Daily Mashriq

ٹرمپ کی اسرائیل پر نوازشات

ٹرمپ کی اسرائیل پر نوازشات

شاعر مشرق علامہ اقبال نے ایک صدی پہلے جو کہا تھا کہ فرنگ کی رگِ جاں پنجہ یہود میں ہے وہ پنجہ اب شکنجہ بن کر تمام دنیا خصوصاً عالم اسلام کی گردن میں کسا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے مسلمان اس کا صحیح ادراک نہیں کر رہا ہے۔ 1967ء کی جنگ میں اسرائیل نے امریکہ کی پشت پناہی سے فلسطین، مصر، شام اور لبنان کے بعض علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ ان میں شام میں جولان کی پہاڑیاں بھی شامل تھیں۔ مصر اور لبنان نے بعد میں کسی نہ کسی طور اپنے علاقے بازیاب کرا لئے مگر یروشلم (بیت المقدس) ویسٹ بینک اور جولان اسرائیل کے پاس ہی رہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جن کی مسلم دشمنی اب ساری دنیا پر عیاں ہو رہی ہے، پہلے اسرائیل کا دارالحکومت بیت المقدس منتقل کرنے کی منظوری دی اور اب جولان کے پہاڑی علاقے کو اسرائیل کا باقاعدہ حصہ قرار دے دیا۔ اس طرح انہوں نے مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی کو ہوا دے کر ایک نئی جنگ کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی ہے۔ یہ تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ ایک ملک اپنی طاقت کے بل بوتے پر کسی دوسرے ملک کے علاقے کو ایک تیسرے ملک کے حوالے کر رہا ہے جس کا اسے قطعاً کوئی قانونی یا اخلاقی اختیار نہیں۔ پاکستان سمیت سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر اور بحرین نے ٹرمپ کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے جولان پر اسرائیلی قبضے کو ناجائز قرار دیا اور کہا ہے کہ ٹرمپ کا اقدام اقوامِ متحدہ کے منشور، امریکی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ترکی نے یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی واضح کیا ہے کہ جولان کے معاملے میں ٹرمپ کے اعلان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، مشرقِ وسطیٰ کی یہ صورتحال عالم اسلام کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ اسلامی ملکوں کی تنظیم کو اس کا سختی سے نوٹس لینا چاہئے اورعالم اسلام کی باہمی مشاورت سے اسرائیلی یلغار کو روکنے کی تدابیر کرنا چاہئیں۔یہ بات اب کوئی راز نہیں رہی کہ امریکہ کے سیاسی ماہرین اسرائیل کے ساتھ امریکہ کے منفرد تعلقات کو مندرجہ ذیل محرکات سے جوڑے ہوئے ہیں:امریکہ اور اسرائیل مغربی دنیا کا اٹوٹ حصہ ہیں۔امریکہ یہودی ریاست کے تحفظ کا تہیہ کئے ہوئے ہے۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ اسرائیل کو قومی و سلامتی چیلنج درپیش ہیں اور اسرائیل امریکہ کا حلیف ہے۔ اسرائیل فرد کی آزادی ، لبرل جمہوری اصول، انسانی حقوق اور ریاست کے اندر قانون کی بالادستی کا پابند ہے۔ یہی امریکہ کی بھی پہچان ہے۔ امریکہ اسرائیل کی مدد کو اخلاقی ، دینی اور تاریخی فریضہ سمجھتا ہے۔اسرائیلی اور فلسطینی جھگڑے کا سب سے زیادہ غور طلب پہلو یہ ہے کہ اس جھگڑے میں اسرائیل کو مکمل طور پر ’’سپر پاور‘‘ اور اس کے اتحادیوں کی حمایت حاصل ہے۔ امریکہ دامے، درمے اور قدمے اسرائیل کی حمایت کرتا ہے، اسرائیل کو جدید ترین اسلحہ سے مسلح کرتا ہے، مالی امداد مہیا کرتا ہے۔ اسرائیل کے خلاف تمام، یواین او کی قراردادیں امریکہ ’’ویٹو‘‘ کر دیتا ہے۔ اس حرکت سے فلسطینیوں کے حق میں ہونے والی قراردادیں غیر مؤثر ہو جاتی ہیں۔ اسرائیل جب چن چن کر فلسطینیوں کے لیڈران کو ڈرون حملوں سے ٹارگٹ کلنگ کرتا ہے تو بھی اسرائیل کی مذمت نہیں ہوتی۔ اسرائیل، یواین او کی قراردادوں سے بار بار منحرف ہوا ہے۔ ’’اوسلو ایکارڈ‘‘ سے روگردانی کی ہے۔ اس کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ دوسری طرف کمزور نہتے، بے بس، بے گھر، بے اختیار، خانہ بدوش، اپنی دھرتی کے اندر اور باہر مہاجر کیمپوں میں محبوس فلسطینی اپنی شہریت سے محروم، حقوق انسانی سے محروم، ضروری سازو سامان سے تہی دست، مصائب و آلام کی زندگی گزار رہے ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ اہل مغرب نے ہر موقع پر اسرائیل کی مدد کی اور آج تک کررہے ہیں۔ 1948 ء میں معرض وجود میں آنے والا ملک مشرق وسطیٰ میں سب سے زیادہ طاقت ور اور جدید ترین اسلحہ سے مسلح ملک اسرائیل ہی ہے۔ امریکہ نے اسرائیل کے خلاف کوئی قرار داد یو این میں پاس ہونے نہیں دی۔ وقفے وقفے کے بعد اسرائیل نہتے فلسطینیوں کو اپنی طاقت کا مظاہرہ کرکے اپنے ظلم کو دہراتا ہے۔JU DISATION اسرائیل کی بہت پرانی پالیسی ہے۔ اس پالیسی کے مطابق جہاں کہیں بھی اسرائیلی یہودی عرب فلسطینیوں کی تعداد سے کم ہیں وہاں یہودی آبادی کو بڑھایا جائے۔باہر کے ممالک سے یہودیوں کو اسرائیل لانے کیلئے ایک (ZIONIST) تنظیم 1929ء میں قائم ہوئی تھی۔ یہ تنظیم اس کام کے لئے عبرانی (HEBREW) زبان کا لفظ (ALIYA) استعمال کرتے ہیں۔ یہ لفظ مذہبی جذبات کا حامل ہے۔ اس لئے یہ تنظیم اس کو مذہبی رنگ دے کر یہودی کو ترغیب دیتی ہے کہ توریت کے مطابق فلسطین کی زمین کو یہودی نسل کے لئے مختص کردیا گیا تھا۔ اس پالیسی کے تحت یہ ایجنسی اب تک بیرونی ممالک سے تین بلین یہودیوں کو اسرائیل لاچکی ہے۔ساری دنیا جان چکی ہے کہ اسرئیلی امریکی گٹھ جوڑ سے مظلوم فلسطینیوں پر عرصہ حیات تنک کئے ہوئے ہے اور جب بھی انہیں موقع ملتا ہے فلسطین کا علاقہ قبضہ میں لے لیتے ہیں، گٹھ جوڑ کو توڑنا اور مظلوم فلسطینیوں کی مددکرنا عالم اسلام کا اخلاقی فریضہ ہے ،عالم اسلام کو اس گٹھ جوڑ کیلئے اقوام متحدہ کا میں یہ مسئلہ اٹھانا ہوگا کیونکہ چین ،فرانس ،جرمنی اور روس کی طرح کئی ممالک ہیں جن کی مدد حاصل کی جا سکتی ہے ۔

متعلقہ خبریں