Daily Mashriq

شمالی وزیرستان حالات بارے قومی اسمبلی میں لاحاصل بحث

شمالی وزیرستان حالات بارے قومی اسمبلی میں لاحاصل بحث

شمالی وزیرستان واقعے پر اپوزیشن اور حکومت کے درمیان قومی مفاد میں کم ازکم اتنی ہم آہنگی اور برداشت کی ضرورت تھی کہ ایوان کا ماحول مکدر کر کے اور بغیر کسی نتیجہ خیز مشاورت کے بائیکاٹ کی نوبت ہی نہ آتی۔ یہ موقع مصلحت اور مفاہمت کا تھا لیکن بدقسمتی سے اسے بھی الزام تراشی کی نذر کر دیا گیا بجائے اس کے کہ حکومتی اراکین اور ناطق ہم آہنگی کی فضا پیدا کرنے کی ذمہ داری نبھانے میں پہل کرتے جھگڑالو ساس بہو کا روایتی کردار دہرایا گیا جسے عاقبت نااندیشی ہی قرار دیا جائے گا۔ قومی اسمبلی میں نکتۂ اعتراض پر بات کرتے ہوئے مسلم لیگ(ن) کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے کہا کہ ہمارے لئے یہ المیہ ہے کہ سرحدپار ایسے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جو ہمارے دشمنوں کے آلۂ کار ہیں، فالٹ لائنز کو درست نہ کیا تو پاکستان کی سلامتی کو خطرہ ہے۔ مسلم لیگ(ن) کے رہنما کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کی جنگ میں فاٹا سب سے زیادہ متاثر ہوا، ہم نے اپنی پراکسی وارز کیلئے ان کا رسم ورواج اور تشخص تباہ کر دیا، ہماری ذمہ داری ہے فاٹا کو قومی دھارے میں لائیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ فاٹا کو جنگ میں دھکیلنے کا خمیازہ پتہ نہیں کتنی نسلیں بھگتیں گی، فاٹا کے عوام سے سیاسی طریقے سے بات چیت کرنی چاہئے، کل جو واقعہ ہوا ہے اس کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا کیونکہ ہماری دھرتی پر خون کسی کا بھی گرے وہ انتہائی افسوسناک ہے، بلوچستان اور فاٹا کے معاملات سیاسی طور پر حل کئے جائیں، وزیراعظم کا اس سلسلے میں بیان اب ناگزیر ہے۔ رہنما مسلم لیگ(ن) کی تقریر پر وفاقی وزیر مراد سعید کیلئے ایوان کا ماحول خراب کرنے اور الزام تراشی مناسب نہ تھی اگر ان کے علاوہ اور کوئی بھی اس کا جواب دیتا تو ایوان میں الزام تراشی اور کشیدگی کی نوبت نہ آتی۔ تحریک انصاف کو بطور حکمران جماعت زیادہ برداشت، تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے اور یہی حکومت اور ملک وقوم کا مفاد بھی ہے۔ اس سے قطع نظر کہ وفاقی وزیر نے ایوان میں جو انکشافات کئے وہ چشم کشا ہیں، وفاقی وزیر مملکت برائے مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ ویڈیوز موجود ہیں کہ کل شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر حملہ کیسے کیا گیا۔ مراد سعید نے کہا کہ پارلیمنٹ کے رکن نے لوگوں کو اشتعال دلایا، دھرنا ختم ہونے جارہا تھا، مظاہرین کو فون کیا گیا کہ دھرنا ختم نہیں کرنا۔ ان کا کہنا تھا کہ رکن قومی اسمبلی نے فون کرکے چوکی پر حملہ کرنے کا کہا، محسن داوڑ ماضی میں ڈرون حملوں کی حمایت کرتا رہا۔ طاہر داوڑ کی شہادت کے بعد امتیاز وزیر نے کیوں کہا کہ وہ ڈیڈباڈی محسن داوڑ کو دے گا، کس طرح آپ قومیت کا نعرہ لگا کر اپنے اداروں پر حملہ آور ہوسکتے ہیں۔ ایوان کا اس نازک معاملے پر اتفاق رائے سے لائحہ عمل طے کرنے میں ناکامی حکومت کی ناکامی ہے جس کی ان حالات میں گنجائش نہیں۔ حزب اختلاف کو بھی غصہ ناک پر رکھنے اور بات بات پر روٹھنے کا کردار ادا کرنے کی بجائے اس سنگین مسئلے کے حل کیلئے اپنی تجاویز پیش کرتے ہوئے تعاون کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا۔ قوم کو اس مسئلے کے حل کیلئے پارلیمانی کمیشن کی تشکیل اور مفاہمانہ کردار کی توقع ہے چونکہ اس واقعے کے دونوں مرکزی کردار منتخب نمائندے ہیں اور فوج ہمارا قومی ادارہ ہے، اس تناظر میں پارلیمنٹ کا کردار اور بھی ضروری اور اہمیت کا حامل ہے لیکن افسوس کہ قومی اسمبلی کا اجلاس الزام تراشی اور بائیکاٹ سے آگے نہ بڑھ سکا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس ساری صورتحال میں سب سے زیادہ متاثرہ فریق وزیرستان کے عوام ہیں جو ایک عرصے تک دہشتگردوں اور طالبان کے دباؤ میں رہی، پھر آپریشن شروع ہونے پر نقل مکانی کی صعوبتیں برداشت کیں، خدا خدا کرکے امن قائم اور قبائلی اضلاع کا صوبے میں انضمام اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا شیڈول طے ہوا تو ایک مرتبہ پھر عوام کے جذبات سے کھیلنے والے عناصر کی چپقلش میں آگئے۔ ایک عام قبائلی کی مشکلات اور سوچ کیا ہے اس سے کسی کو سروکار نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس ضمن مین وزیردفاع نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ لفظوں کی حد تک نہیں رہنا چاہئے بلکہ حکومت کو جلد سے جلد ان دعوؤں کو عملی شکل دینے کی ضرورت ہے۔ وزیردفاع نے کہا کہ آپریشنز کے دوران قبائلی اضلاع میں ہمارے قبائلی بھائیوں نے بہت سی تکالیف کا سامنا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان اور آرمی چیف دونوں اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ ریاست ماں ہوتی ہے اور ہمیں اپنے عوام بالخصوص قبائلیوں کی مشکلات کا احساس ہے، ان کے تمام جائز مطالبات آئین وقانون کے اندر رہتے ہوئے پورے کئے جا رہے ہیں اور حکومت اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھے گی جب تک ان کی مکمل سماجی اور معاشرتی بحالی نہیں ہو جاتی۔ کس کا دعویٰ کس حد تک درست ہے اس سے قطع نظر جاری صورتحال میں ہوش مندی کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو کشیدگی میں اضافہ فطری امر ہوگا۔ اس صورتحال سے ریاست اور قبائلی اضلاع کے عوام کے درمیان کشیدگی جنم لے سکتی ہے۔ اس معاملے کا حل نکالنے کی مفاہمانہ فضا میں سعی ہونی چاہئے، بہتر ہوگا کہ فوری طور پر ایک پارلیمانی کمیشن قائم کیا جائے جو معاملے کی تحقیقات کر کے حقائق سامنے لائے۔ قبائلی اضلاع کی مقامی آبادی کے مسائل اور مطالبات پورے کرنے کیلئے سنجیدہ کوشش ہونی چاہئے اور یہ کہ ذرائع ابلاغ اور سول سوسائٹی کو قبائلی اضلاع تک آزادانہ رسائی دی جانی چاہئے۔ کرفیو کا خاتمہ ہونا چاہئے اور کوشش ہونی چاہئے کہ حالات جلد سے جلد معمول پر آجائیں۔

متعلقہ خبریں