Daily Mashriq


وزیر اعلیٰ کے ہاتھ مضبوط کرنے کی ضرورت

وزیر اعلیٰ کے ہاتھ مضبوط کرنے کی ضرورت

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان کااپوزیشن کو ترقیاتی فنڈز میں مساوی حصہ دینے کا اعلان بصورت عملدرآمد انصاف اور میرٹ پر فیصلوں کا نقطہ آغاز ثابت ہوگا تاہم ماضی کے تجربات کی روشنی میں ایوان میں ہونے والی اس یقین دہانی کو بھی ’’سیاسی بیان‘‘ کے زمرے میں لینا شاید مناسب نہ ہو۔ وزیر اعلیٰ نے جس اجتماعی مسئلے پر حزب اختلاف سے مدد طلب کی ہے وہ سنجیدہ اور وقت کی ضرورت ہے۔ وزیر اعلیٰ نے حزب اختلاف سے درخواست کی ہے کہ وفاق سے صوبائی حقوق کے حصول میں اپوزیشن انہیں تنہا نہ چھوڑے بلکہ انہیں سپورٹ کرے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی اسمبلی اجلاس میں شرکت اور وزراء کو اجلاسو ں میں شرکت کا پابند بنانے کی یقین دہانی اور حزب اختلاف کو مساوی فنڈز کی فراہمی کاعندیہ نہ صرف حزب اختلاف کو مثبت پیغام ہے بلکہ اس سے صوبائی اسمبلی میں ان کو حزب اختلاف کی بھی آشیرواد حاصل ہوسکتی ہے۔ اگر مفاہمت سے اور حزب اختلاف سے اچھے تعلقات رکھنے کو خیبر پختونخوا اسمبلی کی روایات کا حصہ قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ روایات کی پاسداری کے بعد ہی وزیر اعلیٰ کا حزب اختلاف سے تعاون طلب کرنا اور حزب اختلاف کا مثبت جواب ممکن ہوگا۔ سیاسی معاملات سے قطع نظر وزیر اعلیٰ نے صوبائی حقوق کے حوالے سے ایوان سے جو تعاون طلب کیاہے وہ وزیراعلیٰ کی ہی تنہا ذمہ داری نہیں بلکہ حزب اختلاف اور پورے ایوان کافرض ہے بلکہ اگر وزیر اعلیٰ کے عہدے کی مجبوریوں کے پیش نظر اس ذمہ داری کو نبھانے کے لئے حزب اختلاف کو کلیدی کردار ادا کرنے کامشورہ دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ خیبر پختونخوا کو صرف بجلی کے خالص منافع کے معاملے ہی میں عدم ادائیگی کا مسئلہ درپیش نہیں بلکہ قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد ان کے حصے کے رقم کی عدم ادائیگی بھی پیچیدہ مسئلہ بنتاجارہا ہے۔ اس ضمن میں یقین دہانی کے باوجود عملی اقدامات کو تسلی بخش قرار نہیں دیا جاسکتا۔اس ساری صورتحال سے حزب اختلاف پوری طرح با خبر ہے۔ اس ضمن میں ان کو وزیر اعلیٰ کو ان سے مدد طلب کرنے سے پہلے ہی آگے آنا چاہئے تھا صرف حزب اختلاف نہیں بلکہ صوبے کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں ‘ تنظیموں‘ میڈیا اور سول سوسائٹی کو بھی ہم آواز ہو کر یہ معاملہ دہرانا چاہئے۔

لکی مروت کا ناقابل برداشت واقعہ

ٹرائبل سب ڈویژن لکی مروت کے دور افتادہ علاقے گزگوبہ میں محکمہ تعلیم کی مانیٹرنگ ٹیم ( آئی ایم یو )پر شرپسندوں کے حملے میں خاتون مانیٹرنگ اہلکار اور لیوی سپاہی شہید اور دو اہلکاروں سمیت چار افراد کے زخمی ہونے کا واقعہ افسوسناک اور رنج دہ ہے۔دوران ڈیوٹی سرکاری اہلکاروں پر اس طرح سے حملہ اگرچہ دہشت گردی کاواقعہ نظر آتا ہے لیکن اس علاقے کے ماحول کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ دہشت گردی کے واقعے کی بجائے تعلیم نسواں کے مخالفین کی کارروائی نظر آتی ہے۔ بہر حال تحقیقات کے نتیجے میںہی اصل صورتحال کاعلم ہوگا۔ حملہ آور جو بھی ہوںان کو دہشت گرد قرار دیا جائے یا تعلیم دشمن ان کی واردات نہایت سنگین قابل مذمت اور ظالمانہ ہے۔ ریاست اور حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور ریاستی اہلکاروں کا قتل کسی بھی طور قابل برداشت نہیں قبائلی اضلاع میں اجتماعی ذمہ داری کے قانون کے خاتمے کے بعد اور ان علاقوں اور ایف آرز میں پولیٹیکل نظام کے خاتمے کے بعد بعض علاقوں میں اس قسم کے واقعات اور مزاحمت نا ممکن نہیں۔ گزشتہ روز کے واقعے کے بعد حکام کو سرکاری عملے کاتحفظ یقینی بنانے کے مزید اقدامات پر توجہ دینا ہوگی۔ لکی مروت کے اس واقعے کے ذمہ داروں کو جتنا جلد گرفتار کیا جاسکے اس میں کوتاہی نہ آئے تاکہ اس قسم کے عناصر کو سخت سے سخت پیغام دیاجاسکے کہ حکومت ہر قیمت پر نہ صرف اپنی عملداری کو یقینی بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے بلکہ علاقے کے عوام کے مفاد میں جو بھی ممکن ہوا اسے ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔

بد عنوانی کی تحقیقات میں تاخیر اور احتراز کیوں؟

خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور میں پانچ کروڑ روپے سے زائد غبن کی انکوائری کا تعطل کا شکار ہونا اور ایم ٹی آئی ہسپتالوں میں خلاف ضابطہ بھرتیوں کی انکوائری بھی تاحال شروع نہ ہونا حکومتی اداروں کی ملی بھگت اورصرف نظر کا مظہر ہے جس کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیئے۔ ہم سمجھتے ہیںکہ انسداد بد عنوانی کا سب سے موزوں قدم یہ ہونا چاہیئے کہ کسی بھی شبے کی پوری تحقیق کی جائے کجا کہ اتنے بڑے معاملات کو پس پشت ڈالا جائے ۔اس سے ایسا لگتا ہے کہ ہر دو معاملات کے پس پردہ مضبوط ہاتھ کار فرما ہے جو معاملات کی تحقیقات ہونے نہیں دے رہا ۔ وزیراعلیٰ اور وزیرصحت کو اس تاثر کی نفی کیلئے نظر آنے والے اقدامات یقینی بنانے کی نہ صرف ہدایت کرنی چاہیئے بلکہ اسے ذاتی نگرانی میں یقینی بھی بنانا چاہیئے۔

متعلقہ خبریں