Daily Mashriq

رمضان میں بھی پختون خوا میں لوڈ شیڈنگ

رمضان میں بھی پختون خوا میں لوڈ شیڈنگ

آج کل میں اپنے آبائی گائوں صوابی میں ہوں ۔ یہاں پر چو بیس گھنٹے میں 12 سے لیکر 15 گھنٹے تک بجلی کی لو ڈ شیڈنگ عام معمول ہے۔ اگر حالات اور واقعات کا تجزیہ کیا جائے تو اس وقت ملک کے دوسرے صوبوں اور علاقوں کی طر ح خیبر پختون خوا میں بجلی لوڈ شیڈنگ کی لپیٹ میں ہے۔ جماعت اسلامی کے سربراہ سینیٹر سراج الحق اور ان کی پارٹی کے کراچی کے قائدین نے کئی دن تک سندھ اور بالخصوص کراچی میں بجلی لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہرے کئے۔ ابھی وزیر خزانہ اور وفاقی وزیر برائے بجلی نے اعلان کیا تھا کہ روزوں میں کوئی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی مگر خیبر پختون خوامیں ہفتے کے دن پہلے روزے کو 16 سے 18گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوئی۔ سرکاری اورغیر سرکاری ذرائع کے مطابق گزشتہ دو دنوں میں سندھ اور بالخصوص کراچی اور خیبر پختون خوا میں لو ڈ شیڈنگ کی وجہ سے کئی لوگ بے ہوش ہوئے ۔ ایسے ہزاروں بو ڑھے، بچے اور عورتیں ہیں جو بلا واسطہ بجلی لو ڈ شیڈنگ سے متا ثر ہو رہے ہیںیا دوسرے نفسیاتی امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ رمضان کا مہینہ جو رحمتوں اور بر کتوں کا مہینہ ہے ہمارے حکمرانوں نے عبادت گزاروں بچوں ، خواتین ،بزرگوں کے لئے ایک عذاب بنا یا ہوا ہے۔ اگر حالات اور واقعات کا تجزیہ کیا جائے تو میرے خیال میں اتنے بے حس حکمران دنیا میں کہیں نہیں ہو نگے جتنے پاکستانی حکمران ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس وطن عزیز کی بجلی کی کل ضرورت تقریباً 18 ہزار میگا واٹ ہے۔ جبکہ پر و ڈکشن تقریباً 11 ہزار میگا واٹ ہے اور اسی طر ح واپڈا کو7ہزار میگا واٹ کی لو ڈ شیڈنگ کرنا پڑتی ہے۔ واپڈا کے وفاقی وزیر مملکت عابد شیر علی کا کہنا ہے کہ وطن عزیز میں لوڈ سسٹم اتنا کمزور ہے کہ ان پر 16ہزار میگا واٹ کا بو جھ نہیں ڈالا جا سکتا۔ بقول عابد شیر علی اس پر 16 ہزار میگا واٹ ڈالا گیا تو اس سے سسٹم بالکل ختم ہو جائے گا۔جبکہ واپڈا کے وفاقی وزیر خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ لوگوں نے کُنڈے ڈالے ہیں جسکی وجہ سے لوڈ شیڈنگ کرنا پڑتی ہے۔وزیر مو صوف بتا دیں کہ کُنڈوں کو ختم کرنا اور بجلی لوڈ سسٹم کو ٹھیک کرنا کس کی ذمہ داری ہے۔مُجھے دونوں وزرا صاحبان بتا دیں کہ سوئی گیس کو نہ تو کسی نے کُنڈا ڈالا ہوا ہے اور نہ اسکا سسٹم اوور لوڈ ہے مگر سی این جی سٹیشن کو گیس کی فراہمی گزشتہ ١٠ ماہ سے بند کیوں ہے۔ جبکہ پی پی پی کے دور حکومت میں سی این جی سٹیشن ہفتے میں دو دن بند ہوا کرتے تھے۔ وزیر مملکت عابد شیر علی اور وفاقی وزیر بجلی خواجہ آصف اپنی نا اہلی کو چھپانے کی بجائے اپنی اصلا ح کریں اور لوگوں کو منفی پر پیگنڈے کے ذریعے گمراہ نہ کریں۔ اگر ہم بجلی فی کس استعمال کریں تو میرے خیال میں بجلی کا استعمال پاکستان میں جنوبی ایشیاء کے کسی بھی ملک میں سب سے کم ہے۔

مگر ہمارے حکمران اتنے بے حس اور خو د غرض ہیں کہ وہ اکیسویں صدی میں جب لوگ مریخ اور دوسرے ستاروں پر جانے اور ان پر بسنے کا سوچ رہے ہیں ہمارے نااہل حکمران 16سے 18ہزار میگا واٹ کا انتظام نہیں کر سکتے۔کبھی سندھ میں بھوک اور افلاس سے لوگ مرتے ہیں، کبھی جعلی اور دو نمبر ادویات سے اور اب بجلی لوڈ شیڈنگ سے لوگ مر رہے ہیں۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپو زیشن سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ممبران سے کراچی اور ملک کے دو سرے حصوں میں بجلی لو ڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہرہ کیا۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ پاکستان مسلم لیگ کے چار سال اقتدار میں رہنے کے با وجود بھی اب تک مسلم لیگ (ن) کے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ممبران اس لو ڈ شیڈنگ کا پاکستان پیپلز پا رٹی اور مشرف کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) گزشتہ 4 سا لوں سے اقتدار میں ہے اُنہوں نے ملک میں بجلی اور گیس لوڈ شیڈنگ کے لئے کیا کیا۔ دراصل بات وسائل کی نہیں نا اہلی ، خود غر ضی کی ہے۔ ریاست اور تجارت دوعلیحدہ چیزیں ہیں مگر بد قسمتی سے نواز شریف اور انکے تاجر دوست ریاست کو ریاست کے طور پر نہیں بلکہ کاروبار کے طو ر پر چلاتے ہیں۔ نواز شریف نے اقتدار سنبھالتے ہی اپنے تاجر دوستوں کو بجلی سر کلر ڈپٹ کی مد میں 500 ارب روپے دیئے ۔ حالانکہ سرکاری طو ر پر اسکی کوئی جانچ پڑتال اور آڈٹ نہیں کیا گیا کہ واقعی اتنی بجلی بنائی گئی تھی جتنا آئی پی پیز کو پیسے ادا کئے گئے۔مشرف کے دور میں پاکستان انر جی بک کے مطابق انسٹالڈ کیپیسٹی تقریباً 20 ہزار میگا واٹ تھی اور اب بھی انسٹالڈ کیپیسٹی اُس سے زیادہ ہے مگر نواز شریف کے تا جر دوست جنکے آئی پی پیز ہیں وہ اپنے سسٹم کو ملک کی ضروریات کے مطابق نہیں چلاتے جسکا نتیجہ یہ ہے کہ ملک میں مسلسل لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ جہاں تک ملک میں 40 فی صد بجلی چو ری کا تعلق ہے تو یہ بھی نواز شریف حکومت ، وزارت بجلی ، خواجہ آصف، عابد شیر علی کی ڈیوٹی ہے کہ وہ ملک میں بجلی چوری پر قابو پائیں ۔ واپڈا کے ایک اعلیٰ سرکاری اہل کار کے مطابق اس وقت جتنی بجلی چو ری ہو رہی ہے اُس میں ملک کے مالدار سرمایہ دار اور کا رخانہ دار شامل ہیں اور حکومت سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے اُن پر ہاتھ نہیں ڈالتی۔ ان سرمایہ داروں ، جاگیر داروں ، کا رخانہ داروں کے بل بھی پاکستان کے وہ غریب دیتے ہیں جو بجلی چو ری نہیں کرتے۔ میں حکومتی اور اپوزیشن کے تمام ممبران کو چاہیئے کہ وہ بجلی اور گیس چو ری کے لئے عمر قید یا جائیداد کی ضبطی کی قانون سازی کریں۔اس ملک کے حکمران خواان کا تعلق حکومتی پا رٹی سے ہو یا اپوزیشن سے وہ اس ملک کے غریبوں کی زندگیوں کے ساتھ مزید نہ کھیلیں اور انکا مذاق نہ اُڑائیں۔

اداریہ