Daily Mashriq


تعلیمی اصلاحات کا دعویٰ

تعلیمی اصلاحات کا دعویٰ

آئین کے مطابق تعلیم حاصل کرناپانچ سے سولہ سال کی عمر کے ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے حکومت مذکورہ عمر کے تمام بچوں کو سکولوں میں داخل کرنے کی کوششیں کررہی ہے لیکن ابھی تک اس میںکامیاب نہیں ہو سکی۔ اگرچہ اس آرٹیکل کے مطابق پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تمام بچوں کو تعلیم فراہم کرنا حکومت کا آئینی فرض ہے لیکن پاکستان کی وفاقی اور صوبائی تما م حکومتوں کی توجہ یونیورسل پرائمری تعلیم کا ہدف حاصل کرنے پر مرکوز ہے لیکن اس ہدف کے حصول میںا بھی تک کوئی کامیابی حاصل نہیں کی جاسکی۔ پنجاب دعویٰ کرتا ہے کہ پرائمری لیول پر 'شرکت' کی شرح 90 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ لیکن یہاں پر یہ واضح نہیں کہ 'شرکت' کی شرح کا کیامطلب ہے اور اس شرح کو کس طرح داخلے کی خام اور خالص شرح سے جوڑا جاسکتا ہے اور پرائمر ی تعلیم کی تکمیل پر یہ شرح کس طرح اثرانداز ہوتی ہے۔ پنجاب کے مقابلے میں ملک کے دیگر صوبے بچوں کے سکولوں میں داخلے کی کم شرح کا دعویٰ کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ان صوبوں میں اس حوالے سے زیادہ بڑے مسائل پائے جاتے ہیں۔ تعلیمی پالیسی سازی کے حلقوں میں یہ بات اکثر سننے میں آتی ہے کہ سب سے پہلی ترجیح ملک کے تمام بچوں کو سکولوں میں داخل کرنا ہونی چاہیے جس کے بعد ہم تعلیمی معیار اور دیگر مسائل کے بارے میں سوچ بچار کریں گے۔ اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو وفاق کے ساتھ ساتھ ملک کے تمام صوبے بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا نظر آتے ہیں۔ لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو اس پالیسی میں بہت سے مسائل نظر آتے ہیں۔ معیارِ تعلیم اور بچوں کے سکول میں داخل ہونے اور تعلیم مکمل کئے بغیر سکول چھوڑنے کے درمیان ایک مضبوط تعلق پایا جاتا ہے۔ اگر بچوں کو ایسی معیاری تعلیم میسر نہیں آتی جو ان کی دلچسپی برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کی پڑھنے لکھنے اور نصاب میں دیئے گئے تصورات کو سمجھنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کے علاوہ بہتر مستقبل کی ضمانت نہیں دیتی تو ان کو سکول میں رکھنا انتہائی مشکل کام ہے۔ ان حالات میں بچوں کے علاوہ ان کے والدین کو بھی اپنے بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کی ترغیب دینا انتہائی مشکل ہے۔ آخر والدین اپنے بچوں کو سکول کیوں بھیجنا چاہیں گے ؟ والدین اپنے بچے کو اس صورتحال میں سکول بھیج کر اپنا پیسہ اور وقت کیوں ضائع کرنا چاہیں گے جب سکول سے وہ کچھ بھی نہیں سیکھ رہا یا بہت کم سیکھ رہا ہے ؟ ہم نہ صرف اپنے ملک کے تمام بچوں کو سکولوں میں داخل کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں (سرکاری تخمینوں کے مطابق ملک میں پانچ سے سولہ سال کی عمر کے 22 ملین بچے سکولوں سے باہر ہیں ) بلکہ ان بچوں کو بھی معیاری تعلیم فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جو سکولوں میں داخل ہیں۔ اس صورتحال میں ہم نے کیا لائحہِ عمل اختیار کرنا ہے ؟ کیا سکولوں سے باہر تمام بچوں کو سکولوں میں داخل کرنے کے لئے ہم کسی معجزے کا انتظار کر رہے ہیں ؟ اس بات کے کئی ناقابلِ تردید ثبوت موجود ہیں کہ پورے ملک میں پھیلے ہوئے زیادہ تر سرکاری سکول بچوں کو معیاری تعلیم فراہم نہیں کررہے۔ ملک میں ہونے والے اکثر امتحانات کے خراب نتائج وقتاً فوقتاً ہم سب کے سامنے آتے رہتے ہیں ۔ پنجاب ایگزامینیشن کمیشن کے پانچویں جماعت کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ طالب علموں کی ایک بڑی تعداد پڑھنے ، لکھنے کے علاوہ ریاضی کے بنیادی اصولوں سے بھی نابلد ہے۔ اسی طرح، میٹرک کے امتحانات کا جائزہ لیں تو اس میں طالب علموں کی اکثریت فیل ہوجاتی ہے اور اس تعلیمی درجے کے لحاظ سے انتہائی آسان امتحان میں بھی صرف 33 فیصد بچے پاس ہوتے ہیں۔ اوپر بیان کئے جانے والے امتحانات کے خراب نتائج میں پرائیویٹ سکولوں کے نتائج بھی شامل ہیں ۔ حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ 'او' اور 'اے ' لیول کرنے والے بچے مستقبل میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ پاس کرنے والے بچوں کے مقابلے میں بہتر ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں ۔ ان سب حقائق کی روشنی میں کیا ہمیں اب بھی سکولوں میں صرف داخلے کی پالیسی پر اپنی توجہ مرکوز رکھنی چاہیے ؟ کیا ہمیں ایسی اصلاحات کے نفاذ کو یقینی نہیں بنانا چاہیے جن کے ذریعے تعلیمی معیار میں اضافہ کیا جاسکے ؟ کچھ ماہرینِ تعلیم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں بچوں کو سکولوں میں داخلے کے ساتھ ساتھ تعلیمی معیار کی بہتری کے لئے بھی اقدامات کرنے چاہئیں جو ایک معقول پالیسی ہوگی اور بہت سے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک بھی اسی طرح کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں۔ لیکن یہاں پر یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ مذکورہ ممالک تعلیمی شعبے پر ہم سے کئی گنا زیادہ مالی اور انسانی وسائل خرچ کرتے ہیں۔ ہماری حکومت تعلیم پر مجموعی جی ڈی پی کا صرف 2 فیصد خرچ کرتی ہے جس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہم کم سے کم معیارِ تعلیم کے ساتھ یونیورسل انرولمنٹ کا ہدف حاصل کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ تعلیمی شعبے میں کوئی بھی معقول ہدف حاصل کرنے کے لئے ہمیں تعلیم پر زیادہ وسائل خرچ کرنے ہوں گے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ان وسائل کے مناسب استعمال اور ان سے حاصل ہونے والے نتائج پر بھی کڑی نظر رکھنی ہوگی۔ اگر ہم واقعی اپنے بچوں کا مستقبل روشن کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں داخلے، معیارِ تعلیم اور تعلیمی بجٹ میں اضافے کی پالیسی اپنانے سے پہلے اس پالیسی کے نفاذ اور اس سے حاصل ہونے والے نتائج پر سیر حاصل بحث کرنی ہوں گی ۔

متعلقہ خبریں