Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

سلطان محمد تغلق (متوفی 752ھ) ہندوستان کا مشہور بادشاہ ہے جو ہندوستان کی تاریخ میں اپنی سطوت اور خون ریزی کے حوالے سے بہت مشہور ہے۔ ایک مرتبہ وہ صوفی بزرگ حضرت شیخ قطب الدین منور کی رہائش گاہ کے قریب سے گزرا۔ حضرت قطب صاحب اپنی جگہ بیٹھے رہے اور اس کے استقبال کے لئے باہر نہیں نکلے۔ سلطان کو یہ بات بہت ناگوار گزری اور اس نے باز پرس کے لئے حضرت قطب صاحب کو اپنے دربار میں طلب کرلیا۔ حضرت دربار میں داخل ہوئے تو ملک کے تمام بڑے بڑے امراء ' وزراء اور فوجی افسر بادشاہ کے سامنے مسلح ہو کر دو رویہ کھڑے تھے۔ قطب صاحب کے ساتھ ان کے نو عمر صاحبزادے نور الدین بھی تھے انہوں نے اس سے قبل کبھی بادشاہ کا دربار نہیں دیکھا تھا' ان پر یہ پر ہیبت منظر دیکھ کر رعب طاری ہوگیا۔ حضرت قطب صاحب نے بیٹے کو مرعوب دیکھا تو زور سے پکار کر کہا۔''عظمت تمام تر خدا کے لئے ہے۔''حضرت نور الدین فرماتے ہیں کہ جونہی اپنے والد کی یہ آواز میرے کانوں میں پڑی میں نے اپنے اندر ایک عجیب و غریب قوت محسوس کی' میرے دل سے دربا کی ساری ہیبت زائل ہو کر رہ گئی اور تمام حاضرین مجھے ایسے معلوم ہونے لگے جیسے وہ بھیڑ بکریوں کا کوئی ریوڑ ہو۔

(الارکان الاربعہ' للاستاذ ابی الحسن علی الندوی ص 73 بحوالہ الاولیاء ص 353 تا355)

احمد ابن طولون سے متعلق علامہ ابن کثیر نے ایک عجیب واقعہ نقل فرمایا ہے۔ تیسری صدی ہجری میں مصر میں چار محدثین بہت مشہور ہوئے۔ چاروں کا نام محمد تھا اور چاروں علم حدیث کے جلیل القدر آئمہ میں شمار ہوئے۔ ان میں سے ایک محمد بن نصر مروزی ہیں۔ دوسرے محمد بن جریر طبری' تیسرے محمد بن المنذر اور چوتھے محمد بن اسحاق بن خزیمہ۔یہ چاروں حضرات مشترک طور سے حدیث کی خدمت میں مشغول تھے۔ایک دن چاروں ایک گھر میں جمع ہو کر احادیث لکھنے میں مشغول تھے۔ کھانے کو کچھ نہیں تھا' بالآخر طے پایا کہ چاروں میں سے ایک صاحب طلب معاش کے لئے باہر نکلیں گے تاکہ غذا کا انتظام ہوسکے۔ قرعہ ڈالا گیا تو حضرت محمد بن نصر مروزی کے نام نکلا' انہوں نے طلب معاش کے لئے نکلنے سے پہلے نماز پڑھنی اور دعا کرنی شروع کردی۔ یہ ٹھیک دوپہر کا وقت تھا اور مصر کے حکمران احمد ابن طولون اپنی قیام گاہ میں آرام کر رہے تھے۔ ان کو سوتے ہوئے خواب میں سرکار دو عالمۖ کی زیارت ہوئی۔ آپۖ فرما رہے تھے کہ : '' محدثین کی خبر لو' ان کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے۔'' ابن طولون بیدار ہوئے تو لوگوں سے تحقیق کی کہ اس شہر میں محدثین کون کون ہیں؟ لوگوں نے ان حضرات کا پتہ دیا۔ احمد ابن طولون نے اسی وقت ان کے پاس ایک ہزار دینار بھجوائے اور جس گھر میں وہ خدمت حدیث میں مشغول تھے اسے خرید کر وہاں ایک مسجد بنوا دی اور اسے علم حدیث کا مرکز بنا کر اس پر بڑی جائیدادیں وقف کردیں۔ (البدایہ والنہایہ ص 103 ج11)

متعلقہ خبریں