Daily Mashriq


قومی کرکٹرز نے پی سی بی لیول 2 کوچنگ کورس کو مفید قرار دے دیا

قومی کرکٹرز نے پی سی بی لیول 2 کوچنگ کورس کو مفید قرار دے دیا

لاہور: پی سی بی کے لیول 2 کوچنگ کورس میں شریک قومی کرکٹرز نے نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں ہونے والے 4 روزہ کوچنگ کورس کو بہت مفید قرار دیا ہے۔

پی سی بی کے لیول 2 کوچنگ کورس میں سابق کپتان مصباح الحق، سعید اجمل، باسط علی،عمر گل، سلمان بٹ، احمد شہزاد، عبدالرحمان، اعزاز چیمہ، ہمایوں فرحت، بلال آصف، احسان عادل، قیصر عباس، عمید آصف، ذوالفقار بابر اور عدنان اکمل نے شرکت کی۔

سابق کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کورسز سے ہمیں دوسروں کو سکھانے کے لیے بہت سی نئی باتوں کا علم ہواہے، کھیلنا اور کوچنگ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں،انسان خود تو سمجھ سکتاہے کہ کیا غلط ہورہا ہے لیکن سب سے اہم ٹاسک یہ ہوتا ہے کہ دوسروں کو اس چیز کو کیسے سمجھایا جائے۔ کوشش ہوگی کہ اس کورس سے جو کچھ سیکھا اس کو بروے کار لاکر کوچنگ میں بھی کچھ کرسکوں۔

سلمان بٹ نے کہا کہ ایک بہت ہی اچھا تجربہ ہے، اب احساس ہواہے کہ کوچزہمیں سکھانے کے لیے کتنی محنت کرتےہیں، کوچنگ آسان جاب نہیں، خود تو کرکٹ کھیل لی، اب دوسرے کو سکھانا ہے کہ کرکٹ کیسے بہتر طریقے سے کھیلی جاتی ہے۔

باسط علی کا موقف تھا کہ کوچنگ کورسز کی بہت اہمیت ہے، کورسز میں شرکت سے بہت سی نئی باتوں کا پتہ چلتا ہے۔سیکھنے او رسیکھانے کا عمل زندگی کے ساتھ چلتا رہتا ہے۔

سعید اجمل نے اعتراف کیا کہ کوچنگ کی جو تکنیک یہاں سکھائی جارہی ہیں، ان کا پہلے سے بالکل علم نہیں تھا، یہ ایک نئی فیلڈ ہے جس میں آگے چل کر بہت کچھ سیکھنا پڑے گا۔

احمد شہزاد کی رائے میں انگلینڈ اور آسٹریلیا میں ایسے کورسز عام ہیں، پاکستان میں ایسے کورسز کی تعداد کو بڑھانے کی ضرورت ہے اور کرکٹرز کو یہ آگاہی دینا بھی ہوگی کہ ان کورسز کا حصہ بننا کیوں مفید ہے۔

عمر گل نے کہا کہ اب ہم کچھ حد تک اس قابل ہوگئے ہیں کہ دوسرے کھلاڑیوں کویہ سکھا سکتے ہیں کہ ان کے کھیل میں کیا خامی ہے اور اسے کیسے دور کیا جاسکتا ہے۔

عدنان اکمل کےمطابق کرکٹ کیرئر کے ساتھ کوچنگ کورس کا تجربہ بہت زبردست رہا۔ ایسے کوچنگ کورس سے کھلاڑیوں کو اپنی مشکلات پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔

متعلقہ خبریں