا الیکشن اچھے طریقے سے جیت سکے! 2018 کے انتخابات کو ملکی تاریخ کے مہنگے ترین انتخابات قرار دیا جارہا ہے۔ ووٹرز کی تعداد دس کروڑ چالیس لاکھ ہے اس لئے گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں پرنٹنگ کے اخراجات بھی کئی گنا زیادہ ہوں گے۔ مجموعی طور پر تیرہ ارب روپے کا تخمینہ لگایا جارہا ہے! آپ دل پر ہاتھ رکھ کر کہئے کہ اتنے زیادہ اخراجات کے باوجود بھی اگر سیاستدان مشت وگریبان رہیں اور جوتوں میں دال بٹتی رہے تو پھر اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہو سکتی ہے؟۔

متعلقہ خبریں