Daily Mashriq


باب دوستی پر آمدورفت بحال

باب دوستی پر آمدورفت بحال

بائیس روز کی بندش کے بعد چمن بارڈر افغانستان کی درخواست پر اور رمضان المبارک کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کھول دیا گیا۔ اس فیصلہ کاسرحد کے دونوں طرف رہنے والوں نے جس مسرت کے ساتھ خیر مقدم کیا ہے وہ مذہبی ' ثقافتی ' لسانی اور ہمسائیگی کے مضبوط رشتوں کی دلیل ہے۔ سرحد کھولنے سے پہلے علاقے کے مشران کا ایک جرگہ بھی منعقد ہوا جو اس بات کی دلیل ہے کہ باب دوستی کھولنے کا مطالبہ اور اس کی تائید علاقے کے اپنے لوگوں کی طرف سے کی جا رہی ہے۔ جہانگیرکلی اور لقمان کلی جہاں افغان فورسز نے پاکستان کے مردم شماری کے عملے پر حملہ کیا تھا وہاں حسب دستور سابق فرنٹیئر کانسٹیبلری تعینات ہے۔ حملے کے بعد طے پایا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے حکام بین الاقوامی نقشوں کی مدد سے طے کریں گے کہ دونوں ملکوں کی سرحد یعنی ڈیورنڈ لائن کہاں کہاں سے گزرتی ہے۔ امید ہے دونوں طرف سے ماہرین نے رپورٹ پیش کر دی ہو گی۔ چمن میں باب دوستی کا بند رہنے کے بعد دوبارہ کھولنے کا فیصلہ خیر سگالی کے جذبہ سے کیا گیا ہے اور مقامی لوگوں نے جس طرح اس فیصلہ پر اطمینان کا اظہار کیا ہے وہ اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے باشندے خاص طور پر سرحد کے قریب رہنے والے لوگ اس سرحد کا احترام کرتے ہوئے پرامن اور خوش گوار تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں جیسے کہ ماضی میں ڈیورنڈ لائن کی بین الاقوامی سرحد کے باوجود دونوں ملکوں کے عوام کا ملنا جلنا جاری رہتا تھا۔ آج کے زمانے میں ایک تو آبادی میں کافی اضافہ ہو چکا ہے ۔ دوسرے مقامی آبادی کی بنت میں بھی تھوڑا فرق آگیا ہے جو قدرتی امر ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ سرحد کو سمگلروں اور شرپسندوں سے بچانے کے لیے اس کی نشاندہی کر دی جائے اور اس کی نگرانی کا کڑا بندوبست کیا جائے۔ آج کل ایسے وسائل عام ہیں کہ سرحد پار کرنے والے آسانی سے سفری دستاویزات حاصل کر سکیں۔ اس سے باب دوستی کے کھل جانے کا مطالبہ یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان یہ قانونی راستہ باقاعدہ سفری دستاویزات کے ساتھ سفر کرنے والوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

فاٹا پارلیمنٹیرینز کا اعلان

حکومت نے فاٹا کے خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام کے مطالبے کے مطابق قومی اسمبلی کی کارروائی ٹیکنیکل بنیادوں پر غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی تو کروا دی تاہم فاٹا پارلیمنٹیرینز کے لیڈر شاہ جی گل آفریدی کے اعلان سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ ٹیکنیکل ناک آؤٹ انضمام کا مطالبہ کرنے والوں کی مکمل شکست ثابت نہیں ہو سکا۔ حکومت نے نہایت چابکدستی سے فاٹا انضمام کے لیے آئینی ترمیم اور رواج ایکٹ کی منظوری کے لیے بل فاٹا پارلیمنٹیرینز کے مطالبہ کے مطابق 20مئی سے پہلے قومی اسمبلی میں پیش تو کر د یئے لیکن ظاہر ہے کہ 26مئی تک اتنی مہلت نہ تھی کہ یہ بل پاس ہو جاتے اور 26مئی کو بجٹ بھی پیش ہو جاتا۔ اوپر سے جمعیت العلمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان کی وزیر اعظم کو ٹیلی فون کال نے اس مہلت کو اور بھی کم کر دیا جس کے جواب میں وزیر اعظم نواز شریف نے ان بلوں کی منظوری کے بارے میں اسمبلی کی کارروائی کو اپنے وطن واپس آنے تک مؤخر کروا دیا۔ اب جب کہ بجٹ پر بحث شروع ہو چکی ہے اس میں بھی تقریباً دو ماہ لگ جائیں گے۔ تاہم فاٹا پارلیمنٹیرینز کے لیڈر شاہ گل آفریدی نے ہفتہ کے روز اعلان کر دیا ہے کہ فاٹا کے انضمام میں تاخیر کے خلاف احتجاج کے طور پر ماہ رمضان کے بعد اسلام آباد میں قبائلی عوام دھرنا دیں گے۔ انہوں نے ایک ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اپنے الفاظ پر قائم نہیں رہ سکی اور فاٹا اصلاحات کے حوالے سے 20مئی کی ڈیڈ لائن تک وعدہ پورا نہیں کر سکی۔ انہوں نے کہا ہے کہ قبائلی عوام اپنے عام مطالبات کے پورا ہونے تک اسلام آباد میں دھرنا دیں گے ۔ اوریہ انتباہ بھی کیا ہے کہ قبائلی عوام دس سال تک دھرنا دے سکتے ہیں کیونکہ وہ پہلے ہی سے مشکلات میں زندگی گزارنے کے عادی ہیں۔ حکومت نے جب سرتاج عزیز کی سربراہی میں فاٹا اصلاحات کی کمیٹی بنائی تھی اور اس کی سفارشات کو کابینہ کے اجلاس میں منظوری بھی دے دی تھی تو اس وقت یہ سوچ لینا چاہیے تھا کہ ان سفارشات کو پارلیمنٹ میں بھی لے کے جانا ہے اور وہاں سے منظور بھی کروانا ہے۔ اس وقت بھی حکومت سے یہ بات ڈھکی چھپی نہیں تھی کہ اس کے اپنے ہی اتحادی مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی ان اصلاحات کے خلاف صف آراء ہیں۔ اس لیے کابینہ کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں بل لے جانے میں اتنی تاخیر نہیں کرنی چاہیے تھی جو کی گئی جب کہ یہ بھی معلوم تھا کہ 26مئی کو بجٹ پیش ہو گا اور فاٹا اصلاحات پر کارروائی آگے نہیں چل سکے گی۔ حکومت کے اس طریق کار کی وجہ سے فاٹا کے عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے، حکومت کو اس بات سے بھی آگاہ ہونا چاہیے۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ رمضان المبارک کے دوران ہی شاہ جی گل آفریدی اور ان کے ساتھ فاٹا پارلیمنٹیرینز سے رابطے کرے۔ عدم اعتماد کی جو فضا پیدا ہوئی ہے اس کا ازالہ کرے ۔ اور خلوص نیت کے ساتھ ایسا پروگرام طے کرے کہ رمضان المبارک کے بعد فاٹا انضمام کے بلوں پر کارروائی کب ہو گی اورکتنے دن میں مکمل کر دی جائے گی اور اس پر پہلے کی طرح تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کی حمایت بھی حاصل کر لی جائے گی۔

متعلقہ خبریں