Daily Mashriq


سرائیکی وسیب کے لوگ سوال تو پوچھیں گے

سرائیکی وسیب کے لوگ سوال تو پوچھیں گے

سرائیکی وسیب میں عام لوگ ہوں یا اہل دانش سبھی کے ہونٹوں پر دو سوال ہیں۔ اولاً یہ کہ شدت پسندی کے خلاف پچھلی حکومتوں کی طرح کارروائی کرنے کے اعلانات کے باوجود موجودہ حکومت بھی زبانی جمع خرچ میں کیوں مصروف ہے؟ ثانیاً دن بہ دن بڑھتی ہوئی مہنگائی سے پیدا ہوتے مسائل سے حکومت کی چشم پوشی۔ اس معاملے میں وہ اپنے وسیب کے وزیر اعلیٰ ہائوس پہنچے سردار عثمان بزدار سے شدید نالاں ہیں۔ سردار صاحب اپنے آبائی ضلع کے لوگوں کو سفری سہولت دینا چاہتے تھے‘ نئی بسوں کی خریداری کی بجائے لودھراں بہاولپور کے درمیان چلنے والی بسیں لے اڑے۔ خیر چھوڑیں حکمرانوں کی ترجیحات میں واہ واہ کا شوق زیادہ اور خدمت خلق کم ہوتی ہے اس لئے اس نکتہ پر سر کھپانے کی ضرورت نہیں۔ ابتدائی دو سوالات کے حوالے سے باتیں کرتے ہیں‘ فیشن کے طور پر نہیں زمینی حقائق کی روشنی میں عرض کرتا ہوں کہ قدیم انڈس ویلی (اب پاکستان کی جغرافیائی حدود) میں سرائیکی بولنے والوں کا خطہ صوفی مزاج لوگوں کا خطہ سمجھا جاتا تھا۔وجہ اس کی یہی ہے کہ اس خطے میں اسلام زیادہ تر صوفیائے کرام اور دوسرے بزرگوں کی تبلیغ سے پھیلا۔ بیرونی لشکروں کے ساتھ آنے والے خاندان گو یہاں آباد ہوئے مگر عوام کے دلوں تک صوفیا اور بزرگوں نے رسائی حاصل کی۔ پاکستان کے جن دو شہروں میں سب سے زیادہ اولیائے کرام کی خانقاہیں ہیں وہ دنوں شہر ملتان اور اوچ شریف سرائیکی وسیب میں ہیں۔خواجہ غلام فرید‘ حیدر ملتانیؒ اور شاہ شمس سبزواریؒ کی دلوں کے تار چھیڑتی شاعری آج بھی روز مرہ گفتگو کا حصہ ہے۔ مہمان نوازی کا عالم یہ ہے کہ آج بھی اس خطے میں بچوں کو بھوکا سلا کر مہمان کی خدمت کرنے والے خاندان موجود ہیں۔ علم د وستی اور شرف انسانیت سے مالا مال اس سرائیکی وسیب کے قدیم ترین شہر ملتان میں راجہ پرہلاد کا وہ دانش کدہ اب کھنڈر کی صورت موجود ہے جسے تاریخ نویسوں اور محققین نے اس خطے میں توحید پرستوں کا پہلا علمی مرکز قرار دیا ہے۔ معلوم تاریخ میں سات ہزار سال پہلے کی بات ہے۔علم انسانیت روایات اور سماجی اقدار کی دولت سے مالا مال اس خطے میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں شدت پسندی کے بیج ریاستی سر پرستی میں بوئے گئے۔ سرائیکی پچھلے 34 برسوں سے شدت پسندی کی فصل کاٹ رہے ہیں۔ پہلا زخم بھرتا نہیں کہ دوسرا لگ جاتا ہے۔ ہم ایسے بد قسمت ہیں کہ اپنے زخم کسی کو دکھا بھی نہیں سکتے۔ عجیب زمانہ آگیا ہے کہ مقتول و مظلوم کا ذکر شدت پسندی کو فروغ دینا سمجھا جاتا ہے۔ سو سو قتلوں میں ملوث لوگ جہاں رہا ہو جاتے ہوں وہاں ایک عام زمین زادے کے قتل پر کون دو آنسو بہاتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) سے سرائیکی آبادی کو یہی گلہ تھا کہ وہ شدت پسندوں کی اتحادی و مربی ہے اب سبھی محو حیرت ہیں کہ تحریک انصاف بھی اس خطے میں انہی قوتوں کی سیاسی اتحادی و سرپرست ہے۔ آپریشن ضرب عضب اور رد الفساد شروع ہوئے تو لوگ چیخ چیخ کر شدت پسندوں کے مراکز اورسہولت کاروں کی نشاندہی کرتے رہے لیکن سنی ان سنی کردی گئی۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ صوفی مزاج وسیب کو شدت پسندی کی دیمک چاٹ رہی ہے۔ موثر علاج اور اقدامات کی ضرورت ہے۔ ریاست اور حکومت کو اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے یہ تاثر نہیں ملنا چاہئے کہ بعض اقدامات بس شوشا کے لئے ہیں۔ دنیا بہت سیانی ہوگئی ہے صاحب‘ سوشل میڈیا میں لاکھ برائیاں ہیں مگر اس کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ تصویر کے دونوں رخ سامنے لے آتا ہے‘ پردہ داری اب ممکن نہیں۔ ان حالات میں اگر سرائیکی وسیب کے لوگ تخت لہور اور اسلام آباد سے شاکی ہیں تو اسے نسل پرستوں کا نوحہ کہنے کی بجائے زمینی حقائق کوسمجھنے کی ضرورت ہے۔ وفاقی حکومت دیگر معاملات کے ساتھ اپنے ایک وزیر کے رویوں اقدامات اور سرائیکی دشمن معاملات کا بھی نوٹس لے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ وفاقی وزیر بہاولپور کے اندر ایسے بیج بو رہے ہیں جو آگے چل کر سرائیکی پنجابی کشمکش کو تلخی و شدت پسندی میں تبدیل کردیں گے۔ کسی تاخیر کے بغیر ہمہ قسم کی شدت پسندی کا نوٹس لیتے ہوئے قانون کی بالا دستی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ موثر اقدامات میں تاخیر سے سماجی وحدت کو تقسیم کرکے مقاصد حاصل کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ کیا صوبائی اور وفاقی حکومت سرائیکی وسیب کے لوگوں سے کئے گئے وعدے پورے کر پائیں گی یہ سوال ہے اورجواب؟۔ دوسرا مسئلہ مہنگائی کی بدترین صورتحال ہے۔ صوبہ پنجاب میں پسماندگی اور مسائل کے حوالے سے سرائیکی بولنے والے اضلاع پہلے نمبر ہیں۔ چھوٹے بڑے شہروں میں روز گار کے مواقع کم ہیں اصلاح احوال کے لئے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ غربت کی چکی میں پستے ہوئے لوگوں کو سانس لینا تو نصیب ہو۔ پنجاب کے تین ڈویژنوں ملتان‘ بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان کے ساتھ بھکر و میانوالی کے کاشتکاروں، (باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں