Daily Mashriq

جب غریب ہی نہ ہوگا تو ۔۔۔

جب غریب ہی نہ ہوگا تو ۔۔۔

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مشن چیف ایرنیسٹو رامریز ریگونے ابتدائی دورہ پاکستان مکمل کرلیا اور اس دورے میں انہوں نے پاکستانی حکام سے ہونے والی ملاقاتوں حالیہ معاشی اقدامات اور بیل آوٹ پیکج کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔وزارت خزانہ سے جاری بیان کے مطابق پاکستان کے لیے آئی ایم ایف مشن چیف اپنے دورے میں 26 مارچ اور 27 مارچ کو اسلام آباد اور کراچی گئے جہاں انہوں نے حکام سے ملاقاتیں کیں۔خیال رہے کہ رامریز ریگو نے پاکستان کے لیے مشن چیف کے طورپر رواں ماہ کے اوائل میں اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں اور یہ ان کا اولین دورہ تھا۔اعلامیے کے مطابق رامریز نے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر، مشیر تجارت عبدالرزاق داود، وزیر توانائی عمر ایوب، وزیر مملکت ریونیو حماد اظہر کے علاوہ سرکاری عہدیداروں فنانس سیکریٹری یونس ڈاگا، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو جہاں زیب خان، وزیراعظم کے مشیر اصلاحات عشرت حسین سے ملاقات کی۔آئی ایم ایف مشن چیف کے سربراہ نے کراچی کے دورے میں گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ اور مرکزی بینک کے دیگر عہدیداروں سے بھی ملاقات کی۔وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق رامریز ریگو کے کراچی میں حکام سے تبادلہ خیال کے دوران حالیہ معاشی اقدامات اور آئی ایم ایف سے سپورٹ پروگرام کے حوالے سے جاری مذاکرات ہی بنیادی نکات تھے۔خیال رہے کہ آئی ایم ایف مشن چیف ایرنیسٹو رامریز ریگو کی سربراہی میں وفد نے گزشتہ روز وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر سے اسلام آباد میں ملاقات کی تھی جہاں زرعی پالیسی سمیت دیگرشعبوں میں اصلاحات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔وزارت خزانہ سے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ وزیر خزانہ اور آئی ایم ایف مشن چیف نے مالی، مانیٹری، ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور توانائی کے شعبے سمیت تمام امور پر تبادلہ خیال کیا۔اعلامیے کے مطابق وزیرخزانہ نے رامریزریگو کو ملک کی معاشی حالت کو بہتر کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔ حکومت کی جانب سے ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور دیگر معاشی اقدامات متعارف کروائے گئے ہیں جس کے بہتر نتائج آرہے ہیں۔علاوہ ازیں آئی ایم ایف مشن چیف رامریز ریگو نے وزیراعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق دائود سے بھی ملاقات کی تھی، جس میں مشیر تجا رت نے یقین دلا یا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ قومی ٹیرف پالیسی جلد متعارف کروائیں گے اس سے ملکی معیشت بہتر ہوگی۔وزارت خزانہ کے مطابق اس موقع پر آئی ایم ایف کے مشن چیف رامریز ریگو نے کہا کہ پاکستان کے معاشی اصلاحات اچھا اقدام ہے اور امید ہے کہ اصلاحات کا یہ سلسلہ جاری رہے گا اور اس سے معیشت میں بہتری آئے گی۔جب سے پی ٹی آئی کی حکومت برسراقتدار آئی ہے تب سے سوائے قرضہ حاصل کر نے کے مو جو دہ حکومت کا کوئی دوسرا وژن سامنے نہیں آیا ۔قرضہ ملنے کا ذکر اس دھڑلے سے کیا جا تا ہے کہ گویا ملک میں کوئی جشن برپاہو گیا ہے ۔ قرضہ کے بارے میں عمر ان خا ن کے کیا خیالا ت تھے ان کو یہا ںزیر بحث لانے کی ضرورت نہیں یہ سب سوشل میڈیا پر مسلسل وائرل ہو رہا ہے ۔لیکن حکومت وقت آئی ایم ایف سے قرضہ کے حصول میں بڑی ہوشیاری کر رہی ہے اور یہ تاثر کا میا بی کے ساتھ اب تک دیا جارہا کہ پاکستان کی بہترین معاشی پا لیسیو ں سے متاثر ہو کر ایم آئی ایف پاکستان کوقر ضہ دینے کی آرزو لیے ہوئے ہے جبکہ معاملہ کچھ برعکس نظر آرہاہے ، ماضی میں اس ادارے سے پاکستان نے قرضہ لیا ہے تب یہ دیکھنے میں آیا تھا کہ دونو ں جانب کے حکا م کی جا نب سے دوچار میٹنگ میں معاملا ت طے پاگئے ، مگر گزشتہ سات ما ہ سے آئی ایم ایف کی ٹیمیں پاکستان کا اور پاکستان کے وفو د آئی ایم ایف کے لیے اکیس مرتبہ سے زائد بیر ونی دورے کر چکے ہیں۔ صورت حال یہ ہے کہ آئی ایم ایف کا اونٹ کسی کر وٹ بیٹھ کر ہی نہیں دے پا رہا ۔ ما ضی کا مشاہد ہ یہ ہے کہ قرضے کا معاہد ہ ہو نے اور قرضہ مل جا نے کے ساتھ ہی آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد شروع کیا جا تا تھا مگر وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر قوم کو اس جھا نسے میں رکھے ہو ئے ہیں کہ وہ آئی ایم ایف کی ایک شرط پر بھی کان نہیں دھر رہے ہیں اپنی شرائط منو ارہے ہیں ، یہ توکبھی بھی ممکن نہیں ہو ا کیو ں کہ شرائط تو اسی کو رکھی جاتی ہیںجو قر ضہ دیتا ہے ۔اس مر تبہ تو آئی ایم ایف نے کما ل کر ڈالا کہ قر ض دینے سے ہی کئی ماہ پہلے اپنی شرائط منو ائیں بلکہ ان پر عمل درآمد بھی شرو ع کر ایا ، چنانچہ ڈالر کی اونچی سطح پر قدر پہنچنا ، اور ابھی مزید ڈالر کو بلندی حاصل ہو گی ، بجلی کے نرخ اوج ثریا کے مزے لینے لگے ہیں۔ اب مزید اوج پا کر عوام کے سرو ںپر دھم سے بوجھ بن کر گریں گے ۔ گیس کی قیمتوں میں ایک سو تریالیس فی صد آئی ایم ایف کی خواہش پر اضافہ کیا جا چکا ہے تقریبا ًہی مزید کیا جا نے والا ہے ، ایک سروے رپورٹ کے مطا بق چار لا کھ سے زائد افرا د قرضے کی شرائط پر عمل درآمد کے بعد ہی خط غربت سے مزید ڈھے گئے اور اس میں کیا اضافہ ہوگا یہ معلو م نہیں ۔بے روزگاری ، مہنگائی کا عفریت اپنی جگہ منہ کھولے اوربانہیںواں کیے مو جو د ہے ۔ ادھر وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے اسلا م آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات میں پاکستان کا مو قف تبدیل نہیں ہوا تاہم آئی ایم ایف نے اپنے مو قف پر نظرثانی کی ہے جس سے آئی ایم ایف اور پا کستان کے درمیا ن خلا کم ہو چکا ہے ۔باعث حیرت بات کہ ایساہوا ہے جبکہ حالا ت وواقعات کچھ اور ہی کہہ رہے ہیں کم ازکم قوم کو تو بتائیں کہ پاکستا ن کا کیا موقف تھا اورعالمی مالیاتی ادارے کا کیا مو قف ہے ۔ یہا ں تو یہ نظرآرہا ہے کہ معاہد ہ ہوا نہیں ہے مگر شرائط روبہ عمل ہو چکی ہیں ۔اسد عمر کا یہ بھی کہنا تھا کہ گیس اور بجلی کی قیمتو ں میں مرحلہ وار اضافہ کر نا پڑے گا، (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں