Daily Mashriq


غربت کے خاتمے کا ایک اور پروگرام

غربت کے خاتمے کا ایک اور پروگرام

وزیراعظم عمران خان کا احساس کے نام سے غربت مٹاؤ پروگرام شروع کرنا نادار افراد کیلئے امید کی بڑی کرن ہے۔ اسلام آباد میں غربت مٹاؤ پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ غربت ختم کرنا جہاد ہے اور ہم ملک سے غربت ختم کرکے دم لیں گے۔ عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ دیہی خواتین کی مدد کیلئے بکریاں اور دیسی مرغیاں دی جائیں گی، یوٹیلٹی اسٹورز میں مختلف اقسام کے بیج رکھیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بیرون ملک کام کرنے کیلئے جانے والے محنت کشوں کو سہولیات دیں گے۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ مزدوروں اور کسانوں کو آسان شرائط پر قرضے دیں گے تاکہ وہ اپنا گھر بنا سکیں، احساس پروگرام کے تحت بزرگ شہریوں کیلئے گھر بنائے جائیں گے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ای او بی آئی کی پنشن میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ خواتین کو زیورتعلیم سے آراستہ کئے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا خواتین کی تعلیم اور صحت میں پاکستان دوسرے ممالک سے بہت پیچھے ہے۔ حکومت اس سلسلے میں جامع منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ وطن عزیز میں نادار اور مستحق افراد کی امداد کیلئے مختلف ناموں سے حکومتی اداروں اور پروگراموں کی اب تک کی کارکردگی بس اتنی رہی ہے کہ ان اداروں میں بھاری تنخواہوں پر سفارشی افراد کی تقرریاں ہوتی ہیں اور مستحق افراد کے نام پر سرکاری رقوم کا بے جا استعمال ہی نہیں اس میں بڑے پیمانے پر خورد برد بھی ہوتی رہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم نے جن اقدامات اور طریقۂ کار کا عندیہ دیا ہے ان کی افادیت واہمیت اپنی جگہ ایک وزارت کا قیام کر کے مختلف اداروں اور پروگراموں کو یکجا کرنا پہلا قدم ہوگا جس کے بعد سب سے زیادہ ضروری امر دیانتداری سے مستحق افراد کو امداد کی فراہمی ہے خواہ وہ نقد کی صورت میں ہو یا چھوٹے چھوٹے کاروبار یا معاشی بحالی کیلئے مختلف پروگراموں اور ساز وسامان کی صورت میں ہوں۔ ہمارے تئیں غربت کے خاتمے کے پروگرام میں 80ارب روپے کا اضافہ زیادہ اہمیت کا حامل نہیں اس سے زیادہ اہمیت کا حامل امداد کی دیانتدارانہ تقسیم اور بروئے کار لانا ہے۔ اس وقت جو بے شمار پروگرام چل رہے ہیں اس میں غربت مکاؤ پروگرام بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، زکوۃ اور سماجی بہبود کے مختلف پروگرام شامل ہیں۔ علاوہ ازیں معاشرے میں مختلف بین الاقوامی وملکی تنظیمیں فلاحی ادارے بھی یہی خدمات انجام دے رہی ہیں جن کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں لیکن یہ سارا عمل نامربوط اور شکوک وشبہات سے خالی نہیں خاص طور پر سرکاری سطح پر ہونے والے کاموںکے حوالے سے سخت تحفظات پائے جاتے ہیں جن کو دور کئے بغیر جو بھی پروگرام شروع کیا جائے اس کے مطلوبہ نتائج کے حصول کا باعث بننا تقریباً ناممکن ہی ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دیہی علاقوں کے لوگوں کو کاروبار وروزگار کے مواقع سے روشناس کرانے اور ان کو مواقع کی فراہمی سب سے اہم ضرورت ہے لیکن صرف یہی کافی نہیں اس کیساتھ ساتھ حکومت ان علاقوں کے ان نوجوانوں کو جو میرٹ پر پورا اُترنے کے باوجود مواقع سے فائدہ نہیں اُٹھا پائے ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوگا۔ غربت کے خاتمے کے پروگرام کے تحت ان علاقوں کے باصلاحیت نوجوانوں کو تعلیم کے بہتر مواقع اور وظائف کی فراہمی بلاسود اور مؤخر ادائیگی والے قرضوں کی فراہمی پسماندہ علاقوں کو ترقی دینے کیلئے مزید اہمیت کا باعث معاملہ ہے جہاں تک وزیراعظم کی جانب سے دیہی علاقوں کی خواتین کو مرغیاں اور بکریاں دینے اور یوٹیلٹی سٹورز پر مختلف اقسام کے بیج مہیا کرنے کا منصوبہ ہے اگرچہ اس سے ناقدین کو تنقید میں آسانی میسر آئی ہے لیکن درحقیقت یہی وہ سنگ بنیاد ہے جسے درست طور پر رکھا جائے تو دیہی علاقوں میں خود روزگار کیساتھ ساتھ خوراک اور پھلوں کی صورت میں ملکی غذائی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ مختلف اقسام کے بیج کی یوٹیلٹی سٹورز سے فراہمی میں صرف پودوں اور پھولوں کے بیج نہیں ہونے چاہئیں بلکہ مختلف موسمی چارہ اور ایسی فوری نقدآور فصلوں کے اعلیٰ درجے کے بیج بھی رکھے جائیں جن کے حصول میں دوردراز کے علاقوں کے کاشتکاروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ بیرون ملک مقیم محنت کشوں کی حالت زار پر توجہ ان کو سہولیات کی فراہمی اور سال کی بجائے تین سالوں کا کنٹریکٹ دلوانا کم اہم معاملہ نہیں اس مقصد کیلئے متعلقہ ممالک سے رابطوں میں تیزی لانے کی ضرورت ہوگی۔ ای او بی آئی پنشن میں اضافہ سے معمر افراد کی بہتر کفالت تو ممکن نہیں البتہ معقول اضافہ سے ان کے مسائل میں کمی لانا ممکن ہوگا۔ بہتر ہوگا کہ حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے بھی اس قسم کی کوئی سکیم وضع کرے تاکہ ان کو آمدنی کے ذریعے کی بندش کے بعد مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ وزیراعظم اور موجودہ حکومت کا منصوبہ اور پروگرام جب تک سابقہ اداروں سے مختلف، شفاف اور دیانتدارانہ نہ ہو اس کی کامیابی ممکن نہیں جس پر حکومت کو خاص طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہوگی۔

متعلقہ خبریں