Daily Mashriq

کیا بول رہے ہو بھائی؟

کیا بول رہے ہو بھائی؟

الفاظ کی کئی اقسام ہوتی ہیں یہ باتیں کرتے ہیںسانس لیتے ہیں ان میں بڑی توانائی ہوتی ہے یہ آپ کو غمگین کرتے ہیں اور خوشیاں بھی دیتے ہیں۔ یہ بلا سوچے سمجھے منہ سے نکل جائیں تو آپ کے لیے بہت سے مسائل بھی پیدا کرسکتے ہیں انہیں بہت سوچ سمجھ کر استعمال کرنا چاہیے۔ سیانے کہتے ہیں کہ تلوار سے لگا ہوا زخم تو مندل ہوجاتا ہے لیکن زبان کا دیا ہوا زخم ساری زندگی ہرا رہتا ہے۔ یہ آپ کے جذبات کے ساتھ کھیلتے ہیں یہ آپ کو مطمئن بھی کرتے ہیں اور دکھ بھی دیتے ہیں یوں کہیے یہ ہنساتے بھی ہیں اور رلاتے بھی ہیں۔ یہ ابلاغ کا ایک موثئر ذریعہ ہیں ۔ہر لفظ کی ایک بھرپور شخصیت ہوتی ہے فن کار جانتا ہے کہ کس لفظ کو کہاں استعمال کرنا ہے پڑھنا ، لکھنا اور بولنا یہ سب کچھ الفاظ ہی کی بدولت ممکن ہے۔ الفاظ سے بڑی خوبصورت تصاویر بنتی ہیں یہ بطور علامت کے بھی استعمال ہوتے ہیںجیسے لوٹا ایک لفظ ہے۔ یہ اپنے لغوی معنوں کے علاوہ ان سیاستدانوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جو سیاسی جماعتیں بدلنے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں آج ایک پارٹی میں تو کل کسی پارٹی میں ! پرانی بات ہے اسی قسم کے ایک لوٹے کو ان کے حلقے کے لوگوں نے کہا جناب یہ کیا بات ہوئی ہم آپ کو ووٹ دیتے ہیں آپ قومی اسمبلی کے ممبر بن جاتے ہیں پھر کچھ عرصے بعد آپ ادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلے کے مصداق پارٹی بدل لیتے ہیں۔سیاستدان تو سیاستدان ہوتا ہے اس کی زبان قینچی کی طرح چلتی ہے وہ جانتا ہے کہ کس وقت کیا کہنا ہے۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا میرے دوستو! آپ لوگ ان چکروں میں مت پڑو تمہیں میری پارٹی سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے البتہ تم یہ دیکھو کہ میری ذات سے تمہیں کتنا فائدہ پہنچتا ہے کیا میں آپ لوگوں کی خدمت کرنے میں ناکام رہا ہوں؟ کیا میں نے اپنے حلقے کے مسائل حل نہیں کیے؟اگر سب کچھ درست سمت جارہا ہے تو بس تم آم کھانے سے تعلق رکھو پیڑ گننے سے کیا فائدہ!اب آپ خود سوچئیے کہ ایک عام ذہن اس بات کا کیا جواب دے سکتا ہے۔ لوگ ان کا جواب سن کر لاجواب ہوگئے وہ جب تک زندہ رہے اپنے حلقے میں ایک آدھ بار چھوڑ کر ہمیشہ کامیاب ہوتے رہے ۔ فن کار الفاظ کا جادو جگانا جانتے ہیںبات ایک ہی ہوتی ہے لیکن الفاظ کے ردوبدل سے اس میں جادوئی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے۔ ایک لکھاری نے کسی جگہ لکھا ہے کہ میں نے اپنی کالم نگاری کے آغاز کے دنوں میں ایک مرتبہ اپنے کالم میں وزیر اعظم کے خلاف جذبات میں آکر بہت کچھ لکھ ڈالا اسے گالی تک دے ڈالی جس کی وجہ سے وہ مجھ سے ناراض ہوگئے اور انہوں نے میرے اخبار کے مالکان سے میری شکایت تک کرڈالی۔ ظاہر ہے مجھے الفاظ کو صحیح طور سے برتنا نہیں آتا تھا اس لیے ایسی غلطی کا ارتکاب کر بیٹھا ! یہ تو میں نے پھر بہت بعد میں سیکھا کہ آپ کسی کی برائی یا خرابی بیان کرتے ہوئے ایسے الفاظ کا انتخاب کیجیے کہ اس کی پیشانی پر بل بھی نہ پڑے۔ آپ کے قلم سے اس کی شخصیت پر براہ راست حملہ بھی نہ کیا جائے لیکن آ پ کی تحریر پڑھنے والے اسے بے اختیار گالیاں دینا شروع کردیں !بعض لوگوں کو سچ بولنے کا بہت شوق ہوتا ہے مگر اپنی سچائی کے اظہار کے لیے وہ جن الفاظ کا انتخاب کرتے ہیں وہ انتہائی نامناسب ہوتے ہیں۔دل دکھانے والے ہوتے ہیں جس پر تنقید کی جارہی ہوتی ہے وہ اسے منفی معنوں میں لیتا ہے بات بگڑ جاتی ہے اور وہ ہمیشہ کے لیے آپ کا دشمن بن جاتا ہے اگر یہی سچ سلیقے سے بولا جائے الفاظ کا انتخاب درست ہو تو سننے والے تک آپ کی بات بھی بڑے اچھے انداز سے پہنچ جاتی ہے اور اگر وہ عقل سلیم رکھتا ہو تو آپ کی بات کو مثبت انداز میں لیتے ہوئے اپنی اصلاح کی کوشش بھی کرتا ہے۔ سخت الفاظ پتھر وں کی طرح ہوتے ہیں ان کے استعمال سے معاملات سنورنے کی بجائے بگڑتے چلے جاتے ہیں۔ اس سے انسانی تعلقات میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے معاشرے میں فساد پھیلتا ہے !ایک بہت بڑی غلطی جو ہم میں سے اکثر لوگ کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ میرا کہا ہوا سچ ہے یہ حرف آخر ہے اب اس پر کوئی بات نہیں ہوسکتی ! یہ انتہائی نامناسب رویہ ہے یہ گفتگو کی موت ہے اس سے ڈائیلاگ موت کے گھاٹ اتر جاتا ہے آج ہمارے معاشرے میں فتنہ و فساد کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ مکالمے کی روایت دم توڑ رہی ہے۔ مسائل پر بات نہیں ہوتی بلکہ فرمان جاری کیے جاتے ہیں اپنے کہے ہوئے کو درست سمجھا جاتا ہے اور مخاطب کی بات کو غلط !کسی کی رائے کو مسترد کرنے کے لیے اگر نرم الفاظ کا استعمال کیا جائے تو بہتری کی صورت پیدا ہوسکتی ہے کسی کو یک جنبش قلم رد کردینے اور جھوٹا قراردینے کی بجائے اگر یہ کہا جائے کہ جو بات آپ نے کہی ہے یقینا اس میں بھی بڑا وزن ہے لیکن میرا خیال آپ سے ذرا سا مختلف ہے۔ ہوسکتا ہے میری بات درست نہ ہو بہتر یہی ہوگا کہ ہم مل بیٹھ کر باہمی صلاح مشورے سے اس مسئلے کا کوئی حل نکال ہی لیں!قرآن پاک میں ان لوگوں کی تعریف کی گئی ہے جو برائی کا علاج نیکی سے کرتے ہیں اور اگر ان کا واسطہ جاہلوں سے پڑ جائے تو وہ سلام کرکے علیحدہ ہوجاتے ہیں !یہی وہ چھوٹی چھوٹی باتیں اور رویے ہوتے ہیں جن سے معاشرے میں امن قائم ہوتا ہے۔ فساد کے دروازے بند ہوتے ہیں ! الفاظ کا ہماری زندگی میں بڑا اہم عمل دخل ہوتا ہے انہیں بہت سوچ سمجھ کر استعمال کرنا چاہیے ہمیں بچپن سے سکھایا جاتا ہے کہ پہلے تولو پھر بولو لیکن ہم میں سے بہت کم لوگ بولنے سے پہلے تولنے کی تکلیف گوارا کرتے ہیں۔ آج کل میڈیا کا دور ہے ٹاک شوز کا زمانہ ہے صحافی بول رہے ہیں سیاست دان بول رہے ہیں اور بے تحاشہ بول رہے مگر یہ سوچنے کی زحمت کوئی بھی گوارا نہیں کرتا کہ وہ کیا بول رہا ہے ؟ ۔

متعلقہ خبریں