Daily Mashriq

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی نئی لہر

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی نئی لہر

رمضان المبارک کے شروع ہوتے ہی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بیہمیت اور مظالم کی نئی مہم بھارت کی اخلاقی گراوٹ کا ثبوت مہیا کرتی ہے۔ رمضان المبارک میں مسلمان چونکہ بالعموم عبادات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور روزے رکھتے ہیں اس لیے بھارتی فوج کے کمانڈروں نے اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے نہتے مسلمانوں کے عزم کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے ۔ لیکن انہوں نے اس طرف دھیان نہیں دیا کہ عبادات اور روزہ داری مسلمانوں کو اور بھی پرعزم کرتی ہے اور تقویٰ کے اگلے مراحل کی طرف لے جاتی ہے۔ بھارت کے بیمار ذہن لیڈروں نے اس بار محض رمضان المبارک کی روزہ داری ہی کو مسلمانوں کی کمزوری کے طور پراستعمال کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ اس مہم کے دوران میڈیا کے مقبوضہ کشمیر میں داخلے پر پابندی لگائی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اور شہر شہر ،گاؤں گاؤں مجاہدین کی تلاشی کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ بھارتی فورسز نے شہید برہان احمد وانی کے جانشین سبزار احمد کو فائرنگ کے تبادلہ میں شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ جب کہ پلوامہ کے دیہات کے رہنے والوں کا کہنا ہے کہ دو روز قبل سبزار احمد اور اس کے دو ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں فوج کی حوالگی میں قتل کیا گیا ہے۔ سبزار احمد کی شہادت کی خبر جاری ہوتے ہی مقبوضہ کشمیر کے ایک سو سے زیادہ دیہات اور قصبوں میں احتجاج مظاہرے ہوئے۔ دیہاتیوں نے فوج پر پتھراؤ کیا۔ فوجیوں کی فائرنگ سے تین جوانوں کی شہادت سمیت 13افراد کے شہید کیے جانے کی خبریں ہیں۔ ایک ماہ تک انٹرنیٹ پر پابندی عائد کیے رکھنے کے ایک دن بعد ایک بار پھر متعدد سائٹس بند کر دی گئیں۔ اس صورت حال سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کوئی بڑا انسانی المیہ برپا ہو سکتا ہے۔ کیونکہ عام کشمیری نوجوان مجاہدین کی تنظیموں کی کسی ہدایت کے بغیر خود ہی بھارتی فوج کے خلاف منظم ہو رہے ہیں۔ اس لیے بین الاقوامی کمیونٹی کو اس صورت حال کا نوٹس لیتے ہوئے فوری مداخلت کرنی چاہیے۔ کیونکہ کسی قوم کا جبلی طور پر کسی قابض فوج کے خلاف منظم ہو جانا اس بات کی علامت ہے کہ مظالم کے ذریعے خوف و ہراس پیدا کرنے کے ہتھکنڈے اب کامیاب نہیں ہو سکیں گے اور مقبوضہ کشمیر کے عوام اب ہر قیمت پراپنی جدوجہد جاری رکھنے پر آمادہ ہو چکے ہیں۔ وزیر اعظم کے مشیر اُمور خارجہ سرتاج عزیز نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیری نوجوانوں کی شہادت کی شدید مذمت کی ہے اور اقوام متحدہ کی توجہ بھارت کی اس چال کی طرف مبذول کرائی ہے کہ بھارت کشمیر میں آبادی کے تناسب کو خلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے لیے وہ بھارت کے ہندوؤں کو کشمیر میں لا کر یہاں آباد کر رہا ہے۔ اس طرح ایک طرف بھارت رمضان المبارک میں کشمیری مسلمانوں کو ہدف بنا رہا ہے دوسری طرف وہ مقبوضہ کشمیر کی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تیسرے اپنے مظالم کی پردہ پوشی کے لیے بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں میڈیا کے داخلے پر پابندی عائد کی ہوئی ہے اور انٹرنیٹ کی متعدد سائٹس بند کر دی ہیں اور ان مظالم کی طرف سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کے ساتھ ملحق لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی حکمت عملی کے تحت کر رہا ہے۔ حال ہی میں بھارت کے لیڈروں نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کی حق استصواب رائے کے لیے جدوجہد کو دہشت گردی کا رنگ دینے کے لیے یہ پراپیگنڈہ شروع کر دیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں داعش کے عناصر داخل ہو گئے ہیں اور وہاں بھارت کی عوامی مزاحمت میں داعش کا ہاتھ ہے بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد آزادی کے خلاف یہ حربہ آزمانے سے بھارت کی بوکھلاہٹ سامنے آئی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارتی قیادت مقبوضہ کشمیر کے عوام کی برہمی کے اسباب کی جانکاری کے حوالے سے صورت حال کا حل نکالنے کی یک سمت کوشش کی بجائے ایسے مریض کا رویہ اختیار کیے ہوئے جوتکلیف رفع کرنے کے لیے ہر قسم کی دوا استعمال کرنے پر مائل ہو۔ لہٰذا قابض فوج کی کوئی ایک حکمت عملی نہیں ہے۔ دوسری طرف کشمیریوں کی جدوجہد برہان وانی شہید اور اس کے ساتھیوں کی کارروائیوں کے باعث کہیں کہیں گوریلا کارروائیوں تک پہنچتی ہوئی نظر آتی ہے۔ لیکن یہ منظم نہیں بلکہ خود رو ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام حریت کانفرنس کی منظم سیاست کے ساتھ ساتھ برہان وانی کی حزب المجاہدین کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ اس صورت حال کے باعث احتمال پیدا ہو گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جدوجہدکوئی نیا رُخ اختیار کر لے اور کسی انسانی المیہ کا پیش خیمہ ثابت ہو۔

اداریہ