Daily Mashriq


ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے

ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے

خواب دیکھنے پر کوئی پابندی تو ہے نہیں اس لئے ہمارے بعض سیاسی رہنمائوں کے خوابوں کی بھی بڑی دھوم ہے ۔ جیسا کہ منظور وسان اکثر اپنے خوابوں کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں۔ ایسے بھی سیاسی رہنما ہیں جو دن میں خواب دیکھنے کے عادی ہیں ۔ ایسے لوگوں کے سرخیل فرزند راولپنڈی شیخ رشید ہیں جو اکثردن میں دیکھے ہوئے اپنے خوابوں کی تعبیر بیان کرتے ہوئے ایسی پیشگوئیاں کرتے ہیں جو بعد میں اس بات کے ثبوت کے طور پر آسانی کے ساتھ پیش کی جاسکتی ہیں کہ موصوف نے جو پیشگوئی کی تھی وہ جاگتے میں دیکھے جانے والے خواب کی تعبیر ہی ہوسکتی تھی اس لئے ان پر تو مرزا غالب کا یہ مصرعہ بالکل فٹ بیٹھتا ہے کہ ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میںکبھی قربانی سے پہلے قربانی' کبھی نون یا قانون کا جنازہ نکلنے کی (خوابناک) پیشگوئی اور اب ایک بار پھر موصوف نے موجودہ حکومت کے لئے اگلے تین ماہ کی مدت کی حد مقرر کرتے ہوئے آج کل وہ لگ بھگ ہر چینل پر اسی قسم کے جملے ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس لئے قوم کو اگلے تین ماہ تک انتظار کی کٹھن گھڑیاں گزارنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ حالانکہ شیفتہ نے ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہا تھا

ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام

بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا

خیر جانے دیجئے واپس اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں یعنی خواب دیکھنا او ر اس کام میں اور بھی کئی لیڈران کرام خاصے تاک ہیں مثلاً گزشتہ کچھ عرصے سے عمران خان' آصف علی زرداری اور لیگی قیادت بھی لگ بھگ ایک ہی طرح کے خواب دیکھ رہی ہے۔ کچھ عرصے سے ان کے بیانات کو غور سے دیکھیں تو ان تینوں جماعتوں یعنی پی پی پی' تحریک انصاف اور نون لیگ کے رہنما ایک جیسے خواب دیکھ رہے ہیں اور وہ یہ ہے کہ الیکشن میں کلین سویپ کرکے پورے ملک میں حکومت بنانے کا خواب' اس ضمن میں اگرچہ جماعت اسلامی بھی خود کو پانچوں سواروں میں سمجھنے کے دعوے کرکے اسی طرح کے دعوے کردیتی ہے حالانکہ جماعت کے رہنمائوں کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ عوامی سطح پر ان کی اس قدر پذیرائی ممکنات میں سے اگلے کم از کم ایک سو برس تک نہیں ہوسکتی مگر دعویٰ کرنے میں حرج ہی کیا ہے جبکہ اے این پی اور ایم کیو ایم کے خواب ادھورے ہی رہتے ہیں۔ رہ گئے تینوں بڑی جماعتوں کے الیکشن میں کلین سویپ کرنے اور پورے ملک میں حکومت بنانے کے خواب تو موجودہ حالات اس جانب اشارہ کرتے دکھائی نہیں دیتے۔ اگرچہ میاں نواز شریف اور شہباز شریف پنجاب میں خاصے سر گرم ہیں اور منصوبوں پہ منصوبے شروع کر رہے ہیں یا ا فتتاحی تقاریب میں شرکت کر رہے ہیں لیکن ایک تو جنوبی پنجاب میں محرومی کی صورتحال بہ مقابلہ وسطی پنجاب صورتحال ان کے مخالف سمت میں جا رہی ہے دوسرے یہ کہ پانامہ کے مسئلے نے شریف خاندان کی ساکھ کو بہت زیادہ متاثر کردی ہے اور مخالفین کے پروپیگنڈے کی وجہ سے ان کی حالت پتلی ہوتی جا رہی ہے۔

اس لئے کلین سویپ کے نون لیگی امکانات کم ہی دکھائی دے رہے ہیں۔ ادھر خیبر پختونخوا میں بھی لیگ نون کی پوزیشن کچھ خاص دکھائی نہیں دیتی اس لئے اگلے انتخابات میں لیگ کے واحد جماعت کے طور پر بر سر اقتدار آنے کے چانسز زیادہ روشن دکھائی نہیں دیتے۔ پیپلز پارٹی اگرچہ پنجاب میں اپنی پوزیشن بہتر بنانے کی تگ و دو ضرور کر رہی ہے مگر امکانات مثبت اشارے نہیں دے رہے اور عین ممکن ہے کہ وہ حسب سابق صرف سندھ تک ہی محدود ہو کر رہ جائے۔ خیبر پختونخوا میں بھی پی پی کے چانسز زیادہ بہتر دکھائی نہیں دیتے البتہ صوبائی سطح پر چند نشستیں جیت کر وہ صوبے میں کچھ کارکردگی دکھا سکے۔ رہ گئی تحریک تو اب کی بار پنجاب میں اس کی کارکردگی بہتر ہونے کی نشاندہی ضرور کر رہی ہے لیکن کلین سویپ کے چانسز پھر بھی دکھائی نہیں دیتے۔ البتہ خیبر پختونخوا میں اسے اتنی نشستیں ملنے کے چانسز ضرور دکھائی دیتے ہیں کہ وہ ایک بار پھر دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر اقتدار میں آجائے۔ تاہم وفاق میں اگلے انتخابات میں کسی بھی جماعت کے کلین سویپ کے امکانات دکھائی نہیں دیتے اور اس بات کا سارا دار و مدار پانامہ کے مسئلے پر کیس کے حتمی فیصلے پر ہوگا یعنی اگر شریف فیملی اس کیس سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئی تو وہ اگلے انتخابات میں سرخرو جبکہ تحریک انصاف ٹھس ہو کر رہ جائے گی۔ اور اگر شریف فیملی کے خلاف فیصلہ آگیا تو تحریک انصاف کو پنجاب میں زیادہ پذیرائی مل سکتی ہے۔ اس میں ایک اہم نکتہ اور بھی ہے اور وہ یہ کہ اگر موجودہ حکومت اپنا وقت پورا کرنے میں کامیاب ہوگئی تو آئندہ مارچ میں سینٹ کے انتخابات میں لیگ (ن) پاکستان پیپلز پارٹی کو اس اکثریت سے محروم کر دے گی جو اس وقت پیپلز پارٹی کو سینیٹ میں حاصل ہے اور سینٹ میں اکثریتی جماعت ہونے کے ناتے اگر نون لیگ عام انتخابات میں اقتدار سے محروم بھی ہو جاتی ہے تب بھی وہ بر سر اقتدار آنے والی کسی بھی دوسری جماعت کو ناکوں چنے چبوانے کی پوزیشن میں آجائے گی۔ بہر حال جو خواب دیکھے جارہے ہیں ان کی تعبیر پانامہ لیکس کے کیس کے فیصلے کے بعد ہی معلوم ہوسکتی ہے۔ اس صورتحال پر سید امام علی صاحبقراں کا شعر درست منطبق ہوتا ہے کہ

ہنس کے بولی کہ دیکھ لو صاحب

ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے

متعلقہ خبریں