Daily Mashriq

انتخابی بجٹ؟

انتخابی بجٹ؟

ملک کا ہر وزیر خزانہ معاشی جادوگر ہوتا ہے۔ اسے لفظوں سے کھیلنے اورنقل کو اصل بنا کر پیش کر نے کا فن آتا ہے ۔اگر کوئی اس صلاحیت سے محروم ہوتا ہے تو عالمی مالیاتی اداروں کی سرپرستی اور ماتحت بیوروکریسی وزیر خزانہ کو اس فن سے آشنا کرتے ہیں ۔ہوتا یہی آیا ہے کہ پھر وہ بجٹ کے نام پر طوطا مینا کی کوئی اور کہانی سناتا ہے ،کاغذو ں میں کچھ اور ہی داستان درج ہوتی ہے اور عمل کی دنیا میںجو چیز کارفرما ہوتی ہے اس کا ان دونوں باتوں سے دور کا تعلق بھی نہیں ہوتا ۔اس تضاد اور لفظوں کے ہیر پھیر سے چکرا کررہ جاتے ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار میں بھی یہ جادوئی کمال کی حامل صلاحیت بدرجہ اُتم موجودہے ۔اسحاق ڈار نے چودہ کھرب خسارے اور سنتالیس کھرب باون ارب نوے کروڑ حجم کا وفاقی بجٹ برائے سال2017,18 قومی اسمبلی میںپیش کیا ۔بجٹ میں پانچ سو کھرب کے نئے ٹیکسز تجویز کیے گئے ہیں۔پانچ سو پنسٹھ اشیا پر ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیا ہے۔دفاعی بجٹ نو سوبیس ارب روپے کر دیا گیا ہے۔بجٹ پیش ہونے کے بعد وزیر اعظم میاںنوازشریف نے اسے متوازن بجٹ کہا اور امیدظاہر کی کہ اس سے غریبوں کی زندگی پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔حزب اختلاف نے بجٹ کو الفاظ کا گورکھ دھندہ کہہ کر مسترد کیااور وہ بجٹ پیش ہوتے وقت بھی ایوان میں احتجاج کرتے دکھائی دئیے۔یہ مسلم لیگ ن کی حکومت کا پانچواں اور آخری بجٹ ہے کیونکہ اگلے سال کے اوائل میں ملک میں عام انتخابات منعقد ہونا ہیں ۔اس لئے بجٹ میں کہیں کہیں اس انتخابی ضرورت کا ملفوف انداز میں سامان کیا گیا ہوگا ۔گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کے انتخابات میں جھاڑو پھیر قسم کی انتخابی کامیابیوں سے حکمران جماعت مرکز میں بھی جھاڑو پھیرنے کی ریہرسل کر چکی ہے ۔ واضح رہے کہ ان انتخابات میں پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا تھا ۔اب یہ حقیقت سامنے آرہی ہے کہ بجٹ میں ترقیاتی بجٹ میں اضافہ اوروزیر اعظم کی صوابدید پر رکھے گئے فنڈز اس بجٹ کو انتخابی بنانے کی بھرپور طاقت رکھتا ہے ۔یوں تو بجٹ اب عوام کے لئے زیادہ اہمیت کے حامل نہیں رہے کیونکہ ایک بجٹ اپنے ساتھ منی بجٹس کی بہار لے کر آتا ہے ۔پٹرولیم اور بجلی کی قیمتیں گھٹتی بڑھتی رہتی ہیں جس کے اثرات بھی عام آدمی پر پڑتے ہیں ۔

منی بجٹ کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ صارف کو پتا ہی نہیں چلتا اور قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور اس کا اندازہ صارف کو اس وقت ہوتا ہے جب وہ خریدی گئی کسی چیز کا بل کائونٹر پر ادا کرنے جاتا ہے۔تب اسے اندازہ ہوتا ہے کہ فلاں شے کی قیمت تو خاموشی اور دبے پائوں بڑھ چکی ہوتی ہے۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں گھٹنے سے کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ گاڑیوں کے کرائے کم ہوئے ہوں ۔مہنگائی میں کمی ہوئی ہو مگر قیمتیں بڑھنے سے ہر چیز سپرنگ کی طرح اچھل کر اوپر چلی جاتی ہے۔یہ ایک مسلسل عمل ہے ۔اس لئے لوگ اب مثبت معنوں میںبجٹ کا انتظار کرنا بھول گئے ہیں ۔اب انہیں بجٹ کی صورت میں'' ایٹم بم'' اور منی بجٹس کی صورت میں'' کلسٹر بموں'' کا انتظار رہتا ہے ۔
بہت سی ایسی چیزیں ہیں کہ جن پر ٹیکس نہ بڑھائے جاتے تو اچھا تھا اور بہت سی چیزوں پر چھوٹ دینا بھی غیر ضروری ہے ۔مثلاََسیمنٹ ہر غریب وامیر کی ضرورت ہے ۔ فرنیچراور خشک دودھ بھی بلاتخصیص ہر فرد کی ضرورت ہے ۔ امیروں کا تو شاید ان چیزوں کی قیمتیں گھٹنے بڑھنے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا مگر غریبوں کو اپنی کٹیا کی تعمیر ومرمت کے لئے سیمنٹ،بیٹیوں کے جہیز کے لئے فرنیچر،بچوں یا بڑوں کے استعمال کے لئے خشک دودھ وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے اور ان کے لئے ایک روپے کا اضافہ بھی آسمانی بجلی ثابت ہوتا ہے ۔پولٹری کی صنعت پر ٹیکس میں کمی اچھی بات ہے مگر اس کے ساتھ ہی کئی افسانے گردش کرنے لگے ہیں ۔یہ سوال بھی اُٹھایا جانے لگا ہے کہ کیا پولٹری کی صنعت پر اس چھوٹ کا فائدہ عام آدمی کو بھی ہوگا اور مارکیٹوں میں مرغی کی قیمت کم ہوگی ؟بجٹ پیش کرنے سے ایک دن پہلے گزشتہ مالی سال کی اقتصادی رپورٹ جا ری کی گئی اور اس موقع پر بھی اسحاق ڈار نے یہ مژدہ سنایا کہ تاریخ میں پہلی بار ملکی معیشت کا حجم تین سو ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دس سال کے دوران پانچ فیصد کی شرح سے آگے بڑھ کر5.28شرح سے مجموعی پیداوار یا جی ڈی پی کا ہدف حاصل کرلیا ہے۔2019تک وزیر خزانہ رہا تو پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا پڑے گا۔اقتصادی رپورٹ کے مطابق حکومت ٹیکسز وصولی اور معاشی ترقی کے اہداف پوری طرح حاصل نہیں کرسکی ۔البتہ مہنگائی کی شرح کو چھ فیصد سے کم رکھنے میں کامیاب ہو ئی ہے ۔اقتصادی رپورٹ مالی سال کے اختتام پر جاری کی جاتی ہے جو حکومت کی کارکردگی اوراقتصادی سرگرمیوں کی بیلنس شیٹ ہوتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے جب زمام اقتدار سنبھالا تو ملک کی معیشت بری طرح حالات کی رسی پر ڈول رہی تھی ۔ اگر ملک میں آپریشن ضرب عضب کے نام پر عسکری اور مالی دہشت گردی کے خلاف بھرپور کا رروائیوں کا آغاز نہ ہوتا۔ اس کے بعد ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اوونر شپ ملی اور سیاست اور جرم کو الگ کرنے کی مہم رنگ لانے لگی ۔جس کے نتیجے میں معاشی مرکز کراچی دہشت گردوں کے چنگل سے آزاد ہوا۔اسی کے اثرات اب ملکی معیشت پر پڑنے لگے ہیں اور ڈولتی ہوئی معاشی کشتی کو استحکام اور ٹھہرائو ملنے لگا ہے۔تاہم اقتصادی ترقی اور ٹیکسز کا حجم بڑھانے کے لئے حکومتوں کو ابھی بہت کچھ کرنا ہوگا ۔سب سے پہلے حکمران اور بااثر طبقات کو ٹیکس دے کر عملی مثال قائم کرنا ہوگی اس کے بعد عوام اسی تقلید میں ٹیکس دے کر ملکی معیشت کی بہتری میںاپنا حصہ ڈالنے پر آمادہ ہوں گے۔

اداریہ