Daily Mashriq

پاکستان نے زیادہ تر کارروائیاں دباؤ میں آکر کیں، ایف اے ٹی ایف

پاکستان نے زیادہ تر کارروائیاں دباؤ میں آکر کیں، ایف اے ٹی ایف

اسلام آباد: عالمی میعارات کی مطابقت میں پاکستانی اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ایشیا پیسفک گروپ (اے پی جی)، جو فنانشل ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی ذیلی تنظیم ہے، نے انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے اداروں کے درمیان روابط کے فقدان کی نشاندہی کردی۔

اے پی جی کا وفد پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے 3 روزہ دورے پر آیا تھا جس کے اختتام پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا تاہم اس تمام بات چیت میں حصہ لینے والے افسران نے زیادہ تر مایوسی کا اظہار کیا۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ دورے پر آئے وفد نے متعدد متضاد معاملات کی نشاندہی کی مثلاً پاکستان کا کہنا تھا کہ مساجد اور مذہبی ادارے دہشت گردی میں ملوث نہیں جبکہ اعداد و شمار کے مطابق زیادہ تر ان تقاریر اور عطیات اکٹھے کرنے پر سزا اور جرمانے کیے گئے جو مساجد اور متعلقہ نظام سے وابستہ تھے۔

تاہم باضابطہ طور پر اس طرح کی کوئی بات سامنے نہیں آئی کے جنہیں سزا دی گئی ان کا تعلق القاعدہ ، کالعدم تنظیموں یا ان تنظیموں سے تھا جن پر بھارت سرحد پار دہشت گردی کا الزام عائد کرتا ہے لہٰذا ان افراد کے خلاف کارروائی کے مقصد نے اے پی جی وفد کو متاثر نہیں کیا۔

وفد نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مختلف حکومتی اداروں کے درمیان روابط کے فقدان اور انکے خفیہ اداروں سے معاملات غیر موثر ہونے کی بھی نشاندہی کی۔

وفد کے مطابق حکومت نے انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے خلاف مذکورہ کارروائیاں خطرے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے نہیں بلکہ زیادہ تر دباؤ میں آکر کیں۔

ذرائع کے مطابق آخری روز اے پی جی وفد اور پاکستانی حکام کے درمیان بات چیت کے 4 ادوار ہوئے جس میں وفد نے 8 کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو ناکافی قرار دیا اور ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنگ فرم کے ذریعے کیے گئے تھرڈ پارٹی آڈٹ کا جائزہ لیا جس میں بھی سلسلہ وار خامیوں اور کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔

اس بارے میں ایک سینیئر عہدیدار نے بتایا کہ اے پی جی کا وفد اپنی رپورٹ مرتب کرے گا جو شاید پاکستان کو بھی فراہم کی جائے تاہم پاکستان اس سلسلے میں مزید اقدامات اٹھا کر آئندہ 3 ہفتوں میں ایف اے ٹی ایف کے پاس علیحدہ رپورٹ جمع کروائے گا۔

بعد ازاں مئی میں ایف اے ٹی ایف ان دونوں رپورٹس کا جائزہ لے کر جون میں اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ آیا پاکستان کو ستمبر میں گرے لسٹ سے نکال جائے یا بلیک لسٹ میں درج کردیا جائے جس کا بڑی حد تک انحصار سفارتی کوششوں اور جیو پولیٹکل صورتحال پر بھی ہوگا۔

متعلقہ خبریں