Daily Mashriq

د چا ا ومنو؟

د چا ا ومنو؟

سحری میں بہ عجلت ایک گلاس پانی پی کر' زیادہ کچھ لینے کی گنجائش ہی نہ تھی۔ ہفتے کا روزہ رکھنے کے بعد ایک بار پھر سوچ رہے ہیں د چا اومنو؟ مسلمان ہونے کی حیثیت سے جب کہ عوام کالانعام بھی ہیں یہ حق رکھتے ہیں کہ رمضان اور عیدین کے اعلان پر اپنی رائے کا اظہار کریں، کل شام مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا غالباً اسلام آباد کی کسی بلند و بالا عمارت کی چھت پر اجلاس جاری تھا۔دوربین کے سامنے ہر رکن باری باری کھڑا ہوتا۔ آسمان کی پہنائیوں پر نظریں جما کر وہ چاند دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا جس کے بارے میں ایک روز پہلے محکمہ موسمیات کے ماہرین نے واضح طور پر اعلان کردیا تھا کہ چاند کی پیدائش جمعرات اور جمعے کی درمیانی رات کو متوقع ہے اس لئے جمعہ کی شام کو اس کا نظر آنا ہر گز ممکن نہیں۔ محکمہ موسمیات کے اس دو ٹوک اعلان کے بعد رویت ہلال کمیٹی کاایک ایسے چاند کی تلاش جو وہاں موجود ہی نہ تھا ہم اسے کمیٹی کے ارکان کی سعی ناکام ہی کہہ سکتے ہیں اس کے باوجود وہ بڑے ذوق و شوق سے اس کام میں مصروف رہے۔ البتہ کمیٹی کے تا حیات چیئر مین نے میڈیا والوں کو خبردار کردیا تھا کہ ہماری جانب سے واضح اعلان سے پہلے تمہیں بے پرکی اڑانے کی ہر گز ضرورت نہیں۔ ان کی تنبیہہ کے باوجود بعض نجی ٹی وی چینلز پر قیا س آرائیاں جاری تھیں۔ سعودی عرب میں چاند نظر آگیا۔ کینیڈا میں کل روزہ ہوگا وغیرہ وغیرہ۔ ان تمام خبروں کے درمیان قوم کمیٹی کے اعلان کا بڑی بے چینی سے انتظار کر رہی تھی۔ زونل کمیٹیوں کی خبریں ٹی وی چینلز پر آتی رہیں۔ کراچی میں چاند نظر نہیں آیا' بلوچستان کی زونل کمیٹی نے بھی چاند کے نمودار نہ ہونے کا اعلان کردیا۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی کمیٹیوں نے بھی اسی طرح کے اعلانات کئے ہوں گے جو ہم نے نہیں سنے۔ پھر یہی 9 بجے رات کے قریب مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے اعلان کردیا کہ ملک میں کہیں بھی چاند نظر نہیں آیا اس لئے پہلا روزہ اتوار 28 مئی کو ہوگا۔ یہ اعلان سن کر ہم تو لمبی تان کر سو گئے ۔ یہی تین ایک بجے کے قریب برتنوں کے کھڑکھڑانے کی آواز نیم غنودگی کے عالم میں سنی۔ ہمزاد چونکہ تہجد گزار ہے ' سمجھے وہ حسب معمول نماز پڑھ رہا ہے۔ لیکن ایسا کچھ نہ تھا۔ ایک بار پھر قوم چاند نظر آنے یا نہ آنے کے پھڈے میں پڑ چکی تھی۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے اگر چاند نظر نہ آنے کا اعلان کردیا تھا تو یہاں پختونخوا میں پشاور کی ایک غیر سرکاری زونل کمیٹی نے اپنے طور پر مصدقہ شہادتوں کی بنیاد پر چاند نظر آنے کا اعلان کیا تھا اور ساتھ یہ بھی کہ پہلا روزہ اتوار کو نہیں ہفتے کو ہوگا۔ قوم بے چاری بالخصوص پختونخوا کی مجبور عوام رات گئے تک اسی شش و پنج میں مبتلا رہے کہ کس کی مانیں۔ محکمہ موسمیات نے بڑے وثوق کے ساتھ جمعہ کی شام کو چاند نظر آنے کے امکانات کو قطعی طور پر رد کردیا تھا۔ ان کی رائے کو تسلیم کریں یا پھر رویت ہلال کمیٹی کی بات مانیں جنہوں نے محکمہ موسمیات کے واضح اعلان کے باوجود جمعہ کی شام کو اسلام آباد میں محکمہ موسمیات کے سائنسی بنیادوں پر چاند نظر نہ آنے کے اعلان کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا اجلاس منعقد کیا اور آسمان پر ایک ایسے چاند کو تلاش کرتے رہے جو وہاں موجود ہی نہ تھا۔ یا پھر وہی فیصلہ صادر کردیا جو محکمہ موسمیات کا تھا یا پھر پشاور کی اس غیر سرکاری زونل کمیٹی کے اعلان کے مطابق ہفتے کو یکم رمضان سمجھیں جس نے اپنے فیصلے کے حق میں بے شمار شہادتیں پیش کیں۔ اس کمیٹی کے سٹاک میں عقابی نظر رکھنے والے ایسے شاہدین ہمیشہ موجود رہتے ہیں جن کے پاس آسمان پر غیر موجود چاند کو بھی ڈھونڈ نکالنے کا طویل تجربہ ہے۔ ہمارے ایک دوست قاری کہتے ہیں کہ اگر متذکرہ کمیٹی 27 یا 28 شعبان کو ازراہ تجربہ رمضان کا چاند دیکھنے کے لئے اجلاس بلا بیٹھے تو یہ شاہدین کرام اس روز بھی چاند نکال کر قوم کے سامنے پیش کردیں گے کہ لو سنبھالو' یہ رہا تمہارا چاند۔ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ یہ غیر سرکاری زونل کمیٹی رمضان اور عیدین کے علاوہ مرکزی کمیٹی کے فیصلے پر اعتراض نہیں کرتی۔ روزہ نہ ہونے پر اس کا اعلان اور رمضان ختم نہ ہونے پر عید کا فیصلہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ قوم تو اعلان کرنے والوں کے سامنے سر تسلیم خم کرنے پر مجبور ہے لیکن اس نوع کا فیصلہ صادر کرنے والوں کو تمام قوم کی ذمہ داری قبول کرکے اس عظیم ہستی کے سامنے جواب دہ ہونا ہوگا جو اس کائنات کے نظام کو ایک توازن کے ساتھ چلا رہی ہے۔ اس کے حکم کے بغیر اجرام فلکی کو سر مو انحراف کرنے کی ہمت اور اجازت نہیں۔ اخبارات میں کچھ دنوں سے یہ خبریں بھی آرہی تھیں کہ حکومت نے ایک ہی روز' روزہ اور عید منانے کے لئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی اور وفاقی وزیر برائے مذہبی امور کو ٹاسک دیا تھا جو بالیقین کامیاب نہ ہوسکا۔ روزہ توخیر ایک روز شروع نہ ہوسکا اور اب تمام ملک میں ایک ہی روز عید ہونے کا فیصلہ بھی مشکوک ہوگیا ہے۔ بہر حال حکومت کو عیدین اور رمضان کے موقعوں پر اپنی رٹ قائم کرنے کے لئے سنجیدگی سے سوچنا چاہئے ورنہ مجبور و مظلوم عوام ان مقدس ایام کے موقع پر ہمیشہ تذبذب میں مبتلا ہو کر یہ کہنے پر مجبور ہوگی' د چا اومنو۔